بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 46 hadith
یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ ابوبشر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ اس کی اونٹنی نے (نیچے گرا کر) اس کی گردن توڑ دی جبکہ وہ بحالت احرام تھا۔ وہ فوت ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پانی اور بیری کے پتوں سے اسے نہلائو اور اس کے دو کپڑوں میں اسے کفنائو۔ اسے خوشبو نہ لگائو اور اس کا سر نہ ڈھانپو۔ کیونکہ وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں اُٹھایا جائے گا کہ وہ لبیک کہہ رہا ہوگا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جہینہ قبیلہ کی ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میری ماں نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے گی۔ مگر اس نے حج نہیں کیا اور مر گئی تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں اس کی طرف سے حج کرو۔ بھلا بتائو تو سہی! اگر تمہاری ماں پر کوئی قرضہ ہو تو کیا تم اسے ادا کرو گی؟ اللہ کا قرضہ بھی ادا کرو۔ کیونکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس کے ساتھ وفا کی جائے۔
(تشریح)ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے ابن شہاب سے، انہوں نے سلیمان بن یسار سے، سلیمان نے حضرت ابن عباس سے، انہوں نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ ایک عورت…۔
(نیز) موسیٰ بن اسماعیل نے بھی ہم سے بیان کیا کہ عبد العزیز بن ابی سلمہ نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سلیمان بن یسار سے، سلیمان نے (حضرت فضل) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حجۃ الوداع کے سال قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی۔ کہنے لگی: یا رسول اللہ! حج سے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرض جو اپنے بندوں پر ہے، وہ ایسی حالت میں نازل ہوا ہے کہ باپ میرا بہت ہی بوڑھا ہو چکا تھا۔ سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا تھا تو کیا اس کی طرف سے ادا ہو جائے گا، اگر میں اس کی جگہ حج کروں؟ فرمایا: ہاں۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے سلیمان بن یسار سے، سلیمان نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: فضلؓ نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھے تو خثعم قبیلہ کی ایک عورت آئی اور فضلؓ اس کی طرف دیکھنے لگے۔ وہ بھی ان کی طرف دیکھ رہی تھی تو نبی ﷺ فضلؓ کا منہ دوسری جانب پھیرنے لگے تو اس (عورت) نے کہا: اللہ کے فریضہ (حج) نے میرے باپ کو ایسی حالت میں پایا ہے کہ وہ بہت بوڑھے تھے۔ اونٹنی پر جم کر نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کروں۔ فرمایا: ہاں اور یہ واقعہ حجۃ الوداع میں ہوا۔
(تشریح)ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ بن ابی یزید سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے مجھے مزدلفہ سے رات کو بھیجا۔ یا کہا مجھے سامان (سفر) کے ساتھ پہلے بھیج دیا۔
اسحق (بن منصور) نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں خبر دی۔ ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا (ابن شہاب) سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ (کہا:) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اپنی ایک گدھی پر سوار ہو کر چلا آیا اور جوانی کے قریب تھا جبکہ رسول اللہ ﷺ منیٰ میں کھڑے نماز پڑھا رہے تھے۔ یہاں تک کہ پہلی صف کے آگے سے گزرا۔ اس گدھی سے اُتر کر میں آگیا اور وہ چرتی رہی۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے لوگوں کے ساتھ صف میں شریک ہوگیا۔ اور یونس نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے یہ لفظ کہے: منیٰ مقام پر حجۃ الوداع میں۔
عبدالرحمن بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن یوسف سے، محمد بن یوسف نے سائب بن یزیدؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مجھے حج کرایا گیا اور میں سات سال کا تھا۔
عمرو بن زرارہ نے ہم سے بیان کیا کہ قاسم بن مالک نے ہمیں خبر دی۔ جعید بن عبدالرحمن سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عمر بن عبدالعزیز سے میں نے سنا۔ وہ حضرت سائب بن یزیدؓ سے کہہ رہے تھے اور حضرت سائبؓ کو نبی ﷺ کی بار برداری کے قافلہ میں حج کرایا گیا تھا۔
(تشریح)اور احمد بن محمد نے مجھ سے کہا کہ ابراہیم (بن سعد) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا سے روایت کی کہ حضرت عمرؓ نے نبی ﷺ کی ازواج کو اس آخری حج میں جو انہوں نے کیا، اجازت دی (کہ وہ بھی حج کریں) اور حضرت عمرؓ نے ان کے ساتھ حضرت عثمان بن عفانؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کو بھیجا۔