بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 127 hadith
عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ہارون نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل بن ابی خالد نے ہمیں بتایا کہ شعبی سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی عادت تھی کہ جب حضرت جعفرؓ کے بیٹے کو سلام کہتے تو یہ کہتے: ’’اے دو پنکھ والے کے بیٹے تم پر سلامتی ہو‘‘ {اور ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: عربی زبان میں کہتے ہیں: کُنْ فِیْ جَنَاحِیْ۔ یعنی میرے پہلو میں رہو۔ گویا پہلو کو بازو کہتے ہیں۔}
(تشریح)انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے جو مجھ سے راز کی بات کی تھی تو آپؐ نے مجھے بتایا تھا کہ آپؐ اس بیماری میں اُٹھا لئے جائیں گے جس میں کہ آپؐ فوت ہوئے۔ یہ سن کر میں رو پڑی۔ پھر آپؐ نے مجھ سے جو بات درپردہ کی تھی تو آپؐ نے مجھے بتایا تھا کہ میں آپؐ کے اہل بیت میں سے پہلی ہوں جو آپؐ کے پیچھے جاؤں گی۔ اس پر میں ہنس پڑی۔
حسن بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن عبداللہ انصاری نے ہمیں بتایا۔ (وہ کہتے تھے) میرے باپ عبداللہ بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے، ثمامہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطابؓ کی عادت تھی۔ جب لوگوں میں قحط پڑتا تو حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ کے وسیلے سے بارش کی دعا کرتے، کہتے: اے اللہ! ہم اپنے نبی ﷺ کے وسیلے سے تیرے حضور پہنچا کرتے تھے اور تو ہمیں پانی پلایا کرتا تھا اور اب ہم تیرے نبی کے چچا کے وسیلے سے تجھ تک پہنچتے ہیں۔ اس لئے ہم پر مینہ برسا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: تو پھر ان پر مینہ برستا۔
(تشریح)ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام نے حضرت ابوبکرؓ کو کہلا بھیجا کہ وہ اپنے ورثے کا حق مانگتی ہیں جو ان کو نبی ﷺ کی طرف سے پہنچتا ہے یعنی ان جائیدادوں میں سے جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو بطور عطیہ عنایت کیں یعنی نبی ﷺ کی وہ جائیداد جو مدینہ اور فدک میں ہے، وہ مانگتی ہیں اور نیز وہ بھی جو خیبر کے پانچویں حصہ سے بچا تھا۔
تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ محمد (ﷺ) کا خاندان اس مال میں سے یعنی اللہ کے مال سے صرف کھانے پینے کا خرچ ہی لیا کرے گا۔ ان کا کوئی حق نہیں کہ اخراجات خوراک سے زیادہ خرچ کریں اور میں تو بخدا رسول اللہ ﷺ کے ان صدقوں میں سے کوئی بھی تبدیلی نہیں کروں گا، ویسے رہیں گے جو نبی ﷺ کے زمانہ میں ہوا کرتے تھے اور میں ان میں وہی تصرف کروں گا جو رسول اللہ ﷺ ان میں کیا کرتے تھے۔ یہ سن کر حضرت علیؓ نے کلمہ شہادت پڑھا۔ پھر کہا: ابوبکرؓ! ہم آپ کی فضیلت اچھی طرح جان چکے ہیں اور انہوں نے اپنی اس رشتہ داری کا ذکر کیا جو اُن کو رسول اللہ ﷺ سے تھی اور نیز اپنے حقوق کا بھی ذکر کیا تو حضرت ابوبکرؓ بولے، کہنے لگے: اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے رشتہ دار یقیناً مجھے میرے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ پیارے ہیں کہ میں ان سے کوئی خاص سلوک کروں۔
عبداللہ بن عبد الوہاب نے مجھے بتایا۔ خالد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے واقد سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: محمد ﷺ کو مد نظر رکھ کر ان کے اہل بیت کا خیال رکھو۔
ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت مِسْوَر بن مخرمہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فاطمہؓ میرا لخت جگر ہے۔ جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: نبی ﷺ نے اپنی بیٹی فاطمہؓ کو اس بیماری میں بلایا جس میں کہ آپؐ اٹھائے گئے اور ان سے کچھ درپردہ کہا۔ وہ (سن کر) رو پڑیں۔ پھر آپؐ نے ان کو بلایا اور ان سے درپردہ کوئی بات کی۔ وہ ہنسیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں نے فاطمہؓ سے اس کے متعلق پوچھا۔
خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مروان بن حکم نے مجھے بتایا: جس سال نکسیر کی بیماری پھیلی، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بھی سخت نکسیر ہوئی۔ یہاں تک کہ اس نے ان کو حج سے روک دیا اور انہوں نے وصیت کردی تو اس وقت قریش میں سے ایک شخص ان کے پاس آیا کہنے لگا: کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں۔ انہوں نے پوچھا: کیا لوگوں نے یہ بات کہی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ حضرت عثمانؓ نے پوچھا: کس کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں؟ وہ خاموش رہا۔ اتنے میں پھر ایک اور شخص ان کے پاس آیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ حارث تھا۔ کہنے لگا: خلیفہ مقرر کر دیں۔ حضرت عثمانؓ نے کہا: کیا لوگوں نے یہ کہا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ حضرت عثمانؓ نے پوچھا: وہ کون ہے جو خلیفہ ہوگا؟ وہ خاموش رہا۔ حضرت عثمانؓ نے کہا: شاید وہ کہتے ہیں زبیرؓ کو۔ اس نے کہا: ہاں۔ حضرت عثمانؓ نے کہا: اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے وہ ان میں سے یقیناً بہتر ہے اور رسول اللہ ﷺ کو بھی ان سب سے زیادہ پیارا تھا۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اُسامہ نے ہمیں بتایا۔ ہشام سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے خبر دی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے مروان بن حکم سے سنا۔ (وہ کہتے تھے:) میں حضرت عثمانؓ کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں۔ انہوں نے کہا: کیا یہ بات لوگوں نے کہی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ زبیرؓ کا تقرر چاہتے ہیں۔ حضرت عثمانؓ نے تین بار کہا۔ دیکھو تم جانتے ہی ہو کہ وہ تم میں سے بہتر ہیں۔