بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت خدیجہؓ نبی ﷺ کے مدینہ جانے سے تین سال پہلے فوت ہو گئی تھیں۔ آپؐ دو برس یا اس کے قریب قریب (مکہ میں) ٹھہرے اور پھر حضرت عائشہؓ سے نکاح کیا جبکہ وہ چھ برس کی تھیں۔ پھر آپؐ ان کو اپنے گھر لائے اور وہ نو سال کی تھیں۔
(تشریح)(عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ ابو وائل (شقیق بن سلمہ) سے میں نے سنا۔ کہتے تھے کہ ہم حضرت خبابؓ (بن ارت) کی عیادت کے لئے گئے تو انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے ساتھ ہم نے ہجرت کی۔ ہم اللہ کی رضا مندی چاہتے تھے اور ہمارا اجر اللہ کے ذمہ ہو گیا۔ ہم میں سے بعض وہ ہیں جو چلے گئے۔ انہوں نے (اس دنیا میں سے) کچھ نہ لیا۔ ان میں سے حضرت مصعب بن عمیرؓ ہیں جو اُحد کے دن شہید ہوئے اور وہ ایک دھاریدار کمبل چھوڑ گئے۔ جب ہم اس سے ان کے سر کو ڈھانپتے تو ان کے پاؤں ظاہر ہو جاتے اور اگر ان کے پاؤں ڈھانپتے تو سر ظاہر ہو جاتا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم ان کے سر کو ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر کی گھاس ڈال دیں اور ہم میں سے بعض وہ ہیں جن کا میوہ پک گیا ہے اور وہ یہ میوہ چن رہے ہیں۔
مسدد (بن مسرہد) نے بیان کیا کہ حماد نے جو زید کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن سعید انصاری) سے، یحيٰ نے محمد بن ابراہیم سے، محمد نے علقمہ بن وقاص سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا۔ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ جس کی ہجرت دنیا کے لئے ہے اور وہ اسے حاصل کرنا چاہتا ہے یا کسی عورت کی خاطر ہے جس سے وہ شادی کرنا چاہتا ہے تو اس کی ہجرت اس کے لئے ہوگی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی؛ اور جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے۔
اسحاق بن یزید دمشقی نے مجھے بتایا کہ یحيٰ بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ ابوعمرو اوزاعی نے عبدہ بن ابولبابہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ عبدہ نے مجاہد بن جبر مکی سے روایت کی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ فتح کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔
یحيٰ بن حمزہ نے کہا : اور اوزاعی نے عطاء بن ابی رباح سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ کہا: میں نے عبید بن عمیر لیثی کے ساتھ حضرت عائشہؓ سے ملاقات کی اور ہم نے ان سے ہجرت کے متعلق پوچھا۔ وہ کہنے لگیں: آج کوئی ہجرت نہیں۔ مومنوں کا یہ حال تھا کہ ان میں سے ایک اپنے دین کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف اس ڈر سے بھاگا کرتا تھا کہ کہیں اس کو ابتلاء میں نہ ڈال دیا جائے۔ مگر آج تو اسلام کو اللہ نے غالب کر دیا ہے اور آج وہ اپنے رب کی جہاں چاہتا ہے عبادت کرتا ہے۔ لیکن جہاد اور (جہاد کی) نیت کا ثواب باقی ہے۔
زکریا بن یحيٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن نمیر نے ہمیں بتایا: ہشام (بن عروہ) نے کہا کہ میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ حضرت سعدؓ (بن معاذ انصاری) نے کہا: اے اللہ تو ہی جانتا ہے کہ مجھے اس سے بڑھ کر کوئی بات عزیز نہیں کہ میں تیری خاطر ان سے جہاد کروں۔ یعنی اس قوم سے جنہوں نے تیرے رسول ﷺ کی تکذیب کی اور ان کو وطن سے نکالا۔ اے اللہ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی کو موقوف کر دیا ہے۔ اور ابان بن یزید (عطار) نے کہا کہ ہشام نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ حضرت عائشہؓ نے مجھے بتایا کہ ایسی قوم سے جنہوں نے تیرے نبی کی تکذیب کی اور اس کو نکالا یعنی قریش۔
مطر بن فضل نے ہم سے بیان کیا۔ روح بن عبادہ نے ہمیں بتایا کہ ہشام (بن حسان) نے ہم سے بیان کیا کہ عکرمہ نے ہمیں بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ چالیس برس کی عمر میں مبعوث کئے گئے۔ مکہ میں آپؐ تیرہ برس رہے جس اثناء میں آپؐ کو وحی ہوتی رہی۔ پھر اس کے بعد آپؐ کو ہجرت کا حکم ہوا۔ چنانچہ آپؐ نے ہجرت کی۔ اس کے بعد دس برس زندہ رہے اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپؐ نے وفات پائی۔
مطر بن فضل نے مجھے بتایا کہ ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا۔ زکریا بن اسحاق نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن دینار نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ مکہ میں تیرہ برس رہے اور آپؐ فوت ہوئے جبکہ آپؐ تریسٹھ برس کے تھے۔
اسماعیل بن عبداللہ (اویسی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابونضر (سالم بن ابوامیہ) سے، ابونضر نے عبید یعنی حنین کے بیٹے سے، عبید نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھے تو آپؐ نے فرمایا: ایک بندہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار دیا ہے کہ چاہے وہ دنیا کی زیبائش لے، چاہے جو اس کے پاس ہے وہ لے۔ چنانچہ اس نے جو اس کے پاس ہے اس کو پسند کر لیا ہے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ رو پڑے اور کہا: ہمارے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ ہمیں حضرت ابوبکرؓ کی بات سن کر تعجب ہوا اور لوگوں نے کہا: اس بوڑھے کو دیکھو۔ رسول اللہ ﷺ تو ایسے بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں کہ جس کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ یا وہ دنیا کی زیبائش اس کو دے یا وہ جو اس کے پاس ہے وہ لے اور یہ کہتا ہے: ہمارے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ تو اصل میں رسول اللہ ﷺ ہی وہ تھے جن کو اختیار دیا گیا تھا اور حضرت ابوبکرؓ ہم سب سے زیادہ اس بات کو سمجھنے والے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمام لوگوں سے بڑھ کر مجھ پر احسان کرنے والا کیا بلحاظِ رفاقت اور کیا بلحاظِ مال خرچ کرنے کے ابوبکرؓ ہے اور اگر میں نے اپنی امت میں کسی کو جانی دوست بنانا ہوتا تو ضرور میں ابوبکرؓ کو بناتا۔ اب صرف اسلام ہی کی دوستی ہے۔ مسجد میں کوئی کھڑکی نہ رہے سوائے ابوبکرؓ (کے مکان) کی کھڑکی کے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ لیث نے عقیل سے روایت کی کہ ابن شہاب نے کہا کہ عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ نبی ﷺ کی حرم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: جب سے میں نے اپنے ماں باپ کے متعلق ہوش سنبھالی ہے وہ اس دین کے پابند تھے اور ہم پر کوئی بھی دن نہ گزرتا تھا کہ جس میں ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ دونوں وقت صبح اور شام نہ آتے ہوں۔ جب مسلمانوں کو تکلیفیں ہوئیں حضرت ابوبکرؓ حبشہ کے ملک کی طرف ہجرت کی نیت سے نکل گئے۔ جب برک الغماد میں پہنچے تو انہیں ابن الدغنہ ملا اور وہ قارہ قبیلہ کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا: ابوبکرؓ کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ زمین میں سیر کروں اور اپنے رب کی عبادت کروں۔ ابن الدغنہ نے کہا: اے ابوبکرؓ! تمہارے جیسے بہترین شخص کو ملک سے نہیں جانا چاہیے اور نہ اسے نکالا جانا چاہیے۔ تم تو نادار کو کما کر دیتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، عاجز کو سہارا دیتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو اور پیش آمدہ ضرورتوں میں مدد دیتے ہو۔ میں تمہاری پناہ ہوں گا۔ واپس جاؤ اور اپنے شہر میں ہی اپنے ربّ کی عبادت کرو۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ لوٹ آئے اور ابن الدغنہ نے بھی ان کے ساتھ ہی کوچ کیا۔ پھر ابن الدغنہ نے شام کے وقت قریش کے بڑے بڑے لوگوں میں چکر لگایا اور ان سے کہا: ابوبکرؓ جیسے بہترین شخص کو ملک سے نہیں جانا چاہیے اور نہ اس کو نکالا جانا چاہیے۔ کیا تم اس شخص کو نکالتے ہو جو نادار کو کما کر دیتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، عاجز کو سہارا دیتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے اور پیش آمدہ ضرورتوں میں مدد دیتا ہے۔ چنانچہ قریش نے ابن الدغنہ کی پناہ ردّ نہیں کی اور انہوں نے ابن الدغنہ سے کہا: ابوبکرؓ سے کہو کہ اپنی چاردیواری میں ہی اپنے ربّ کی عبادت کرے۔ اسی میں نماز ادا کرے اور اسی میں جو چاہے پڑھے اور ہمیں اس سے تکلیف نہ دے اور نہ اس کا اعلان کرے۔ کیونکہ ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ ہماری عورتوں اور لڑکوں کو بہکا نہ دے۔ چنانچہ ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکرؓ سے یہ کہہ دیا اور حضرت ابوبکرؓ بھی اس پر قائم رہے۔ وہ اپنی چاردیواری کے اندر ہی اپنے ربّ کی عبادت کرتے تھے اور اپنی نماز اعلانیہ طور پر ادا نہ کرتے تھے اور نہ ہی اپنی چاردیواری کے سوا کسی اور جگہ قرآن مجید پڑھتے۔ پھر اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ کو خیال آیا اور انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا لی اور اس میں نماز ادا کیا کرتے اور قرآن پڑھا کرتے۔ انہیں سن کر مشرکوں کی عورتیں اور ان کے بیٹے حضرت ابوبکرؓ کے پاس آن جمع ہوتے اور ان سے تعجب کرتے اور ان کو دیکھتے رہتے اور حضرت ابوبکرؓ بہت رونے والے شخص تھے۔ جب قرآن پڑھتے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھتے اور اس بات نے مشرکین قریش کے بڑے بڑے آدمیوں کو گھبرا دیا۔ انہوں نے ابن الدغنہ کو بلا بھیجا۔ چنانچہ وہ آیا تو انہوں نے کہا: ہم نے تو تمہاری پناہ کی وجہ سے ابوبکرؓ کو اس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں ہی اپنے رب کی عبادت کرے۔ مگر وہ اس سے آگے بڑھ گیا ہے اور اس نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا لی ہے اور اس مسجد میں نماز اور قرآن اعلانیہ پڑھنا شروع کر دیا ہے اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں وہ ہماری عورتوں اور ہمارے بیٹوں کو بہکا نہ دے۔ اس لئے تم اس کو روک دو۔ پس اگر وہ اس کی پابندی کرنا پسند کرے کہ اپنے گھر میں ہی رہ کر اپنے رب کی عبادت کرتا رہے تو کرے اور اگر اس کے اعلان کرنے پر ہی اصرار کرے تو اسے کہو کہ وہ تمہاری ذمہ داری تمہیں واپس کر دے۔ کیونکہ ہمیں یہ ناپسند ہے کہ ہم تمہاری ذمہ داری کو توڑیں اور ہم تو ابوبکرؓ کو اعلان نہیں کرنے دیں گے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: چنانچہ ابن الدغنہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا: تمہیں علم ہی ہے کہ جس بات پر میں نے تمہاری خاطر عہد کیا تھا۔ پس یا تو تم اس بات کے پابند رہو اور یا میری ذمہ داری مجھے واپس کر دو۔ کیونکہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ عرب لوگ یہ سنیں کہ ایک شخص کے متعلق کہ جس کی خاطر میں نے عہد کیا تھا میری ذمہ داری توڑ دی گئی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: اچھا میں تمہیں تمہاری پناہ واپس کرتا ہوں اور اللہ عز و جل کی پناہ پر راضی ہوتا ہوں اور نبی ﷺ ان دنوں مکہ میں ہی تھے۔ نبی ﷺ نے مسلمانوں سے کہا: تمہاری ہجرت کا مقام مجھے دکھایا گیا ہے جہاں کھجوریں ہیں اور پتھریلے میدانوں میں واقع ہے اور وہ یہی مدینہ کے دو میدان ہیں۔ تو یہ سن کر جن مسلمانوں سے ہو سکا وہ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے اور جو حبشیوں کے ملک میں ہجرت کر گئے تھے وہ بھی اکثر آخر مدینہ کو لوٹ آئے اور حضرت ابوبکرؓ نے بھی مدینہ جانے کی تیاری کی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ذرا ٹھہر جائیں۔ کیونکہ میں بھی امید کرتا ہوں کہ مجھے بھی اجازت دی جائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: اور کیا آپؐ اس کی امید کرتے ہیں میرے ماں باپ آپؐ پر قربان؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خاطر اپنے آپ کو روکے رکھا تا وہ آپؐ کے ساتھ ہی جائیں اور دو سواری کی اُونٹنیوں کو جو اُن کے پاس تھیں کیکر کے پتے چار مہینے تک چراتے رہے۔ ابن شہاب کہتے تھے: عروہ نے کہا: حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: ایک دن ہم حضرت ابوبکرؓ کے گھر ٹھیک دوپہر کے وقت بیٹھے ہوئے تھے، کسی کہنے والے نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا: رسول اللہ ﷺ اپنے سر پر کپڑا اوڑھے ہوئے آرہے ہیں۔ آپؐ ایسے وقت آئے کہ جس میں آپؐ ہمارے پاس نہیں آیا کرتے تھے۔ تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ خدا کی قسم! آپؐ جو اس وقت تشریف لائے ہیں تو ضرور کوئی بڑا کام ہے۔ کہتی تھیں: اتنے میں رسول اللہ ﷺ آن ہی پہنچے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ حضرت ابوبکرؓ نے اجازت دی۔ آپؐ اندر آئے۔ نبی ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا: جو تمہارے پاس ہیں انہیں باہر بھیج دو۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ گھر میں تو صرف آپؐ ہی کے گھر والے ہیں (یعنی عائشہؓ اور امّ رومانؓ ان کی والدہ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے ہجرت کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلئے۔ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں (تم بھی میرے ساتھ چلو۔) پھر حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میرے ماں باپ آپؐ پر قربان تو پھر میری ان دو سواری کی اونٹنیوں میں سے ایک آپؐ لے لیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیمتاً لوں گا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: چنانچہ ہم نے جلدی سے دونوں کا سامان سفر تیار کر دیا اور ہم نے ان کے لئے توشہ تیار کر کے چمڑے کے تھیلہ میں ڈال دیا۔ حضرت ابوبکرؓ کی بیٹی حضرت اسماءؓ نے اپنے کمر بند سے ایک ٹکڑا کاٹ کر تھیلے کے منہ کو اس سے باندھا، اس لئے ان کا نام ذات النطاق ہو گیا۔ کہتی تھیں: پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ ثور پہاڑ کی ایک غار میں جا پہنچے اور اس میں تین راتیں چھپے رہے۔ حضرت عبداللہ بن ابوبکرؓ ان دونوں کے پاس جا کر رات ٹھہرتے اور اس وقت وہ چالاک اور ہشیار جوان تھے اور اندھیرے ہی میں ان کے پاس سے چلے آتے اور مکہ میں قریش کے ساتھ ہی صبح کرتے جیسے وہیں رات گزاری ہے۔ جو تدبیر بھی ان کے متعلق سنتے وہ اس کو اچھی طرح سمجھ لیتے اور جب اندھیرا ہو جاتا تو غار میں پہنچ کر ان کو بتا دیتے اور حضرت ابوبکرؓ کا غلام عامر بن فہیرہؓ بکریوں کے ریوڑ میں سے ایک دودھیل بکری ان کے پاس چراتا رہتا اور جب عشاء کے وقت سے کچھ گھڑی گزر جاتی تو وہ بکری ان کے پاس لے آتا اور وہ دونوں تازہ دودھ پی کر رات گزارتے اور یہ دودھ ان دونوں کی دودھیل بکری کا ہوتا۔ عامر بن فہیرہؓ رات کے پچھلے پہر (گلے میں چلا جاتا اور) بکریوں کو آواز دینا شروع کر دیتا۔ تین رات تک وہ ایسا ہی کرتا رہا اور رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے بنودیل کے قبیلہ کے ایک شخص کو راستہ بتانے کے لئے اجرت پر رکھ لیا اور وہ بنو عبد بن عدی سے تھا۔ بہت ہی واقف کار راستہ بتانے کا ماہر تھا۔ خِرِّیْت عربی میں اس شخص کو کہتے ہیں جو راہ دکھانے میں ماہر ہو۔ اس شخص نے عاص بن وائل سہمی کے خاندان کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لئے اپنا ہاتھ ڈبویا تھا اور وہ کفار قریش ہی کے مذہب پر تھا۔ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ دونوں نے اس پر اعتبار کیا اور اپنی سواری کی اونٹنیاں اس کے سپرد کر دیں اور اس سے یہ وعدہ ٹھہرایا کہ وہ تین دن کے بعد صبح کے وقت ان کی اونٹنیاں لے کر غار ثور پر پہنچے گا۔ عامر بن فہیرہؓ اور رہبر ان دونوں کے ساتھ چلے۔ وہ رہبر اُن تینوں کو سمندر کے کنارے کے راستہ سے لے کر چلا۔