بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
محمد بن صباح نے مجھ سے خود یا کسی اور نے ان سے نقل کرکے بیان کیا کہ اسماعیل (بن علیہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عاصم (بن احول) سے، عاصم نے ابوعثمان (نہدی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ جب ان سے یہ کہا جاتا کہ انہوں نے اپنے باپ سے پہلے ہجرت کی تو وہ ناراض ہوتے۔ وہ کہتے تھے: میں اور حضرت عمرؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ ہم نے آپؐ کو قیلولہ میں پایا۔ ہم گھر لوٹ آئے۔ پھر حضرت عمرؓ نے مجھے بھیجا اور کہا: جاؤ دیکھو آیا آپؐ جاگے ہیں؟ میں آپؐ کے پاس آیا۔ اندر گیا اور آپؐ سے بیعت کی۔ پھر اس کے بعد حضرت عمرؓ کے پاس چلا گیا اور انہیں بتایا کہ آپؐ جاگے ہیں۔ ہم آپؐ کی طرف جلدی جلدی چلے اور پہنچ کر حضرت عمرؓ آپؐ کے پاس اندر گئے اور آپؐ کی بیعت کی۔ اس کے بعد پھر میں نے آپؐ کی بیعت کی۔
احمد بن عثمان نے ہمیں بتایا کہ شریح بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ ابراہیم بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابواسحاق (سبیعی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براءؓ (بن عازب) سے سنا۔ وہ بیان کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ نے عازبؓ سے ایک کجاوہ خریدا۔ میں ان کے ساتھ اس کو اُٹھا کر لے چلا۔ براءؓ کہتے تھے: عازبؓ نے ان سے رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے متعلق پوچھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: ہمارے راستوں پر چاروں طرف پہرے لگ گئے تھے۔ اس لئے ہم رات کو نکلے اور ہم رات بھر اور دن کو بھی تیز چلتے رہے۔ یہاں تک کہ ٹھیک دوپہر کا وقت ہوگیا۔ پھر دور سے ہمیں ایک چٹان دکھائی دی۔ ہم وہاں پہنچے اور اس کا کچھ سایہ تھا۔ حضرت ابوبکرؓ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ کیلئے ایک لبادہ بچھا دیا جو میرے ساتھ تھا۔ نبی ﷺ اس پر لیٹ گئے۔ میں نے آپؐ کے آس پاس جو کوڑا کرکٹ تھا اس کو جھاڑو دیا۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چرواہا ہے جو چند بکریاں لئے سامنے سے آ گیا۔ وہ اس چٹان کے سایہ میں ویسے ہی آرام کرنا چاہتا تھا جیسا کہ ہم نے چاہا۔ میں نے اس سے پوچھا: لڑکے تم کس کے ہو؟ اس نے کہا: فلاں کا۔ میں نے اس سے کہا: کیا تمہاری بکریوں میں کچھ دودھ ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ پھر میں نے کہا: کیا تو دُوہ سکتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ پھر اس نے ایک بکری لی اور میں نے اسے کہا: تھنوں کو جھاڑ کر صاف کر لے۔ حضرت ابوبکرؓ کہتے تھے: اس نے ایک پیالہ بھر دودھ دوہا اور میرے ساتھ پانی کی ایک چھاگل تھی جس پر ایک کپڑے کا ٹکڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کیلئے وہ سنبھال کر رکھا تھا۔ میں نے دودھ پر اتنا پانی ڈالا کہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر میں نبی ﷺ کے پاس اسے لے آیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! پئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اتنا پیا کہ میں خوش ہوگیا۔ اس کے بعد ہم نے کوچ کیا اور ہمیں ڈھونڈنے والے ہمارے پیچھے لگے ہوئے تھے۔
حضرت براءؓ (بن عازب) کہتے تھے: میں حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ ان کے گھر والوں کے پاس اندر چلا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ان کی بیٹی حضرت عائشہؓ لیٹی ہوئی ہیں۔ انہیں بخار ہوگیا تھا۔ میں نے ان کے باپ کو دیکھا کہ انہوں نے ان کے رخسار پر بوسہ دیا اور پوچھا: میری بیٹی تم کیسی ہو؟
سلیمان بن عبدالرحمٰن نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن حمیر نے ہمیں بتایا۔ ابراہیم بن ابی عبلہ نے ہم سے بیان کیا کہ عقبہ بن وساج نے نبی ﷺ کے خادم حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہوئے انہیں بتایا۔ کہا: نبی ﷺ مدینہ آئے اور اس وقت آپؐ کے صحابہؓ میں سے کسی کے بال سفید نہ تھے سوائے حضرت ابوبکرؓ کے۔ اور انہوں نے بھی بالوں کو مہندی اور وسمہ کا خضاب لگانا شروع کر دیا۔
اور دحیم (عبدالرحمٰن بن ابراہیم دمشقی) نے کہا: ولید نے ہم سے بیان کیا کہ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) ابوعبید نے عقبہ بن وساج سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا، کہا: نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ آئے تو آپؐ کے صحابہؓ میں سب سے بڑی عمر کے حضرت ابوبکرؓ تھے اور انہوں نے بالوں کو مہندی اور وسمہ سے اتنا خضاب لگایا کہ بالوں کا رنگ سیاہ ہو گیا۔
اصبغ (بن فرح) نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلب قبیلہ کی ایک عورت سے شادی کی جسے امّ بکر کہا کرتے تھے۔ جب حضرت ابوبکرؓ نے ہجرت کی تو اسے طلاق دیدی۔ پھر اس عورت کے چچیرے بھائی (ابوبکر شداد بن اسود) نے اس سے شادی کر لی۔ یہ وہ شاعر ہے جس نے کفار قریش کا مرثیہ لکھا۔ (اس کا ترجمہ یہ ہے:) بدر کے پرانے کنویں میں کیسی عظیم ہستیاں مری پڑی ہیں یہ وہ لوگ تھے جن کے لکڑی کے بڑے بڑے پیالوں کو اونٹ کے کوہان کے گوشت سے زینت دی جاتی تھی ہاں ہاں بدر کے کنویں میں وہ لوگ قتل ہو کر گرے ہوئے ہیں جو گانے والیوں کے گانے سننے کے شیدائی اور شراب کو بکثرت پینے والے تھے۔ امّ بکر مجھے سلامتی کی دعا دے رہی ہے اور کیا میری قوم کے بعد میرے لئے کوئی سلامتی ہو سکتی ہے؟ یہ رسول ہمیں بتاتا ہے کہ ہم عنقریب موت کے بعد زندہ ہو جائیں گے، بھلا قبروں کے الو بھی زندہ ہو سکتے ہیں؟
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت (بنانی) سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہتے تھے: میں نبی ﷺ کے ساتھ غار میں تھا۔ میں نے سر جو اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگوں کے پاؤں ہیں۔ میں نے کہا: یا نبی اللہ! اگر ان میں سے کسی نے اپنی نگاہ نیچے کی تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپؐ نے فرمایا: ابوبکرؓ خاموش رہیں۔ ہم دو ایسے آدمی ہیں کہ جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ ولید بن مسلم (دمشقی) نے ہمیں بتایا۔ اوزاعی نے ہم سے بیان کیا۔ نیز محمد بن یوسف نے کہا: اوزاعی نے ہم سے بیان کیا کہ زہری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عطاء بن یزید لیثی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: حضرت ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا۔ کہتے تھے: ایک اعرابی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپؐ سے ہجرت کے متعلق پوچھا۔ تو آپؐ نے فرمایا: ارے ہجرت تو بہت مشکل کام ہے۔ کیا تمہارے اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم ان کی زکوٰة دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا جس دن وہ پانی پلائے جاتے ہیں۔ اس دن دودھ دوہ کر کسی کو دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: ان سمندروں کے پار رہ کر بھی نیک اعمال کرتے رہو اللہ تمہارے عمل کا ثواب کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، کہا: ابواسحاق نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: پہلے جو ہمارے پاس آئے وہ مُصعب بن عمیر اور ابن امّ مکتوم تھے۔ پھر اس کے بعد عمار بن یاسر اور بلال رضی اللہ عنہم ہمارے پاس آئے۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابو اسحاق سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: پہلے جو ہمارے پاس آئے وہ مصعب بن عمیرؓ اور ابن امّ مکتومؓ تھے۔ جو لوگوں کو قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ پھر بلالؓ اور سعدؓ (بن ابی وقاص) اور عمار بن یاسرؓ۔ پھر اس کے بعد حضرت عمر بن خطابؓ نبی ﷺ کے بیس صحابہ سمیت آئے۔ اس کے بعد نبی ﷺ تشریف لائے۔ میں نے نہیں دیکھا کہ اہل مدینہ کسی بات پر اتنا خوش ہوئے ہوں جتنا رسول اللہ ﷺ کے آنے پر خوش ہوئے۔ یہاں تک کہ لونڈیاں بھی کہنے لگیں کہ رسول اللہ ﷺ آگئے۔ حضرت براءؓ کہتے تھے: آنحضرت ﷺ ابھی مدینہ میں تشریف نہیں لائے تھے کہ میں سورة الاعلیٰ اور بعض مفصل سورتیں پڑھ چکا تھا۔