بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 127 hadith
حمیدی اور محمد بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا: ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے محمد بن جبیر بن مطعم سے، محمد نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے پاس ایک عورت آئی۔ آپؐ نے اس سے فرمایا کہ وہ آپؐ کے پاس پھر آئے۔ اس نے کہا: دیکھیں تو سہی اگر میں آؤں اور آپؐ کو نہ پاؤں؟ گویا وہ یہ کہتی تھی کہ اگر آپؐ فوت ہو جائیں؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکرؓ کے پاس آنا۔
احمد بن ابی الطیّب نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن مجالد نے ہمیں بتایا کہ بیان بن بشر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے وبرہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے ہمام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمارؓ (بن یاسر) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ابتدائی زمانہ میں دیکھا جبکہ آپؐ کے ساتھ صرف پانچ غلام، دو عورتیں اور حضرت ابوبکرؓ تھے۔
ہشام بن عمار نے ہم سے بیان کیا کہ صدقہ بن خالد نے ہمیں بتایا کہ زید بن واقد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے بسر بن عبیداللہ سے، انہوں نے عائذ اللہ ابوادریس سے، ابوادریس نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ اپنے کپڑے (تہہ بند) کا ایک کنارہ اُٹھائے ہوئے سامنے سے آگئے۔ اتنا اُٹھائے ہوئے تھے کہ ان کے گھٹنے ننگے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: تمہارے ساتھی تو کسی سے لڑ کر آئے ہیں۔ انہوں نے آ کر السلام علیکم کہا اور بولے: اے اللہ کے رسول! میرے اور ابن خطابؓ کے درمیان کوئی بات ہوئی تھی تو میں نے انہیں جلد بازی میں کچھ کہہ دیا۔ پھر میں نادم ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ مجھے معاف کر دیں مگر انہوں نے میری بات نہیں مانی اس لئے میں آپؐ کے پاس آیا ہوں۔ آپؐ نے تین بار فرمایا: ابوبکر! اللہ آپ کی پردہ پوشی فرمائے اور درگذر فرمائے۔ پھر حضرت عمرؓ بھی نادم ہوئے اور حضرت ابوبکرؓ کے گھر پر آئے۔ پوچھا: ابوبکرؓ یہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے آ کر السلام علیکم کہا تو نبی ﷺ کا چہرہ متغیر ہونے لگا اور حضرت ابوبکرؓ ڈر گئے اور وہ دو زانو ہو کر بیٹھ گئے۔ دو دفعہ کہا: یارسول اللہ! اللہ کی قسم! میں ہی زیادہ قصور وار ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! اللہ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا اور تم نے کہا : تو جھوٹا ہے۔ اور ابوبکرؓ نے کہا: سچا ہے۔ اور انہوں نے اپنی جان و مال سے میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تو کیا تم میرا ساتھی میرے لئے چھوڑو گے بھی یا نہیں۔ آپؐ نے دو دفعہ فرمایا۔ پھر اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ کو کبھی تکلیف نہیں دی گئی۔
معلیٰ بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن مختار نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: خالد حذاء نے ابوعثمان سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ان کو ذات السلاسل کی فوج پر سپہ سالار مقرر کرکے بھیجا اور میں آپؐ کے پاس آیا۔ میں نے کہا: لوگوں میں سے کون آپؐ کو زیادہ پیارا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: عائشہؓ۔ میں نے کہا: مردوں میں سے؟ آپؐ نے فرمایا: ان کا باپ۔ میں نے کہا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: پھر عمر بن خطابؓ، اور آپؐ نے اسی طرح چند مردوں کو شمار کیا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔ شعیب نے ہمیں خبر دی کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اس اثناء میں کہ ایک چرواہا اپنی بکریوں میں تھا کہ بھیڑئیے نے اس پر حملہ کیا اور ان بکریوں میں سے ایک بکری لے گیا۔ وہ چرواہا اس کے پیچھے گیا تو بھیڑئیے نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا اور کہنے لگا: درندوں کے زمانہ میں اس کا کون ہوگا ، جس دن میرے سوا اس کا کوئی اور چرواہا نہ ہوگا۔ اور ایک بار ایک شخص ایک گائے ہانکے لئے جا رہا تھا۔ اس پر اس نے بوجھ لادا ہوا تھا۔ اس گائے نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا اور اس سے بولی، کہنے لگی: میں تو اس کام کے لئے نہیں پیدا کی گئی بلکہ مجھے کھیتی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! نبی ﷺ نے فرمایا: میں، ابوبکر اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم تو یہ بات مانتے ہیں۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ابن مسیب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبیﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے تئیں ایک کنوئیں پر دیکھا جس پر ایک ڈول تھا۔ میں نے اس کنوئیں سے جتنا اللہ نے چاہا کھینچ کر پانی نکالا۔ پھر ابن ابی قحافہؓ نے وہ ڈول لیا اور اس سے پانی کا ایک ڈول یا دو ڈول کھینچ کر نکالے اور ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی اور اللہ ان کی اس کمزوری پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان سے درگذر کرے گا۔ پھر وہ ڈول ایک چرسا ہوگیا اور ابن خطابؓ نے اس کو لیا تو میں نے کبھی لوگوں میں ایسا شہ زور نہیں دیکھا جو اس طرح کھینچ کر پانی نکالتا ہو جس طرح عمرؓ نکالتے تھے۔ اتنا نکالا کہ لوگ خوب سیر ہو کر اپنے اپنے ٹھکانوں میں جا بیٹھے۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا اور موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے سالم بن عبداللہ سے، سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو غرور سے اپنا کپڑا گھسیٹ کر چلا تو اللہ روز قیامت اس کی طرف نظر اُٹھا کر نہیں دیکھے گا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میرے کپڑے کی ایک طرف ڈھیلی رہتی ہے سوا اِس کے کہ میں اس کا خاص خیال رکھوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آپ تو غرور سے ایسا نہیں کرتے۔ موسیٰ (بن عقبہ) نے کہا: میں نے سالم سے پوچھا: کیا حضرت عبداللہؓ (بن عمر) نے یہ ذکر کیا تھا کہ جو اپنا تہہ بند گھسیٹ کر چلا۔ تو انہوں نے کہا: میں نے ان سے یہی سنا کہ جو کوئی اپنا کپڑا (گھسیٹ کر چلا)۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جس نے اللہ کی راہ میں کسی چیز کا جوڑا دیا تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا۔ (فرشتے کہیں گے:) اے اللہ کے بندے! (ادھر آ۔) یہ دروازہ اچھا ہے۔ جو شخص نمازیوں میں سے ہوگا، وہ نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ اور جو جہاد کرنے والوں میں سے ہوگا وہ جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ اور جو صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا تو اسے صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزہ داروں میں سے ہوگا وہ روزے کے دروازے سے جس کا نام ریان ہوگا، بلایا جائے گا۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ سن کر کہا: وہ شخص جو ان دروازوں سے بلایا جائے گا، اس کو پھر کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ اور کہا: یا رسول اللہ! کیا کوئی ان سبھی دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں، میں امید رکھتا ہوں۔ ابوبکر! آپ بھی انہی لوگوں میں سے ہوں گے۔
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہوگئے اور حضرت ابوبکرؓ اس وقت سنح میں تھے۔ اسماعیل نے کہا: یعنی مضافات میں۔ یہ خبر سن کر حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے، کہنے لگے: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ فوت نہیں ہوئے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے: بخدا میرے دل میں یہی بات آئی تھی۔ اور انہوں نے کہا: اللہ آپ کو ضرور ضرور اُٹھائے گا تا بعض آدمیوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دے۔ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ آگئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور آپؐ کو بوسہ دیا۔ کہنے لگے: میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ آپؐ زندگی میں بھی اور موت کے وقت بھی پاک و صاف ہیں۔ اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ آپؐ کو کبھی دو موتیں نہیں چکھائے گا۔ یہ کہہ کر حضرت ابوبکرؓ باہر چلے گئے اور کہنے لگے: ارے قسم کھانے والے ٹھہر جا۔ جب حضرت ابوبکرؓ بولنے لگے، حضرت عمرؓ بیٹھ گئے۔
حضرت ابوبکرؓ نے حمد و ثناء بیان کی اور کہا: دیکھو جو محمد ﷺ کو پوجتا تھا، سن لے کہ محمدؐ تو یقیناً فوت ہوگئے ہیں۔ اور جو اللہ کو پوجتا تھا تو اسے یاد رہے کہ اللہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا۔ اور حضرت ابوبکرؓ نے یہ آیت پڑھی: تم بھی مرنے والے ہو اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔ پھر انہوں نے یہ آیت بھی پڑھی: محمدؐ صرف ایک رسول ہیں۔ آپؐ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔ تو پھر کیا اگر آپؐ فوت ہوجائیں یا قتل کئے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو ہرگز نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا۔ سلیمان کہتے تھے: یہ سن کر لوگ اتنے روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ سلیمان کہتے تھے: اور انصار بنی ساعدہ کے گھر حضرت سعد بن عبادہؓ کے پاس اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے: ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر بن خطابؓ اور حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ ان کے پاس گئے۔ حضرت عمرؓ بولنے لگے۔ حضرت ابوبکرؓ نے انہیں خاموش کیا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے: اللہ کی قسم! میں نے جو بولنا چاہا تو اس لئے کہ میں نے ایسی تقریر تیار کی تھی جو مجھے بہت پسند آتی تھی۔ مجھے ڈر تھا کہ حضرت ابوبکرؓ اس تک نہ پہنچ سکیں گے یعنی ویسا نہ بول سکیں۔ پھر اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے تقریر کی اور ایسی تقریر کی جو بلاغت میں تمام لوگوں کی تقریروں سے بڑھ کر تھی۔ انہوں نے اپنی تقریر کے اثناء میں کہا: ہم امیر ہیں اور تم وزیر ہو۔ حباب بن منذرؓ نے یہ سن کر کہا: ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم! ہرگز نہیں۔ بخدا! ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر آپ میں سے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: نہیں بلکہ امیر ہم ہیں اور تم وزیر ہو کیونکہ یہ قریش لوگ (بلحاظِ نسب) تمام عربوں سے اعلیٰ ہیں اور بلحاظِ حسب وہ قدیمی عرب ہیں۔ اس لئے عمرؓ یا ابوعبیدہؓ کی بیعت کرو۔ حضرت عمرؓ نے کہا: نہیں، بلکہ ہم تو آپؓ کی بیعت کریں گے کیونکہ آپؓ ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سے بہتر ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو ہم میں سے زیادہ پیارے ہیں۔ یہ کہہ کر حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کا ہاتھ پکڑا اور اُن سے بیعت کی اور لوگوں نے بھی ان سے بیعت کی۔ ایک کہنے والے نے کہا: سعد بن عبادہؓ کو تم نے مار ڈالا ہے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ نے اسے مارا ہے۔