بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 24 hadith
ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ ثابت بن یزید نے ہمیں بتایا۔ عاصم ابو عبدالرحمن احول نے ہم سے بیان کیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: مدینہ حرم ہے۔ یہاں سے لے کر وہاں تک اس کا درخت نہ کاٹا جائے اور نہ اس میں کوئی بدعت کی جائے۔ جس نے اس میں کوئی بدعت کی؛ اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو۔
ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو تیاح سے، انہوں نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ مدینہ میں آئے اور مسجد بنانے کا حکم دیا اور فرمایا: بنی نجار! مجھ سے (اس جگہ کی) قیمت ٹھہرا لو۔ تو انہوں نے کہا: ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے؛ مگر اللہ تعالیٰ سے۔ تو آپؐ نے مشرکوں کی قبروں کی نسبت فرمایا اور وہ کھود کر ہڈیاں وغیرہ نکالی گئیں۔ پھر کھنڈرات کی نسبت فرمایا جو برابر کئے گئے اور کھجور کے درختوں سے متعلق فرمایا جو کاٹے گئے اور مسجد کی آخری حد میں ان کھجوروں کے تنے ترتیب سے رکھ لئے گئے۔
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے بھائی (عبدالحمید) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان (بن بلال) سے، سلیمان نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مدینہ کے دو پتھریلے میدانوں میں جو جگہ ہے وہ میری زبان سے حرم ٹھہرائی گئی ہے اور حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: نبی ﷺ بنوحارثہ کے پاس آئے اور آپؐ نے فرمایا: بنی حارثہ! میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم حرم سے باہر ہوگئے۔ پھر آپؐ نے مڑ کر دیکھا تو فرمایا: تم اس کے اندر ہی ہو۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمن نے ہمیں بتایا۔ سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے اپنے باپ (یزید بن شریک) سے، ان کے باپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس کاغذ کے سوا کچھ نہیں؛ جس میں نبیﷺ کا یہ ارشاد بھی ہے کہ مدینہ حرم ہے، عائر پہاڑ سے لے کر یہاں تک۔ جس نے اس حرم میں کوئی رخنہ پیدا کیا یا رخنہ پیدا کرنے والے کو پناہ دی؛ اس پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اس کی نہ شفاعت قبول کی جائے گی اور نہ فدیہ اور یہ بھی فرمایا: مسلمانوں کی ذمہ داری ایک ہی ہے۔ پس جس نے مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی کی اور ذمہ داری کو پورا نہ کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اس سے نہ نقد معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ کوئی حرجانہ اور جس نے کسی قوم سے عہدِ دوستی کیا؛ بغیر اپنے موالی (یعنی ہم عہد لوگوں) کی اجازت کے تو اس پر بھی اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اس کی نہ شفاعت قبول کی جائے گی نہ فدیہ۔ ابو عبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: لفظ عَدْلٌ سے مراد فدیہ ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی کہ یحيٰ بن سعید سے مروی ہے، کہا: میں نے ابوالحباب سعید بن یسار سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے ایسی بستی (میں جانے) کا حکم ہوا جو دوسری بستیوں کو کھا جائے گی۔ اسے یثرب کہتے ہیں اور وہی (بستی) مدینہ ہے۔ جو (برے) لوگوں کو (ردی کی طرح) نکال دے گی؛ جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔
(تشریح)خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان نے ہمیں بتایا، کہا: عمرو بن یحيٰ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے عباس بن سہل بن سعد سے، انہوں نے حضرت ابو حمید (ساعدی) رضی اللہ عنہ سے روایت کی (انہوں نے کہا) کہ نبی ﷺ کے ساتھ ہم تبوک سے آئے۔ یہاں تک کہ مدینہ کے قریب اونچائی پر پہنچے تو آپؐ نے فرمایا: یہ طابہ (مقام) ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ کہا کرتے تھے: اگر مدینہ میں مَیں ہرن چرتے دیکھوں تو میں انہیں خوف زدہ نہ کروں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ کے دو پتھریلے میدانوں کے درمیان (کی جگہ) حرم ہے۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے ہمیں خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: لوگ مدینہ کو نہایت اچھی حالت میں چھوڑیں گے۔ پھر یہ حالت ہوگی کہ وہاں وحشی جانور آیا جایا کریں گے۔ اس سے آپؐ کی یہ مراد تھی کہ وحشی درند و پرند۔ اور آخر میں جنہیں لایا جائے گا وہ مزینہ (قبیلہ) کے دو چرواہے ہوں گے۔ مدینہ کا قصد کریں گے۔ اپنی بکریاں ہانک کر لائیں گے تو اسے ویران پائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ دونوں ثنیۃ الوداع کے پاس پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے، حضرت ابن زبیرؓ نے حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: یمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنے اونٹ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور انہیں جنہوں نے ان کی اطاعت کی؛ سوار کرکے لے جائیں گے۔ حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا؛ اگر وہ جانتے ہوں اور شام فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنے اونٹ ہانکتے ہوئے آئیں گے۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کو اور ان کو جنہوں نے اُن کی اطاعت کی؛ سوار کر کے لے جائیں گے۔ حالانکہ مدینہ اُن کے لیے بہتر ہوگا؛ اگر وہ جانتے ہوں۔ اور عراق فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنے اونٹ ہانکتے ہوئے آئیں گے۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کو اور ان کو جو اُن کی اطاعت کریں گے؛ سوار کرکے لے جائیں گے۔ حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا؛ اگر وہ جانتے ہوں۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا، کہا: عبیداللہ (عمری) نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے خُبَیب بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایمان سمٹ کر مدینہ کی طرف اسی طرح آجائے گا جس طرح سانپ اپنی بل میں سمٹ کر آتا ہے۔
(تشریح)