بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 46 hadith
معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حدیبیہ کے سال میرے باپ چل پڑے تو ان کے ساتھیوں نے احرام باندھے مگر انہوں نے نہیں باندھا اور نبی ﷺ کو بتایا گیا کہ ایک دشمن آپؐ پر دھاوا بولے گا تو نبی ﷺ روانہ ہوگئے۔ (حضرت ابوقتادہؓ کہتے ہیں:) اسی اثناء میں کہ میں آپؐ کے ساتھیوں کے ساتھ تھا۔ ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کررہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ ایک گورخر ہے تو میں نے اس پر حملہ کیا اور اسے برچھی سے زخمی کردیا اور اپنی جگہ پر ٹھہرا دیا اور میں نے ان سے مدد چاہی؛ مگر انہوں نے مجھے مدد دینے سے انکار کر دیا۔ سو ہم نے اس کے گوشت سے کھایا اور ہم ڈرے کہ کہیں (رسول اللہ ﷺ سے) الگ نہ ہوجائیں تو میں نے نبی ﷺ کی تلاش کی۔ اپنا گھوڑا کچھ فاصلہ تک تیز چلایا اور کچھ فاصلہ تک معمولی رفتار سے۔ میں آدھی رات کو ایک غفاری شخص سے ملا اور پوچھا کہ نبی ﷺ کو کہاں چھوڑا ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپؐ کو تعہن میں چھوڑا ہے اور وہ سقیا میں قیلولہ کریں گے تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ کے ساتھی آپؐ کو سلامتی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی دعا دیتے ہیں۔ وہ ڈر گئے تھے کہ کہیں آپؐ سے الگ نہ ہوجائیں اور آپؐ ان کا انتظار فرمائیں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے گورخر شکار کیا اور میرے پاس بچا ہوا گوشت ہے۔ آپؐ نے لوگوں سے کہا: کھائو۔ بحالیکہ وہ بحالت احرام تھے۔
(تشریح)سعید بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مبارک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ سے، یحيٰ نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت کی کہ ان کے باپ نے ان سے بیان کیا، کہا: نبی ﷺ کے ساتھ حدیبیہ کے سال ہم چل پڑے تو آپؐ کے ساتھیوں نے احرام باندھے اور میں نے احرام نہیں باندھا۔ پھر ہمیں خبر دی گئی کہ غیق میں ایک دشمن ہے تو ہم ان کی طرف گئے۔ میرے ساتھیوں نے ایک گورخر دیکھا۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔ میں نے جو نظر کی تو میں نے اسے دیکھ لیا۔ میں نے گھوڑے پر سوار ہو کر اس پر حملہ کر دیا۔ میں نے اس کو برچھا مارا اور اسے وہیں ٹھہرا دیا۔ پھر میں نے ان سے مدد مانگی تو انہوں نے مجھے مدد دینے سے انکار کر دیا۔ پھر ہم نے اسے کھایا اور اس کے بعد میں رسول اللہ ﷺ سے جا ملا اور ہم ڈرے کہ کہیں (آپؐ سے) الگ نہ ہو جائیں۔ کچھ فاصلہ مَیں اپنا گھوڑا تیز چلاتا اور کچھ فاصلہ معمولی چال چلتا کہ آدھی رات کو بنی غفار کے ایک شخص سے ملا اور اس سے کہا: رسول اللہ ﷺ کو کہاں تم نے چھوڑا ہے تو اس نے کہا: تعہن میں مَیں نے آپؐ کو چھوڑا ہے اور آپؐ سُقیا میں قیلولہ کریں گے۔ میں رسول اللہ ﷺ سے جا ملا۔ یہاں تک کہ آپؐ کے پاس آیا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ کے ساتھیوں نے کہلا بھیجا ہے۔ وہ آپؐ کو سلامتی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتوں کی دعا دیتے ہیں اور وہ ڈر گئے کہ کہیں دشمن آپؐ سے ان کو الگ نہ کر دے۔ آپؐ ان کا انتظار فرمائیں۔ تو آپؐ نے ایسا ہی کیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے گورخر کا شکار کیا ہے اور ہمارے پاس کچھ گوشت بچا ہوا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: کھائو۔ حالانکہ وہ بحالت احرام تھے۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ صالح بن کیسان نے ہم سے بیان کیا۔ ابوقتادہ کے آزاد کردہ غلام نافع ابومحمد سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: ہم مدینہ سے تین منزل پر مقامِ قاحہ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ اور علی بن عبد اللہ نے بھی ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ صالح بن کیسان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابومحمد سے، ابومحمد نے حضرت ابوقتادہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے ساتھ مقامِ قاحہ میں تھے اور ہم میں سے کوئی محرم تھا اور کوئی غیر محرم۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ کوئی چیز ایک دوسرے کو دکھا رہے ہیں۔ میں نے جو نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گورخر ہے۔ … ان کا کوڑا گر گیا تو ساتھیوں نے کہا: ہم کسی چیز سے بھی اس گورخر کے خلاف آپؓ کی مدد نہیں کریں گے۔ کیونکہ ہم حالت احرام میں ہیں۔ (حضرت ابوقتادہؓ نے کہا:) میں نے خود ہی ہاتھ بڑھا کر لے لیا۔ پھر اس گورخر کے پاس ایک ٹیلے کے پیچھے سے آیا اور اس کو زخمی کردیا اور اپنے ساتھیوں کے پاس لے آیا تو ان میں سے بعض نے کہا: کھائو۔ بعض نے کہا: نہ کھائو۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ ہمارے آگے تھے۔ میں نے آپؐ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: اسے کھائو۔ وہ حلال ہے۔ عمرو (بن دینار) نے ہم سے کہا صالح کے پاس جاؤ اور ان سے اس کی اور دوسری باتوں کی بابت پوچھو اور وہ ان دنوں ہمارے پاس آتے جاتے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ عثمان جو موہب کے بیٹے ہیں ؛ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ بن ابی قتادہ نے مجھے خبر دی کہ ان کے باپ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ حج کے ارادے سے نکلے۔ لوگ بھی آپؐ کے ساتھ نکلے تو آپؐ نے ان میں سے کچھ لوگ ایک طرف بھیجے۔ جن میں حضرت ابوقتادہؓ بھی تھے اور فرمایا کہ سمندر کے کنارے کا راستہ لو۔ یہاں تک کہ ہم آپس میں مل جائیں تو انہوں نے سمندر کا کنارہ اختیار کیا۔ جب وہ لوٹے تو ان سب نے احرام باندھا مگر حضرت ابوقتادہؓ نے نہ باندھا۔ اسی اثناء میں کہ وہ جا رہے تھے۔ انہوں نے کئی گورخر دیکھے تو حضرت ابوقتادہؓ نے ان گورخروں پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ گورخر زخمی کی اور وہ اُترے اور اس کے گوشت سے کھایا۔ اور کہنے لگے: کیا ہم شکار کا گوشت کھائیں ایسی حالت میں کہ ہم محرم ہوں؟ اس کا جو گوشت باقی بچا تھا؛ وہ ہم نے اُٹھا لیا۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے احرام باندھے تھے اور ابوقتادہؓ نے نہیں باندھا تھا۔ پھر ہم نے کئی گورخر دیکھے۔ ابو قتادہؓ نے ان پر حملہ کیا اور ان میں سے ایک مادہ ماری اور ہم اُترے اور اس کے گوشت سے کھایا۔ پھر ہم کہنے لگے: کیا شکار کا گوشت ہم کھائیں جبکہ ہم محرم ہیں؟ ہم اس کا بچا ہوا گوشت اُٹھا لائے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے ان سے کہا تھا کہ وہ اس پر حملہ کریں؟ یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر جو اس کا گوشت بچا ہوا ہے، کھائو۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے، انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ لیثیؓ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے لئے گورخر بطور تحفہ بھیجا جبکہ آپؐ ابواء میں یا ودان میں تھے تو آپؐ نے وہ اُنہیں لوٹا دیا۔ جب انہوں نے آپؐ کے چہرے پر ناپسندیدگی دیکھی تو آپؐ نے فرمایا: ہم نے تمہیں وہ واپس نہیں کیا مگر اس لئے کہ ہم محرم ہیں۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں مارنے میں محرم کو کوئی گناہ نہیں۔ اور عبداللہ بن دینار سے بھی (امام مالک نے) روایت کی۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا… (یعنی یہی بات فرمائی۔)
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا کہ زید بن جبیر سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ کی ازواج میں سے ایک نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ محرم (بعض چیزیں) مار سکتا ہے۔
اصبغ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ بن وہب نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: حضرت حفصہؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں ایسی ہیں جس نے انہیں مارا؛ اس پر کوئی مضائقہ نہیں۔ کوا، چیل، چوہا، بچھو اور کاٹنے والا کتا۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن وہب نے مجھے بتایا، کہا: یونس نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں موذی ہیں۔ حرم میں بھی انہیں مار دیں۔ کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم (نخعی) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اسود سے، اسود نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اس اثناء میں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ منیٰ کے ایک غار میں تھے؛ جب آپ پر (سورۃ) نازل ہوئی۔ وَالْمُرْسَلَاتِ۔ آپؐ اسے پڑھ رہے تھے اور میں سن کر یاد کر رہا تھا اور آپؐ کا چہرہ اس سورۃ سے تروتازہ تھا۔ اچانک ایک سانپ ہم پر لپکا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اسے مار ڈالو تو ہم جلدی سے اس پر جھپٹے تو وہ چلا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: جانے دو؛ تمہارے شر سے وہ بچایا گیا۔ تم اس کے شر سے بچائے گئے۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اس حدیث کے ذکر سے ہماری یہ مراد ہے کہ منیٰ حرم کا حصہ ہے اور انہوں نے سانپ کے مارنے میں کوئی حرج نہیں دیکھا۔