بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 46 hadith
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی کو بھی موذی بتایا اور میں نے آپؐ سے نہیں سنا کہ آپؐ نے اس کے مارنے کا ارشاد فرمایا ہو۔
(تشریح)قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابو شریح عدویؓ سے روایت کی کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا اور وہ مکہ کی طرف فوجیں بھیج رہے تھے۔ اے امیر! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ سے ایک بات بیان کروں جو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے روز فرمائی تھی۔ میرے دونوں کانوں نے وہ سنی اور میرے دل نے محفوظ رکھی اور میری دونوں آنکھیں آپؐ کو دیکھ رہی تھیں جب آپؐ نے وہ بات فرمائی۔ آپؐ نے اللہ کی حمد و ثنا کی۔ پھر فرمایا کہ مکہ کو اللہ تعالیٰ نے حرم قرار دیا ہے اور لوگوں نے قرار نہیں دیا۔ کسی شخص کے لئے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو؛ جائز نہیں کہ وہاں خون ریزی کرے یا درخت کاٹے۔ اگر کوئی رسول اللہ ﷺ کی لڑائی کی وجہ سے جواز کی صورت نکالے تو اسے کہو کہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی۔ اور مجھے بھی دن کی ایک گھڑی تک اجازت دی اور اس کی حرمت آج پھر ویسی ہی قائم ہوگئی ہے جیسی کل تھی اور چاہیے کہ جو حاضر ہو وہ غیر حاضر کو پہنچا دے۔ حضرت ابوشریحؓ سے کہا گیا: عمرو (بن سعید) نے آپؓ سے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: ابو شریح! میں یہ بات آپؓ سے زیادہ جانتا ہوں۔ حرم باغی کو پناہ نہیں دیتا اور نہ اس شخص کو جو خون کر کے بھاگا ہو اور نہ اس شخص کو جو کوئی خرابی کر کے بھاگا ہو، ایسی خرابی جو کہ مصیبت کا باعث ہو۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب نے ہمیں بتایا کہ خالد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبیﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے۔ مجھ سے پہلے کسی کے لئے یہ حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا۔ میرے لئے بھی تو صرف دن کی ایک گھڑی بھر ہی حلال ہوا تھا۔ اس کا گھاس پات نہ توڑا جائے اور نہ اس کا درخت کاٹا چھانٹا جائے اور نہ اس کے شکار کو بدکایا جائے۔ نہ اس کی گری پڑی چیز اُٹھائی جائے مگر وہ (اُٹھا سکتا ہے) جو شناخت کروائے۔ اور حضرت عباسؓ نے کہا: یا رسول اللہ! سوائے اذخر گھاس کے جو ہمارے سناروں اور قبروں کے لئے ہوتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: سوائے اذخر کے۔ اور خالد سے مروی ہے۔ انہوں نے عکرمہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا شکار نہ بِدکانے سے کیا مراد ہے؟ یہ کہ اسے سایہ سے ہٹا کر خود اس جگہ ڈیرہ لگائے۔
(تشریح)عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے مجاہد سے، مجاہد نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے جس دن مکہ فتح کیا، فرمایا: (اَب) کوئی ہجرت نہیں۔ لیکن جہاد اور نیت قائم رہے گی اور جب تمہیں جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو نکلو۔ یہ وہ شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرمت سے نوازا ہے، اس دن سے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ اللہ کی اس حرمت سے قیامت کے دن تک حرمت والا رہے گا۔ مجھ سے پہلے کسی کے لئے اس میں لڑائی جائز نہیں ہوئی اور مجھے بھی صرف ایک دن کی ایک گھڑی (لڑائی کی) اجازت دی گئی ہے۔ سو وہ اللہ کی حرمت کی وجہ سے قیامت تک (اپنی حرمت) پر قائم رہے گا۔ اس کا کانٹا نہ توڑا جائے گا۔ اس کا شکار نہ چونکا یا جائے گا اور اس کی گری پڑی چیز نہ اُٹھائی جائے؛ اس شخص کے سوا جو اس چیز کو پہچانے اور اس کی گھاس نہ کاٹی جائے۔ حضرت عباسؓ نے کہا: یا رسول اللہ! مگر اذخر گھاس کیونکہ وہ ان کے لوہاروں اور ان کے گھروں کے استعمال کی چیز ہے۔ (راوی نے) کہا: آپؐ نے فرمایا: اذخر کے سوا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، کہا: عمرو (بن دینار) نے پہلی بار (یہ) کہا: میں نے عطاء (بن ابی رباح) سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے پچھنا لگوایا جبکہ آپؐ بحالت احرام تھے۔ پھر میں نے ان کو کہتے سنا کہ طاؤس نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عباسؓ سے یہ بات مروی ہے۔ میں نے کہا: شاید انہوں نے ان دونوں سے سنا ہو۔
خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا۔ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے علقمہ بن ابی علقمہ سے، انہوں نے عبدالرحمن اعرج سے، عبدالرحمن نے حضرت ابن بُحَینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے سر کے درمیان پچھنا لگوایا جبکہ آپؐ مقامِ لحي جمل میں بحالت احرام تھے۔
(تشریح)ابو مغیرہ عبدالقدوس بن حجاج نے ہم سے بیان کیا کہ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ عطاء بن ابی رباح نے ہم سے بیان کیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت میمونہؓ سے نکاح کیا جبکہ آپؐ بحالت احرام تھے۔
(تشریح)عبداللہ بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ نافع نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ ہمیں احرام میں کونسا کپڑا پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پاجامے۔ نہ دستار باندھو اور نہ بارانی پہنو۔ ہاں اگر کسی کے پاس جوتی نہ ہو تو وہ موزے پہن لے۔ چاہیے کہ وہ ٹخنوں سے نیچے موزوں کو کاٹ لے اور کوئی ایسی چیز نہ پہنو؛ جس میں زعفران اور ورس ہو اور محرمہ نقاب نہ پہنے اور نہ دستانے۔ لیث کی طرح موسیٰ بن عقبہ اور اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اور جویریہ اور ابن اسحاق نے بھی نقاب اور دستانوں سے متعلق یہی بیان کیا ہے اور عبیداللہ بن عمر نے بھی (اپنی روایت میں) یہ کہا: اور نہ ورس۔ اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ محرمہ نقاب نہ ڈالے اور نہ دستانے پہنے۔ مالک نے نافع سے نقل کیا کہ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے: محرمہ نقاب نہ ڈالے اور مالک کی طرح لیث بن ابی سلیم نے بھی یہی نقل کیا ہے۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے حکم سے، حکم نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اُس کی گردن توڑ دی اور مار ڈالا۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس اسے لایا گیا تو آپؐ نے فرمایا: اسے نہلائو اور اسے کفنائو اور اس کا سر نہ ڈھانپو، نہ اسے خوشبو لگائو؛ کیونکہ وہ لبیک کہتے ہوئے اُٹھایا جائے گا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے ابراہیم بن عبداللہ بن حنین سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت مسور بن مخرمہؓ نے ابواء میں (مسئلہ غسل میں) اختلاف کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے کہا: محرم اپنا سر دھو سکتا ہے اور حضرت مسورؓ نے کہا: محرم اپنا سر نہیں دھو سکتا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے مجھے حضرت ابوایوب انصاریؓ کے پاس بھیجا۔ میں نے انہیں دو لکڑیوں کے درمیان نہاتے ہوئے پایا۔ ان پر کپڑے سے پردہ کیا گیا تھا۔ میں نے اُن کو السلام علیکم کہا تو انہوں نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں عبداللہ ابن حنین ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے مجھے آپؓ کے پاس بھیجا ہے کہ میں آپؓ سے پوچھوں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر کس طرح دھوتے تھے جبکہ آپؐ احرام کی حالت میں ہوتے تھے؟ تو حضرت ابوایوبؓ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا۔ اسے نیچے جھکایا؛ یہاں تک کہ ان کا سر مجھے نظر آیا۔ پھر انہوں نے ایک آدمی سے کہا: جو اُن پر پانی ڈال رہا تھا؛ پانی ڈالو تو اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا۔ پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو ملا۔ ہاتھوں کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے اور کہا: اس طرح میں نے آنحضرت ﷺ کو کرتے دیکھا۔
(تشریح)