بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ حُمَید طویل سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: انصار خندق کے روز یہ شعر پڑھتے تھے: ہم وہ ہیں جنہوں نے محمدؐ سے یہ بیعت کی کہ جب تک ہم زندہ رہیں گے ہمیشہ جہاد کرتے رہیں گے یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے ان کو یہ جواب دیا: اے اللہ ! زندگی تو آخرت کی ہی زندگی ہے اس لئے انصار اور مہاجرین سے کریمانہ سلوک فرمائیو۔
محمد بن عبیداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہلؓ (بن سعد) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ آئے اور ہم خندق کھود رہے تھے اور مٹی اپنی پیٹھوں پر ڈھو رہے تھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ ! زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے اس لئے مہاجرین اور انصار کو مغفرت سے نواز۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن داؤد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے فضیل بن غزوان سے، فضیل نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپؐ نے اپنی ازواج کی طرف (کسی کو) بھیجا۔ انہوں نے جواب دیا: ہمارے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس مہمان کو کون اپنے ساتھ رکھے گا؟ یا فرمایا: اسے کون مہمان ٹھہرائے گا؟ انصار میں سے ایک شخص بولا: میں۔ چنانچہ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ کے مہمان کی نہایت اچھی خاطر تواضع کرو۔ وہ بولی: ہمارے پاس کچھ نہیں مگر اتنا ہی کھانا جو میرے بچوں کیلئے مشکل سے کافی ہو۔ اس نے کہا: اپنے اس کھانے کو تیار کرلو اور چراغ بھی جلاؤ اور اپنے بچوں کو جب وہ شام کا کھانا مانگیں سلادینا۔ چنانچہ اس نے اپنا کھانا تیار کیا اور چراغ کو جلایا اور اپنے بچوں کو سلادیا۔ پھر اس کے بعد وہ اٹھی جیسے چراغ درست کرتی ہے۔ اس نے اس کو بجھا دیا۔ وہ دونوں اس مہمان پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ گویا وہ بھی کھا رہے ہیں مگر ان دونوں نے خالی پیٹ رات گزاری۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا۔ آپؐ نے فرمایا: آج رات اللہ ہنس پڑا، یا فرمایا: تمہارے دونوں کے کام سے بہت خوش ہوا، اور اللہ نے یہ وحی نازل کی: انصار اپنے آپ پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں اگر چہ خود انہیں محتاجی ہی ہو اور جو اپنے نفس کی کنجوسی سے بچائے جائیں وہی ہیں جو بامراد ہونے والے ہیں۔
(تشریح)محمد بن یحيٰ ابوعلی نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدان کے بھائی شاذان نے ہمیں بتایا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ بن حجاج نے ہمیں بتایا کہ ہشام بن زید سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ کہتے تھے: حضرت ابوبکر اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما انصار کی ایک مجلس پر سے گزرے اور وہ لوگ رو رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا بات رُلا رہی ہے؟ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کا ہم میں بیٹھنا ہمیں یاد آیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ نبی ﷺ کے پاس اندر گئے اور انہوں نے آپؐ کو یہ بتلایا۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے تھے: اس پر نبی ﷺ باہر آئے اور آپؐ نے اپنے سر پر چادر کا کنارہ باندھا ہوا تھا۔ آپؐ منبر پر چڑھے۔ پھر اس دن کے بعد آپؐ اس منبر پر نہیں چڑھے۔ آپؐ نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی۔ پھر اس کے بعد فرمایا: انصار کے متعلق میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ میری پونجی ہیں اور میرے محرم راز ہیں۔ ان کے ذمہ جو حق تھا وہ اس کو ادا کر چکے ہیں اور جو اُن کا حق ہے وہ باقی ہے۔ ان میں جو نیک ہو اُس کی قدر کرنا اور جو بُرا ہو اُس سے درگزر کرنا۔
احمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہ (عبدالرحمٰن بن سلیمان بن عبداللہ) بن (حنظلہ) غَسیل نے ہمیں بتایا کہ میں نے عکرمہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ باہر آئے اور آپؐ پر ایک چادر تھی جسے آپؐ اپنے دونوں مونڈھوں پر لپیٹے ہوئے تھے اور سر پر ایک چکنے کپڑے کی پٹی باندھی ہوئی تھی، آ کر منبر پر بیٹھ گئے۔ آپؐ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا: اما بعد، اے لوگو! آدمی تو بڑھتے جاتے ہیں اور انصار کم ہو رہے ہیں۔ کم ہوتے ہوتے کھانے میں نمک کی طرح رہ جائیں گے۔ اس لئے تم میں سے جو بھی امارت کا والی ہو جس کی وجہ سے وہ کسی کو نقصان پہنچا سکے یا نفع دے سکے تو چاہیے کہ انصار میں جو اچھا ہو اس کی قدر کرے اور جو بُرا ہو اس سے درگزر کرے۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: انصار میرا سرمایہ اور میرے محرم راز ہیں اور لوگ عنقریب بڑھتے جائیں گے اور یہ کم ہو جائیں گے۔ اس لئے ان میں جو اچھا ہو اس کی قدر کرنا اور جو برا ہو اس سے درگزر کرنا۔
(تشریح)ہمیں محمد بن بشار نے بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ابواسحاق سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: نبی ﷺ کو ایک جوڑا ریشمی کپڑے کا ہدیہ دیا گیا۔ آپؐ کے صحابہؓ اس کو چھونے لگے اور اس کی نرمی سے تعجب کرنے لگے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا اس کپڑے کی نرمی سے تمہیں تعجب ہے؟ سعد بن معاذؓ کے رومال تو اس سے بہتر ہوں گے، یا فرمایا: زیادہ نرم ہوں گے۔ یہ حدیث قتادہ اور زہری نے بھی روایت کی۔ ان دونوں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔
محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوعوانہ کے داماد فضل بن مساور نے ہمیں بتایا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوسفیان سے، ابوسفیان نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: سعد بن معاذؓ کی وفات پر عرش کانپ گیا۔ اور اعمش سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) ابوصالح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت جابرؓ سے، حضرت جابرؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی تو کسی شخص نے حضرت جابرؓ سے کہا: حضرت براءؓ تو یوں کہتے ہیں کہ اِھْتَزَّ الْعَرْشُ سے مراد یہ ہے کہ وہ تختہ جس پر حضرت سعدؓ کو رکھا گیا تھا وہ کانپنے لگا۔ اس پر حضرت جابرؓ نے کہا: بات یہ ہے کہ ان دو قبیلوں (یعنی اوس اور خزرج کے) کے دلوں میں دشمنی تھی۔ میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: سعد بن معاذؓ کی موت سے رحمٰن کا عرش تھرّا گیا۔
محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے، ابوامامہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ کچھ لوگ حضرت سعد بن معاذؓ کے فیصلہ کو قبول کرنے کی شرط پر قلعہ سے اتر آئے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت سعدؓ کو بلا بھیجا۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب مسجد کے قریب پہنچے تو نبی ﷺ نے فرمایا: تم اپنے میں سے بہتر کے استقبال کو اٹھو، یا فرمایا: اپنے سردار کے استقبال کو اٹھو۔ پھر آپؐ نے فرمایا: سعدؓ! یہ لوگ آپؓ کے فیصلہ پر اترے ہیں۔ انہوں نے کہا: پھر میں ان کے متعلق فیصلہ کرتا ہوں۔ یہ کہ ان میں جو لڑنے والے تھے انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے اہل و عیال قید کر لئے جائیں۔ آپؐ نے فرمایا: تم نے الٰہی منشاء کے مطابق فیصلہ کیا ہے، یا فرمایا: تم نے شاہانہ فیصلہ کیا ہے۔
(تشریح)علی بن مسلم نے ہم سے بیان کیا کہ حبان بن ہلال نے ہمیں بتایا۔ ہمام نے ہم سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی ایک اندھیری رات میں نبی ﷺ کے پاس سے نکلے۔ وہ کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے سامنے ایک روشنی ہے۔ جب وہ جدا ہوئے تو وہ روشنی بھی دو حصوں میں ہو گئی۔ اور معمر نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حضرت اسید بن حضیرؓ اور ایک اور انصاری شخص تھے۔ حماد نے کہا: ثابت نے حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ حضرت اُسید بن حضیرؓ اور حضرت عباد بن بشرؓ نبی ﷺ کے پاس تھے۔
(تشریح)