بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 136 hadith
محمد (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ (سعید) بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں خبر دی کہ (عبیداللہ) بن ابی جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن عبدالرحمن سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ فرماتے تھے کہ فرشتے آسمان کی بلندی میں اترتے ہیں۔ (راوی کے نزدیک لفظ) عنان بمعنی بادل ہے اور اس حکم کا ذکر کرتے ہیں جس کا فیصلہ آسمان میں ہو چکا ہوتا ہے اور شیطان چپکے سے کان لگا کر سن لیتے ہیں اور وہ اس بات کو کاہنوں تک پہنچا دیتے ہیں اور پھر وہ اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو جھوٹی باتیں ملا کر جھوٹ بولتے ہیں۔
احمد بن یونس نے ہمیں بتایا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوسلمہ اور (سلمان) اَغر سے، ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو لکھتے ہیں انہیں جو پہلے آنے والے ہیں۔ جب امام بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ لیتے ہیں اور ذکر و نصیحت سنتے ہیں۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا (انہوں نے کہا:) زُہری نے ہمیں بتایا انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی انہوں نے کہا: حضرت عمرؓ مسجد میں سے گزرے اور حضرت حسانؓ (بن ثابت) وہاں شعر پڑھ رہے تھے اور انہوں نے کہا: میں اس (مسجد) میں اس وقت شعر پڑھا کرتا تھا جبکہ اس (مسجد) میں آپؓ سے بہتر شخص (یعنی آنحضر ت ﷺ) تشریف رکھتے تھے پھر حضرت حسانؓ حضرت ابو ہریرہؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ کہتے سنا: میری طرف سے جواب دو اے اللہ! اس کی روح القدس سے مدد فرما حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا: ہاں
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عدی بن ثابت سے، عدی نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے حسانؓ سے فرمایا: ان (مشرکوں) کی ہجو کرو یا یہ فرمایا کہ ان کی ہجو کا جواب دو اور جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ اور اسحاق (بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) وہب بن جریر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حُمَید بن ہلال سے سنا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حضرت انسؓ نے کہا: گویا کہ میں بنی غنم کی گلی میں اُٹھتے ہوئے غبار کو اَب بھی دیکھ رہا ہوں۔ موسیٰ نے اس روایت میں اتنا زائد کیا کہ جبرائیل کی سواری سے۔
ہم سے فروہ (بن ابی مغرائ) نے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حارث بن ہشام نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ آپؐ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: کئی طرح سے آتی ہے۔ کبھی تو فرشتہ ایسی آواز سے آتا ہے جیسے گھنٹی کی جھنکار اور وہ ایسی حالت میں مجھ سے الگ ہوتا ہے کہ جو اس نے کہا ہوتا ہے، مجھے یاد ہو چکا ہوتا ہے اور یہ وحی مجھ پر بہت ہی سخت ہوتی ہے اور کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں میرے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے اور مجھ سے باتیں کرتا ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے ذہن نشین کئے جاتا ہوں۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ بن ابی کثیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جس نے اللہ کی راہ میں (کسی چیز کا) ایک جوڑا دیا تو جنت کے داروغے اسے بلائیں گے اور کہیں گے: فلاں تم ادھر آئو۔ (یہ سن کر) حضرت ابوبکر ؓ نے کہا: وہ وُہ شخص ہے جسے کوئی نقصان نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: میں امید کرتا ہوں کہ تم انہی لوگوں میں سے ہوگے۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا۔ ہشام نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: عائشہ یہ جبریل ہیں، تمہیں سلامتی کی دعا دیتے ہیں۔ میں نے (جواب میں) کہا: اور ان پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکت ہو۔ آپؐ دیکھ رہے ہیں جو میں نہیں دیکھ رہی۔ اس سے ان کی مراد نبی ﷺ سے تھی۔
ابو نعیم نے ہمیں بتایا کہ عمر بن ذرّ نے ہم سے بیان کیا۔ (دوسری سند) کہا: اور یحییٰ بن جعفر نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمر بن ذرّ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے جبریل سے فرمایا: آپ ہم سے جو ملنے آتے ہیں تو اس سے زیادہ ہمیں کیوں نہیں آ کر ملتے؟ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: اس پر یہ آیت نازل ہوئی: اور ہم نہیں اترتے مگر تیرے رب ہی کے حکم سے، سب اسی کا ہے جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہونے والا ہے۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مجھے سلیمان (بن بلال) نے بتایا انہوں نے یونس (بن یزید) سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل نے مجھے قرآنِ مجید ایک محاورہ پر پڑھایا میں ان سے دوسرے محاورہ پر پڑھانے کے لئے کہتا رہا یہاں تک کہ سات محاوروں تک نوبت پہنچی