بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 46 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا۔ حبیب بن ابی عمرہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عائشہ بنت طلحہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپؐ کے ساتھ ہم جنگ کے لئے نہ نکلا کریں اور جہاد نہ کریں؟ تو آپؐ نے فرمایا: تم عورتوں کے لئے نہایت عمدہ اور بہتر جہاد حج ہے۔ وہ حج جو سراسر نیکی پر مبنی ہو اور مقبول ہو۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں حج نہیں چھوڑتی؛ بعد اس کے کہ میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے ابومعبد سے جو حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبیﷺ نے فرمایا: عورت سفر نہ کرے مگر اپنے محرم رشتہ دار کے ساتھ اور اس کے پاس کوئی غیر مرد نہ آئے مگر اس وقت جب اس کے ساتھ محرم رشتہ دار موجود ہو۔ تو ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میں چاہتا ہوں کہ فلاں فلاں فوج میں شامل ہو کر (جہاد کے لئے) نکلوں اور میری بیوی حج کرنا چاہتی ہے تو آپؐ نے فرمایا: اس کے ساتھ جائو۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ یزید بن زُرَیع نے ہمیں خبر دی کہ حبیب معلم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ اپنے حج سے لوٹے تو آپؐ نے حضرت امّ سنان انصاریہؓ سے فرمایا: حج سے تمہیں کس بات نے روکا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابو فلاں کے پاس دو اونٹ تھے۔ ان کی مراد اپنے خاوند سے تھی۔ ان میں سے ایک پر وہ حج کے لئے گیا اور دوسرا ہمارے پاس رہا؛ جو زمین کو پانی پہنچاتا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا {حج ہی ہے۔ یا فرمایا: } ایسا ہی ہے جیسے میرے ساتھ حج کرنا۔ ابن جریج نے عطاء سے یہ روایت کی۔ (کہا:) میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی اور عبید اللہ نے کہا کہ عبد الکریم سے مروی ہے۔ انہوں نے عطاء سے، عطاء نے حضرت جابرؓ سے، حضرت جابرؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالملک بن عمیر سے، عبدالملک نے قزعہ سے روایت کی جو زیاد کے آزاد کردہ غلام تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید (خدریؓ) سے سنا اور وہ نبی ﷺ کے ساتھ بارہ جہاد کر چکے تھے۔ انہوں نے کہا: چار باتیں ہیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنیں یا کہا: (چار باتیں ہیں) جو وہ نبی ﷺ سے روایتاً بیان کرتے تھے۔ وہ باتیں مجھے پسند آئیں اور عمدہ معلوم ہوئیں۔ کوئی عورت دو دِن کا سفر ایسی حالت میں نہ کرے کہ اس کے ساتھ اس کا خاوند یا محرم رشتہ دار نہ ہو اور عید الفطر و عید الاضحیٰ کے دو دن روزہ نہیں ہے اور دو نمازوں کے بعد کوئی نماز نہیں ہے۔ یعنی عصر کے بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج نکلے اور کجاوے نہ باندھے جائیں مگر تین مسجدوں کے لئے؛ مسجد حرام، میری مسجد اور مسجد اقصیٰ۔
(تشریح)(محمد) بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ (مروان) فزاری نے ہمیں خبر دی کہ حمید طویل سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: ثابت نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت انس ص سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) نبی ﷺ نے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان سہارا لئے چلا جا رہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کی یہ کیا حالت ہے؟ انہوں نے کہا: اس نے نذر مانی تھی کہ وہ (حج کیلئے) پیدل جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تو اس بات سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے تئیں دکھ میں ڈالے اور آپؐ نے اس سے فرمایا: سوار ہو جاؤ۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں خبر دی۔ ابن جریج نے ان کو بتایا، کہا: سعید بن ابی ایوب نے مجھے خبر دی کہ یزید بن ابی حبیب نے ان کو بتایا۔ ابوالخیر (مرثد بن عبداللہ) نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عقبہ بن عامرؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میری بہن نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ کو پیدل جائے گی اور مجھ سے فرمائش کی کہ میں اس کے لئے نبی ﷺ سے فتویٰ پوچھوں۔ میں نے آپؐ سے فتویٰ پوچھا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو۔ اور (یزید بن ابی حبیب نے) کہا کہ ابوالخیر حضرت عقبہ (بن عامرؓ) سے الگ نہ ہوتے۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے (عبدالملک) ابن جریج سے، انہوں نے يحيٰ بن ایوب (غافقی مصری) سے، يحيٰ نے یزید (بن ابی حبیب) سے، یزید نے ابوالخیر (مرثد بن عبداللہ) سے، انہوں نے حضرت عقبہ (بن عامرؓ) سے روایت کی اور اسی حدیث کا ذکر کیا۔
(تشریح)