بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن مرہ) سے، عمرو نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: چار شخصوں سے قرآن سیکھو۔ ابن مسعودؓ اور ابو حذیفہؓ کے غلام سالمؓ اور اُبَیّ (بن کعبؓ) اور معاذ بن جبلؓ سے۔
(تشریح)اسحاق (بن منصور) نے ہمیں بتایا کہ عبدالصمد نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت ابو اسیدؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار کے گھرانوں میں سے بہترین (گھرانہ) بنو نجار ہیں۔ پھر بنو عبدالاشہل، پھر بنو حارث بن خزرج، پھر بنو ساعدہ اور انصار کے تمام گھرانوں میں ہی بھلائی ہے۔ یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہؓ بولے اور وہ اسلام میں اعلیٰ پایہ کے تھے کہ میں سمجھتا ہوں: رسول اللہ ﷺ نے انہیں ہم سے افضل قرار دیا ہے۔ اس پر ان سے کہا گیا: آنحضرت ﷺ نے آپ کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن مرہ سے، عمرو نے ابراہیم سے، ابراہیم نے مسروق سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمروؓ (بن عاص) کے پاس حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا ذکر کیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے کہا: وہ ایسے شخص ہیں کہ مجھے ان سے ہمیشہ محبت رہی ہے۔ میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: چار شخصوں سے قرآن سیکھو: عبداللہ بن مسعودؓ سے، پہلے ان کا نام لیا اور سالمؓ سے جو ابو حذیفہؓ کے آزاد کردہ غلام تھے اور معاذ بن جبلؓ اور اُبَیّ بن کعبؓ سے۔
محمد بن بشار نے مجھے بتایا۔ غندر نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے شعبہ سے سنا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ نے اُبَیّؓ سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں سورة لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا پڑھ کر سناؤں۔ حضرت اُبَيؓ نے پوچھا: کیا میرا نام لیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت اُبَيّؓ یہ سن کر رو پڑے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ یحيٰ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ چار شخصوں نے نبی ﷺ کے زمانہ میں قرآن سارے کا سارا حفظ کیا۔ یہ سب انصاری تھے: حضرت اُبَیّ (بن کعبؓ) اور حضرت معاذ بن جبلؓ اور حضرت ابوزیدؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ۔ میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا: حضرت ابو زیدؓ کون تھے؟ انہوں نے کہا: میرے چچاؤں میں سے ایک تھے۔
(تشریح)ابو معمر نے ہمیں بتایا کہ عبد الوارث نے ہم سے بیان کیا کہ عبد العزیز (بن صہیب) نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: جب اُحد کی جنگ ہوئی لوگ شکست کھا کر نبی ﷺ سے ہٹنے لگے اور حضرت ابو طلحہؓ نبی ﷺ کے سامنے اپنی ایک چمڑے کی ڈھال سے آپؐ پر آڑ کئے رہے اور حضرت ابو طلحہؓ بڑے تیر انداز اور کمان کو زور سے کھینچنے والے تھے۔ انہوں نے اس دن دو یا تین کمانیں توڑ دیں اور جو کوئی آدمی تیروں کی ترکش لئے ادھر سے گزرتا آپؐ اسے فرماتے: ابو طلحہؓ کے لئے تیر بکھیر جاؤ۔ نبی ﷺ جو لوگوں کو دیکھنے کے لئے سر اٹھا کر جھانکتے تو حضرت ابو طلحہؓ کہتے: اے نبی اللہ! میرے ماں باپ آپؐ کے قربان۔ جھانکیں نہ، مبادا لوگوں کا تیر کہیں آپؐ کو لگ جائے۔ میرا سینہ آپؐ کے سینے کے آڑے ہے۔ اور میں نے حضرت عائشہؓ بنت ابی بکرؓ اور حضرت امّ سلیمؓ کو جو اپنی پنڈلیوں سے کپڑا چڑھائے ہوئے تھیں اور ان کے پاؤں کے زیور دکھائی دیتے تھے دیکھا کہ وہ پانی کی مشکیں اپنی پیٹھوں پر اٹھائے انہیں اچھالتے جلدی جلدی آتیں اور لوگوں کے منہ میں انہیں انڈیلتی جاتی تھیں۔ پھر وہ واپس جاتیں اور ان کو بھرتیں اور پھر آ کر لوگوں کے منہ میں ڈالتیں اور (اس دن) حضرت ابو طلحہؓ کے ہاتھوں سے تلوار دو یا تین دفعہ گر گئی تھی۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے مالک سے سنا۔ انہوں نے عمر بن عبید اللہ کے غلام ابوالنضر سے، انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے، عامر اپنے باپ سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو کسی شخص کے متعلق جو اس زمین پر چلتا ہو یہ کہتے نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے سوائے حضرت عبداللہ بن سلامؓ کے۔ حضرت سعدؓ نے کہا: انہی کے متعلق یہ آیت اتری: بنی اسرائیل میں سے ایک شاہد نے اپنے جیسے کے متعلق شہادت دی۔ عبداللہ بن یوسف نے کہا: میں نہیں جانتا، مالک نے یہ آیت اپنی طرف سے پڑھی یا حدیث میں ہے۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ازہر سمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن عون سے، ابن عون نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں مدینہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص اندر آیا۔ اس کے چہرے پر فروتنی کے آثار نمایاں تھے۔ لوگوں نے کہا: یہ شخص جنتیوں میں سے ہے۔ اس نے دو رکعت نماز پڑھی۔ انہیں مختصر کیا۔ پھر وہ نکل گیا اور میں اس کے پیچھے ہو لیا۔ میں نے کہا: جب آپ مسجد میں آئے تھے لوگ کہنے لگے: یہ شخص اہل جنت میں سے ہے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! کسی کو بھی نہیں چاہیے کہ وہ ایسی بات کہے جسے وہ جانتا نہیں اور میں تمہیں بتلائے دیتا ہوں کہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ میں نے نبی ﷺ کے زمانے میں ایک خواب دیکھا تھا جو میں نے آپؐ سے بیان کیا۔ میں نے دیکھا جیسے کہ میں ایک باغ میں ہوں اور انہوں نے اس باغ کی کشادگی اور سرسبزی کا ذکر کیا۔ اس کے درمیان لوہے کا ایک ستون ہے۔ پایا اس کا زمین میں ہے اور چوٹی اس کی آسمان میں۔ اس کے اوپر ایک کنڈا ہے۔ مجھے کہا گیا: چڑھ جاؤ۔ میں نے کہا: میں نہیں چڑھ سکتا۔ اتنے میں ایک خادم میرے پاس آیا۔ اس نے میرے کپڑوں کو میرے پیچھے سے اٹھایا۔ میں چڑھ گیا۔ یہاں تک کہ میں اس ستون کی چوٹی پر پہنچ گیا اور میں نے اس کنڈے کو پکڑ لیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ اسے تھامے رکھو۔ میں جاگ پڑا جبکہ وہ میرے ہاتھ میں ہی تھا۔ میں نے نبی ﷺ سے یہ خواب بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: وہ باغ ’’اسلام‘‘ ہے اور وہ ستون ’’اسلام کا ستون‘‘ ہے اور وہ کنڈا ’’عُرْوَةُ الْوُثْقٰی‘‘ ہے۔ تم مرنے تک اسلام پر ہی رہو گے اور وہ شخص حضرت عبداللہ بن سلامؓ تھے۔ اور (امام بخاریؒ کہتے تھے:) خلیفہ (بن خیاط) نے مجھ سے کہا: معاذ (عنبری) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عون نے ہمیں بتایا۔ محمد (بن سیرین) سے روایت ہے کہ قیس بن عباد نے ابن سلام سے روایت کی۔ انہوں نے مِنْصَف کی جگہ وَصِیْف کا لفظ بیان کیا جس کے معنے جوان خادم کے ہیں۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن ابی بردہ سے، سعید نے اپنے باپ (ابو بردہ عامر بن ابی موسیٰ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں مدینہ میں آیا اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا۔ انہوں نے کہا کہ کیا تم نہیں آؤ گے؟ میں تمہیں ستو اور کھجوریں کھلاؤں گا اور تم ایسے گھر میں داخل ہوگے (کہ جس میں آنحضرت ﷺ بھی تشریف لائے تھے۔) پھر کہنے لگے: تم ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں سود پھیلا ہوا ہے۔ اگر کسی شخص کے ذمہ تمہارا کوئی حق ہو اور وہ تمہیں توڑی (بھوسہ) یا جَو یا چارے کا گٹھہ ہدیہ بھیجے {تو تم اسے نہ لینا۔} کیونکہ وہ سود ہے اور نضر (بن شمیل) اور ابو داؤد (طیالسی) اور وہب (بن جریر) نے شعبہ سے گھر کا ذکر نہیں کیا۔
(تشریح)محمد (بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے حضرت علیؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے۔ اور صدقہ (بن فضل) نے (بھی) مجھ سے بیان کیا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا۔ وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم سے، حضرت علیؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے زمانہ میں دنیا کی عورتوں میں سے بہترین مریمؑ تھیں۔ اسی طرح اپنے زمانے میں دنیا کی عورتوں میں سے بہتر خدیجہؓ تھیں۔