ابن شہاب کہتے تھے کہ عبدالرحمٰن بن مالک مدلجی نے جو کہ سراقہ بن مالک بن جعشمؓ کے بھتیجے تھے، بتایا کہ ان کے باپ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے سراقہ بن جعشمؓ سے سنا۔ کہتے تھے کہ ہمارے پاس کفار قریش کے ایلچی آئے جو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ ان دونوں میں سے ہر ایک کی دیت مقرر کرنے لگے، اس شخص کیلئے جو اُن کو قتل کرے یا قید کرے۔ اسی اثنا میں کہ میں اپنی قوم بنو مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک شخص سامنے سے آیا اور آکر ہمارے پاس کھڑا ہوگیا اور ہم بیٹھے تھے، کہنے لگا: سراقہ! میں نے ابھی سمندر کے کنارے کی طرف کچھ آدمی دیکھے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں وہی محمد اور اس کے ساتھی ہیں۔ سراقہؓ کہتے تھے کہ میں نے شناخت کرلیا کہ وہی ہیں مگر میں نے اسے کہا: وہ ہرگز نہیں ہیں، بلکہ تم نے فلاں فلاں کو دیکھا ہے جو ہمارے سامنے گئے تھے۔ پھر میں اس مجلس میں کچھ دیر ٹھہرا رہا۔ اس کے بعد اُٹھا اور گھر گیا اور اپنی لونڈی سے کہا: میری گھوڑی نکالو، وہ ٹیلہ کے پرے ہی رہے، وہاں اس کو میرے لئے تھامے رکھو۔ چنانچہ میں نے اپنا نیزہ لیا اور اس کو لے کر گھر کے پیچھے کی طرف سے نکلا۔ میں نے نیزے کے بھال کو زمین پر رکھا اور اس کے اوپر کے حصہ کو نیچے جھکایا اور اسی طرح اپنی گھوڑی کے پاس پہنچا اور اس پر سوار ہوگیا۔ میں نے اس کو چمکایا۔ وہ سرپٹ دوڑتی ہوئی مجھے لے گئی۔ یہاں تک کہ جب ان کے قریب پہنچا تو میری گھوڑی نے ایسی ٹھوکر کھائی کہ میں اس سے گر پڑا۔ میں اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے ترکش کی طرف ہاتھ جھکا کر میں نے اس سے تیر نکالے اور ان سے فال لی کہ آیا ان کو نقصان پہنچا سکوں گا یا نہیں۔ پس وہی نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا۔ (یعنی فال میرے خلاف نکلی) میں پھر اپنی گھوڑی پر سوار ہوگیا اور پانسے کے خلاف عمل کیا۔ گھوڑی سرپٹ دوڑتے ہوئے مجھے لئے جا رہی تھی اور اتنا نزدیک ہوگیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو قرآن پڑھتے سن لیا۔ آپؐ اِدھر اُدھر نہیں دیکھتے تھے اور حضرت ابوبکرؓ کثرت سے مُڑ مُڑ کر دیکھتے تھے۔ میری گھوڑی کی اگلی ٹانگیں زمین میں گھٹنوں تک دھنس گئیں اور میں اس سے گر پڑا۔ پھر میں نے گھوڑی کو ڈانٹا اور اٹھ کھڑا ہوا اور وہ اپنی ٹانگیں زمین سے نکال نہ سکتی تھی۔ آخر جب وہ سیدھی کھڑی ہوئی تو اس کی دونوں ٹانگوں سے گرد اُٹھ کر فضا میں دھوئیں کی طرح پھیل گئی۔ اب میں نے دوبارہ تیروں سے فال لی تو وہی نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا۔ تب میں نے انہیں آواز دی کہ تم امن میں ہو۔ وہ ٹھہر گئے۔ میں اپنی گھوڑی پر سوار ہوکر ان کے پاس آیا۔ ان تک پہنچنے میں جو روکیں مجھے پیش آئیں ان کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ضرور رسول اللہ ﷺ کا ہی بول بالا ہوگا۔ میں نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ آپؐ کی قوم نے آپؐ کے متعلق دیت مقرر کی ہے اور میں نے ان کو وہ سب چیزیں بتائیں جو کچھ کہ لوگ ان سے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور میں نے ان کے سامنے زاد اور سامان پیش کیا مگر انہوں نے مجھ سے نہ لیا اور نہ مجھ سے کوئی فرمائش کی سوائے اس کے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ کہا کہ ہمارے سفر کے متعلق حال پوشیدہ رکھنا۔ میں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ آپؐ میرے لئے امن کی ایک تحریر لکھ دیں۔ آپؐ نے عامر بن فہیرہؓ سے فرمایا اور اس نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر لکھ دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ
فِي رَكْبٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا تِجَارًا قَافِلِينَ مِنَ الشَّأْمِ فَكَسَا الزُّبَيْرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ ثِيَابَ بَيَاضٍ وَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِينَةِ مَخْرَجَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ فَكَانُوا يَغْدُونَ كُلَّ غَدَاةٍ إِلَى الْحَرَّةِ فَيَنْتَظِرُونَهُ حَتَّى يَرُدَّهُمْ حَرُّ الظَّهِيرَةِ فَانْقَلَبُوا يَوْمًا بَعْدَ مَا أَطَالُوا انْتِظَارَهُمْ فَلَمَّا أَوَوْا إِلَى بُيُوتِهِمْ أَوْفَى رَجُلٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِهِمْ لأَمْرٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ مُبَيَّضِينَ يَزُولُ بِهِمُ السَّرَابُ فَلَمْ يَمْلِكِ الْيَهُودِيُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ هَذَا جَدُّكُمُ الَّذِي تَنْتَظِرُونَ. فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى السِّلاَحِ فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِظَهْرِ الْحَرَّةِ فَعَدَلَ بِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِكَ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ فَقَامَ
أَبُو بَكْرٍ
لِلنَّاسِ وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَامِتًا فَطَفِقَ مَنْ جَاءَ مِنَ الأَنْصَارِ مِمَّنْ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَيِّي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى أَصَابَتِ الشَّمْسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ
أَبُو بَكْرٍ
حَتَّى ظَلَّلَ عَلَيْهِ بِرِدَائِهِ فَعَرَفَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ فَلَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً وَأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى وَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ يَمْشِي مَعَهُ النَّاسُ حَتَّى بَرَكَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ وَهْوَ يُصَلِّي فِيهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مِرْبَدًا لِلتَّمْرِ لِسُهَيْلٍ وَسَهْلٍ غُلاَمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي حَجْرِ
أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ
هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْمَنْزِلُ
. ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْغُلاَمَيْنِ فَسَاوَمَهُمَا بِالْمِرْبَدِ لِيَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا فَقَالاَ لاَ بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْقُلُ مَعَهُمُ اللَّبِنَ فِي بُنْيَانِهِ وَيَقُولُ وَهُوَ يَنْقُلُ اللَّبِنَ
وَلَمْ يَبْلُغْنَا فِي الأَحَادِيثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَمَثَّلَ بِبَيْتِ شِعْرٍ تَامٍّ غَيْرِ هذه الآيات
ﷺ
روانہ ہوگئے۔ ابن شہاب کہتے تھے: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ
ﷺ
(راستہ میں) حضرت زبیرؓ سے ملے جو مسلمانوں کے ایک قافلہ کے ساتھ شام سے تجارت کرکے واپس آرہے تھے۔ حضرت زبیرؓ نے رسول اللہ
ﷺ
اور حضرت ابوبکرؓ کو سفید کپڑے پہنائے اور مدینہ میں مسلمانوں نے سن لیا کہ رسول اللہ
ﷺ
مکہ سے نکل پڑے ہیں اس لئے وہ ہر صبح حرہ میدان تک جایا کرتے اور وہاں آپؐ کا انتظار کرتے رہتے۔ یہاں تک کہ دوپہر کی گرمی انہیں لوٹا دیتی۔ ایک دن ان کا بہت دیر جو انتظار کرنے کے بعد لوٹے اور اپنے گھروں پر جب پہنچے تو ایک یہودی شخص اپنے ایک محل پر کچھ دیکھنے کے لئے چڑھا تو اس نے رسول اللہ
ﷺ
اور آپؐ کے ساتھیوں کو دیکھ لیا جو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ سراب ان سے آہستہ آہستہ ہٹ رہا تھا۔ یہودی سے رہا نہ گیا اور بے اختیار بلند آواز سے بول اُٹھا: اے عرب کے لوگو! یہ تمہارا وہ سردار ہے جس کا تم انتظار کر رہے ہو۔ یہ سنتے ہی مسلمان اٹھ کر اپنے ہتھیاروں کی طرف لپکے اور حرہ کے میدان میں رسول اللہ
ﷺ
کا استقبال کیا۔ آپؐ انہیں ساتھ لئے ہوئے داہنی طرف مڑے اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں ان کے ساتھ اترے اور یہ دو شنبہ (سوموار) کا دن تھا اور ربیع الاوّل کا مہینہ۔ حضرت ابوبکرؓ لوگوں سے ملنے کے لئے کھڑے ہوئے اور رسول اللہ
ﷺ
خاموش بیٹھے رہے اور انصار میں سے وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ
ﷺ
کو نہیں دیکھا تھا آئے اور حضرت ابوبکرؓ کو سلام کرنے لگے۔ یہاں تک کہ دھوپ رسول اللہ
ﷺ
پر پڑنے لگی۔ حضرت ابوبکرؓ آئے اور انہوں نے آنحضرت
ﷺ
پر اپنی چادر سے سایہ کیا۔ اس وقت لوگوں نے رسول اللہ
ﷺ
کو پہچانا اور رسول اللہ
ﷺ
بنو عمرو بن عوف کے محلہ میں دس سے کچھ اوپر راتیں ٹھہرے اور وہ مسجد بنائی گئی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی اور اس میں رسول اللہ
ﷺ
نے نماز پڑھی۔ پھر آپؐ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور لوگ آپؐ کے ساتھ پیدل چلنے لگے اور وہ اونٹنی مدینہ میں وہاں جاکر بیٹھی جہاں اب مسجد نبوی ہے۔ ان دنوں وہاں چند مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے اور وہ سہیلؓ اور سہلؓ کی کھجوریں سکھانے کی جگہ تھی جو دو یتیم بچے حضرت سعد بن زرارہؓ کی پرورش میں تھے۔ جب آپؐ کی اونٹنی نے آپؐ کو وہاں بٹھا دیا تو رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا تو یہیں ہماری قیام گاہ ہوگی۔ پھر رسول اللہ
ﷺ
نے ان دو لڑکوں کو بلایا اور ان سے اس جگہ کی قیمت دریافت کی تا اسے مسجد بنائیں تو ان دونوں نے کہا: نہیں یا رسول اللہ! ہم آپؐ کو یہ زمین مفت دیتے ہیں۔ رسول اللہ
ﷺ
نے ان سے یہ زمین مفت لینے سے انکار کیا اور اسے ان سے خریدا اور پھر وہاں مسجد بنائی اور رسول اللہ
ﷺ
اس مسجد کے بنانے کے لئے لوگوں کے ساتھ اینٹیں ڈھونے لگے اور جب اینٹیں ڈھو رہے تھے تو ساتھ ساتھ کہتے جاتے: یہ بوجھ خیبر کے بوجھ جیسا نہیں بلکہ اے ہمارے ربّ! یہ بہت بھلا اور پاکیزہ ہے نیز فرماتے تھے: اے اللہ! اصل ثواب تو آخرت کا ثواب ہے اس لئے تو ان انصار اور مہاجرین پر رحم فرما آنحضرت
ﷺ
نے مسلمانوں میں سے ایک شخص کے شعر پڑھے۔ اس کا نام مجھے نہیں بتلایا گیا۔ ابن شہاب نے کہا: اور نہ ہی ہمیں دوسری احادیث سے یہ معلوم ہوا ہے کہ رسول اللہ
ﷺ
نے سوائے ان اشعار کے کبھی کوئی مکمل شعر کسی کا پڑھا ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ وَفَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ رضى الله عنها صَنَعْتُ سُفْرَةً لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ حِينَ أَرَادَا الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ لأَبِي مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبُطُهُ إِلاَّ نِطَاقِي. قَالَ فَشُقِّيهِ. فَفَعَلْتُ فَسُمِّيتُ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ.
عبداللہ بن ابی شیبہ نے ہمیں بتایا کہ ابواسامہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا ان کے والد اور فاطمہ (بن منذر) سے روایت ہے۔ ان دونوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ میں نے نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے لئے جب انہوں نے مدینہ جانے کا ارادہ کیا، زادِ راہ تیار کیا اور میں نے اپنے باپ سے کہا: میں کوئی چیز نہیں پاتی جس سے اس کو باندھوں سوائے اپنے کمر بند کے۔ انہوں نے کہا: پھر اسے ہی دو ٹکڑے کرلو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور اس لئے ذات النطاقین میرا نام رکھا گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ان کا یوں نام لیا: اسماء ذات النطاق۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ تَبِعَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ. قَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي وَلاَ أَضُرُّكَ. فَدَعَا لَهُ. قَالَ فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَّ بِرَاعٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ.
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں خبر دی کہ ابواسحاق سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ جب نبی ﷺ نے مدینہ کا رخ کیا تو سراقہ بن مالک بن جعشمؓ نے آپؐ کا تعاقب کیا۔ نبی ﷺ نے اس پر دعا کی تو اس کی گھوڑی زمین میں دھنس گئی۔ (جس سے وہ گر گیا۔) سراقہ کہنے لگا: آپؐ اللہ سے میرے لئے دعا کریں اور میں آپؐ کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ آپؐ نے اس کے لئے دعا کی۔ حضرت براء بن عازبؓ کہتے تھے: نبی ﷺ کو (راستہ میں) پیاس لگی اور ایک چرواہا پاس سے گزرا۔ حضرت ابوبکرؓ کہتے تھے: میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں تھوڑا سا دودھ دوہا {اور آپؐ کے پاس لایا۔} آپؐ نے اتنا پیا کہ میں خوش ہوگیا۔
حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ حَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ. تَابَعَهُ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ حُبْلَى.
زکریا بن یحيٰ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابو اُسامہ سے، ابو اُسامہ نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ عبداللہ بن زبیرؓ ان کے حمل میں تھے۔ کہتی تھیں کہ میں (مکہ سے) اس وقت نکلی کہ جب حمل کے دن پورے کر چکی تھی۔ میں مدینہ پہنچی اور قباء میں اتری اور قباء میں میں نے اس کو جنا۔ اس کے بعد میں اس کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آئی اور آپؐ کی گود میں اسے رکھ دیا۔ آپؐ نے ایک کھجور منگوائی اور اس کو چبا یا کہ بچے کو گھٹی دیں۔ رسول اللہ ﷺ کا لعاب پہلی چیز تھی جو اس کے پیٹ میں داخل ہوئی۔ پھر اس کے بعد آپؐ نے چبائی ہوئی کھجور کو اس کے تالو سے لگا دیا۔ اس کے بعد آپؐ نے اس کے لئے دعا کی (اور کہا:) اللہ اسے مبارک کرے۔ عبداللہ بن زبیرؓ پہلا بچہ تھا جو (ہجرت کے بعد) اسلام میں پیدا ہوا۔ زکریا بن یحيٰ کی طرح اس حدیث کو خالد بن مخلد نے بھی علی بن مسہر سے نقل کیا۔ علی نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ اس میں یوں ہے کہ وہ نبی ﷺ کی طرف ہجرت کرکے گئیں اور وہ اس وقت حاملہ تھیں۔
ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَوَّلُ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم تَمْرَةً فَلاَكَهَا ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي فِيهِ فَأَوَّلُ مَا دَخَلَ بَطْنَهُ رِيقُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو اسامہ سے، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، عروہ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ اسلام کے زمانہ میں (مہاجرین کا) پہلا بچہ جو پیدا ہوا وہ حضرت زبیرؓ کا بیٹا عبداللہؓ تھا۔ اسے نبی ﷺ کے پاس لے کر آئے۔ آپؐ نے ایک کھجور لی اور چبا کر اس کے منہ میں ڈال دی۔ تو سب سے پہلی چیز جو اس کے منہ میں داخل ہوئی وہ نبی ﷺ کا لعاب مبارک تھا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ وَهْوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَكْرٍ وَأَبُو بَكْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَابٌّ لاَ يُعْرَفُ قَالَ فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ يَا أَبَا بَكْرٍ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ فَيَقُولُ هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي السَّبِيلَ. قَالَ فَيَحْسِبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي الطَّرِيقَ وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا. فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ . فَصَرَعَهُ الْفَرَسُ ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ. قَالَ فَقِفْ مَكَانَكَ لاَ تَتْرُكَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا . قَالَ فَكَانَ أَوَّلَ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ آخِرَ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَانِبَ الْحَرَّةِ ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الأَنْصَارِ فَجَاءُوا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا وَقَالُوا ارْكَبَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ. فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَحَفُّوا دُونَهُمَا بِالسِّلاَحِ فَقِيلَ فِي الْمَدِينَةِ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَأَشْرَفُوا يَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ. فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّى نَزَلَ جَانِبَ دَارِ أَبِي أَيُّوبَ فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهُ إِذْ سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ وَهْوَ فِي نَخْلٍ لأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ فَعَجِلَ أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ لَهُمْ فِيهَا فَجَاءَ وَهْىَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ بُيُوتِ أَهْلِنَا أَقْرَبُ . فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذِهِ دَارِي وَهَذَا بَابِي. قَالَ فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِيلاً . قَالَ قُومَا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ. فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّكَ جِئْتَ بِحَقٍّ وَقَدْ عَلِمَتْ يَهُودُ أَنِّي سَيِّدُهُمْ وَابْنُ سَيِّدِهِمْ وَأَعْلَمُهُمْ وَابْنُ أَعْلَمِهِمْ فَادْعُهُمْ فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ فَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ قَالُوا فِيَّ مَا لَيْسَ فِيَّ. فَأَرْسَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلُوا فَدَخَلُوا عَلَيْهِ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ وَيْلَكُمُ اتَّقُوا اللَّهَ فَوَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا وَأَنِّي جِئْتُكُمْ بِحَقٍّ فَأَسْلِمُوا . قَالُوا مَا نَعْلَمُهُ. قَالُوا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَهَا ثَلاَثَ مِرَارٍ. قَالَ فَأَىُّ رَجُلٍ فِيكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ. قَالُوا ذَاكَ سَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا وَأَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا. قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ . قَالُوا حَاشَا لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ. قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ . قَالُوا حَاشَا لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ. قَالَ يَا ابْنَ سَلاَمٍ اخْرُجْ عَلَيْهِمْ . فَخَرَجَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ اتَّقُوا اللَّهَ فَوَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ جَاءَ بِحَقٍّ. فَقَالُوا كَذَبْتَ. فَأَخْرَجَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
محمد (بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالصمد نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ (عبدالوارث) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن صہیب نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس بن مالکؓ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: نبی اللہ ﷺ مدینہ کو روانہ ہوئے اور آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ کو اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ بوڑھے تھے۔ لوگ پہچان لیتے تھے اور نبی اللہ ﷺ جوان تھے۔ انہیں کوئی نہیں پہچانتا تھا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: کوئی شخص حضرت ابوبکرؓ سے ملتا تو پوچھتا: ابوبکرؓ! یہ شخص کون ہے جو تمہارے آگے ہے؟ حضرت ابوبکرؓ جواب دیتے: یہ شخص مجھے راستہ بتاتا ہے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: سمجھنے والا سمجھتا کہ ان کی مراد صرف یہی راستہ ہے حالانکہ ان کی مراد بھلائی کا راستہ تھی۔ حضرت ابوبکرؓ نے جو مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سوار ہے جو پیچھے سے انہیں آ ملا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: رسول اللہ! یہ سوار ہے جس نے ہمیں پالیا ہے۔ نبی اللہ ﷺ نے مڑ کر دیکھا اور دعا کی کہ اے اللہ اسے گرا دے۔ چنانچہ گھوڑی نے اس کو گرا دیا۔ پھر وہ ہنہناتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔ پھر وہ کہنے لگا: اے نبی اللہ! آپؐ جو چاہیں مجھے حکم دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: پھر اپنی جگہ ہی ٹھہرے رہو۔ کسی کو ہم تک نہ پہنچنے دینا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: وہ سوار دن کے پہلے حصہ میں تو نبی اللہ ﷺ کے خلاف کوشش کر رہا تھا اور دن کے دوسرے حصہ میں وہ آپؐ کا ہتھیار بن گیا۔ رسول اللہ ﷺ حرہ میدان کے ایک طرف اُترے اور اس کے بعد انصار کو بُلا بھیجا۔ وہ نبی اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کو السلام علیکم کہا اور کہنے لگے: آپؐ دونوں امن سے سوار ہو جائیں، ہم آپؐ کے فرمانبردار ہیں۔ نبی اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ سوار ہو گئے اور انہوں نے ہتھیار لے کر ان کے اردگرد گھیرا باندھ لیا اور مدینہ میں (جا بجا) کہا جانے لگا: اللہ کے نبی تشریف لے آئے، اللہ کے نبی تشریف لے آئے۔ اللہ کی ان پر خاص رحمتیں ہوں اور سلامتی ہو؛ اور لوگ جھانک کر دیکھنے لگے اور کہنے لگے: جَآءَ نَبِیُّ اللّٰہِ {جَآءَ نَبِیُّ اللّٰہِ} آپؐ اسی طرح چلتے ہوئے آئے اور آ کر حضرت ابوایوبؓ (انصاری) کے گھر کے پاس اُترے۔ آنحضرت ﷺ اپنے گھر والوں سے بیان کیا کرتے تھے کہ جب عبداللہ بن سلامؓ نے آپؐ کے آنے کے متعلق سنا تو اس وقت وہ اپنے گھر والوں کے ایک باغ میں ان کے لئے کھجوریں چن رہے تھے۔ جو کھجوریں ان کے لئے چنی تھیں وہ جلدی سے اس باغ میں کہیں رکھ بھی نہ سکے۔ وہ آئے اور وہ ان کے ساتھ ہی تھیں۔ انہوں نے نبی اللہ ﷺ سے باتیں سنیں۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ گئے۔ نبی اللہ ﷺ نے پوچھا: ہمارے عزیزوں کے گھروں میں سے کس کا گھر زیادہ قریب ہے؟ حضرت ابوایوبؓ (انصاری) نے کہا: نبی اللہ! یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا دروازہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھر جائیں اور ہمارے لئے دوپہر کے آرام کرنے کی جگہ تیار کریں۔ حضرت ابوایوبؓ نے کہا: آپؐ دونوں اٹھیں اللہ کی برکت ہو۔ جب نبی اللہ ﷺ گھر میں آئے، عبداللہ بن سلامؓ بھی آ گئے اور انہوں نے کہا: میں اپنے علم سے شہادت دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں اور ضرورت حقہ کے مطابق آئے ہیں اور یہود خوب جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ہوں اور ان کے سردار کا بیٹا ہوں اور ان میں سب سے زیادہ عالم ہوں اور ان میں سے جو بڑا عالم تھا اس کا بیٹا ہوں۔ پس آپؐ انہیں بلائیں اور میرے متعلق ان سے پوچھیں۔ پیشتر اس کے کہ وہ جانیں کہ میں اسلام قبول کر چکا ہوں تو میرے متعلق وہ کچھ کہیں گے جو مجھ میں نہیں ہے۔ چنانچہ نبی اللہ ﷺ نے یہود کو بلا بھیجا۔ وہ آئے اور آپؐ کے پاس اندر آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: اے یہود کی جماعت! اسی اللہ کی قسم ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تم خوب جانتے ہو کہ میں اللہ کا ہی رسول ہوں اور میں تمہارے پاس ضرورت کے وقت آیا ہوں۔ اس لئے اسلام قبول کرو۔ انہوں نے کہا: ہمیں معلوم نہیں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ آپؐ نے تین بار یہی فرمایا۔ انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ آپؐ نے فرمایا: عبداللہ بن سلامؓ تم میں کیسے آدمی ہیں؟ کہنے لگے: وہ تو ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں۔ ہم میں سب سے زیادہ عالم ہیں اور ہم میں سب سے بڑے عالم کے بیٹے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: بتاؤ تو سہی اگر وہ مسلمان ہو جائیں؟ انہوں نے کہا: حاشا اللہ! وہ کبھی مسلمان ہونے کے نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: بتاؤ تو سہی اگر وہ مسلمان ہو جائیں؟ انہوں نے کہا: حاشا للہ! وہ کبھی مسلمان ہونے کے نہیں۔ آپؐ نے پھر فرمایا: بتاؤ تو سہی اگر وہ مسلمان ہو جائیں؟ انہوں نے کہا: حاشا للہ! وہ کبھی مسلمان ہونے کے نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ابن سلامؓ ان کے پاس باہر آ جائیں۔ وہ نکلے اور کہا: اے یہود کی جماعت! اللہ سے ڈرو۔ اسی اللہ کی قسم ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تم خوب جانتے ہو کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور یہ ضرورتِ حقہ کے مطابق آئے ہیں۔ انہوں نے کہا: تم جھوٹ کہتے ہو۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں باہر لے جا کر روانہ کر دیا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عمر نے مجھے بتایا۔ نافع سے روایت ہے کہ نافع نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے، حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمرؓ نے پہلے ہجرت کرنے والوں کے لئے (بیت المال سے) چار چار ہزار درہم (فی کس) مقرر کئے جو چار قسطوں میں دیئے جاتے تھے اور حضرت ابن عمرؓ کے لئے تین ہزار پانچ سو درہم مقرر کئے۔ ان سے کہا گیا: وہ بھی انہی مہاجرین میں سے ہیں۔ ان کو چار ہزار سے کم کیوں دیا؟ حضرت عمرؓ نے کہا: اس کو تو اس کے ماں باپ نے ہجرت کرائی۔ ان کی مراد یہ تھی کہ وہ ان کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے خود بخود ہجرت کی۔
قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا۔ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت خبابؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔
نیز مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ اعمش سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے شقیق بن سلمہ سے سنا۔ کہتے تھے: ہمیں حضرت خبابؓ (بن ارت) نے بتایا۔ کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ اللہ کی رضا مندی چاہتے تھے اور ہمارا اجر اللہ کے ذمہ ہو چکا۔ ہم میں سے بعض وہ ہیں جو گزر گئے۔ اپنے اجر سے انہوں نے کچھ نہ کھایا۔ ان میں سے حضرت مصعب بن عمیرؓ ہیں جو اُحد کی جنگ میں مارے گئے اور سوائے ان کے ایک کمبل کے اور ہم نے کچھ نہ پایا جس سے ہم انہیں کفناتے۔ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں باہر ہوتے اور جب پاؤں ڈھانپتے تو ان کا سر باہر ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا کہ اس سے ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں اور ہم سے بعض وہ ہیں جن کا میوہ خوب پک گیا ہے اور وہ اس کو چن رہے ہیں۔
یحيٰ بن بشر نے ہمیں بتایا کہ روح (بن عبادہ) نے ہم سے بیان کیا کہ عوف نے معاویہ بن قرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری نے مجھ سے بیان کیا، کہا: حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے مجھ سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو میرے باپ نے تمہارے باپ سے کیا کہا؟ ابوبردہ کہتے تھے: میں نے کہا: نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا: میرے باپ نے تمہارے باپ سے یہ کہا تھا: ابوموسیٰؓ ! کیا تم خوش ہوگے اگر ہمارا وہ اسلام جو ہمیں رسول اللہ ﷺ کی معیت میں نصیب ہوا برقرار رہے اور وہ ہجرت جو ہم نے آپؐ کے ساتھ کی اور وہ جہاد جو ہم نے آپؐ کی معیت میں کیا اور سارے کے سارے وہ عمل جو ہم نے آپؐ کے ساتھ رہ کر کئے اور یہ کہ ہر ایک وہ عمل جو ہم نے آپؐ کے بعد کیا اگر ہم اس کے بدلہ میں برابر چھٹکارا پا جائیں نہ اس کا ہمیں ثواب ہو، نہ عذاب۔ یہ سن کر تمہارے باپ ابوموسیٰؓ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم نے رسول اللہ ﷺ کے بعد جہاد کئے، نمازیں پڑھیں اور روزے رکھے اور بہت سے نیک کام کئے اور ہمارے ہاتھوں پر بہت لوگوں نے اسلام قبول کیا اور ان کے ثواب کی بھی ہم امید رکھتے ہیں۔ میرے باپ نے کہا: مگر مجھے اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے۔ میں تو یہ آرزو رکھتا ہوں کہ ان کا ثواب برقرار رہے اور آپؐ کے بعد جو کچھ بھی ہم نے کیا ہے اس سے ہم برابر برابر چھٹ جائیں، نہ ثواب نہ عذاب۔ ابوبردہ کہتے تھے: میں نے کہا: آپ کے باپ بخدا میرے باپ سے بہتر ہیں۔