بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 81 hadith
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے۔ قتادہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے۔ اس لیے چاہیئے کہ اپنی دائیں طرف نہ تھو کے بلکہ اپنے بائیں پاؤں کے نیچے۔ اور سعید نے کہا: قتادہ سے مروی ہے کہ اپنے آگے یا اپنے سامنے نہ تھو کے بلکہ اپنے بائیں یا اپنے قدموں کے نیچے اور شعبہ نے کہا: اپنے آگے اور اپنی دائیں طرف نہ تھو کے بلکہ اپنی بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے اور حمید نے حضرت انس سے، حضرت انس نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے کہا: قبلہ کی طرف نہ تھو کے اور نہ اپنی دائیں طرف بلکہ اپنی بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے۔
Anas (r.a) reported that the Prophet (sa) said: ‘When any of you is praying, he is in communion with his Lord, so he should not spit to his right but underneath his left foot.’ Qatādah said: ‘He should not spit ahead or in front of himself, but to his left or underneath his feet.’ And Shuʿbah said: ‘Do not let him spit in front of himself or to his right but towards his left or underneath his foot.’ Anas (r.a) related that the Prophet (sa) said: ‘He should neither spit in the direction of the Qiblah, nor to his right, but to his left or underneath his foot.’
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: یزید بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: قتادہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت انس سے، حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپ نے فرمایا: سجدے میں اپنے جسم کو ٹھیک رکھو اور کتے کی طرح (کوئی) اپنے بازو نہ پھیلائے اور جب تھوکے تو اپنے سامنے نہ تھوکے اور نہ اپنی دائیں طرف کیونکہ وہ اپنے رب سے راز و نیاز کی باتوں میں مشغول ہوتا ہے۔
(تشریح)The Prophet (sa) said: ‘Keep the body balanced in sujūd – one should not stretch out their two arms like a dog. And if one needs to spit, he should neither spit in front of himself, nor to his right, for surely he is in communion with his Lord.’
ایوب بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوبکر نے ہمیں بتایا: سلیمان سے مروی ہے کہ صالح بن کیسان نے کہا: عبدالرحمن اعرج وغیرہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے مولی نافع نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت نقل کی کہ ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے اس کو بتایا کہ آپ نے فرمایا: جب گرمی شدت کی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت پڑھ لیا کرو کیونکہ گرمی کی شدت بھی جہنم کی ایک لپٹ ہے۔
ابن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: مجندر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا: مہاجر ابی حسن سے مروی ہے کہ انہوں نے زید بن وہب کو حضرت ابوذر سے روایت کرتے ہوئے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے مؤذن نے ظہر کے وقت اذان دی تو آپ نے فرمایا: ٹھنڈ ہونے دو، ٹھنڈ ہونے دو۔ یا فرمایا: انتظار کرو، انتظار کرو۔ اور فرمایا کہ گرمی کی شدت بھی جہنم کی ایک لیٹ ہے جب گرمی شدت کی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت پڑھو۔ (ہم نے انتظار کیا) یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔
Abū Dharr (r.a) narrated: ‘The muadhdhin [caller to Prayer] of the Prophet (sa) called out the Adhān for Ẓuhr, but the Prophet (sa) said: “Let it cool down, let it cool down.” Or he said: “Wait, wait.” Then, he said: “The intensity of the heat is a scorching blast from Hell, so when the heat intensifies, offer Prayer at a cooler hour.” [So we waited] until we saw the shade of the hillocks.’
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم نے زہری سے یہ حدیث یاد رکھی ہے۔ وہ سعید بن مسیب سے، سعید حضرت ابوہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ بنی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھ لیا کرو۔ کیونکہ گرمی کی سختی بھی جہنم کی لپٹ ہے۔
The Prophet (sa) said: ‘When the heat intensifies, offer the Prayer at a cooler hour, for surely, severity of heat is a scorching blast from Hell.’
‘And the fire complained to its Lord, saying: ‘O my Lord! One of my parts has devoured the other.’ At this, Allāh allowed it to take two breaths, one in winter and the other in summer. These are when you feel the severest heat and when you feel the severest cold.’
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے ہمیں بتایا، کہا: اعمش نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) ابو صالح نے ہمیں بتایا: حضرت ابوسعید سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت بھی جہنم کی ایک لپٹ ہے۔ اور سفیان اور سکی اور ابو عوانہ نے بھی اعمش سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح بیان کیا۔
(تشریح)Abū Saʿīd (r.a) related that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘Pray the Ẓuhr Prayer at a cooler period, for surely the intensity of heat is a scorching blast from Hell.’ This was also corroborated by Sufyān, Yaḥyá, and Abū ʿAwānah, all narrating from al-Aʿmash.
آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: مہاجر ابو حسن نے جو کہ بنی تیم اللہ کے مولی (آزاد کردہ غلام) تھے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے زید بن وہب سے سنا کہ حضرت ابوذر غفاری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے۔ موذن نے ظہر کی اذان دینے کا ارادہ کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ٹھنڈا ہونے دو۔ پھر کچھ دیر بعد اس نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ٹھنڈا ہونے دو۔ یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: گرمی کی شدت بھی جہنم کی ایک لپٹ ہے۔ جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈے وقت پر پڑھا کرو اور حضرت ابن عباس نے کہا: کے معنے کے ہیں یعنی سائے ڈھلتے ہیں۔
(تشریح)Abū Dharr al-Ghifārī (r.a) narrated: ‘We were with the Prophet (sa) on a journey and the muaʾdhdhin wished to call the Adhān for Ẓuhr. The Prophet (sa) said: “Let it get cooler.” Then, [after a while] he wanted to call the Adhān but the Prophet (sa) said: “Let it get cooler”, [so we waited] until we saw the shade of the hillocks. The Prophet (sa) said: “Surely, the intensity of heat is a scorching blast from Hell, so when the heat intensifies, offer Prayer at a cooler hour”.’ And Ibn ʿAbbās (r.a) said: ‘Tatafayyaʾu’ means ‘tatamayyalu’ [to incline].
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک نے مجھے بتایا کہ رسول الله ﷺ جب سورج ڈھل گیا تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی اور منبر پر کھڑے ہوئے اور موعودہ گھڑی کا ذکر کیا اور فرمایا: اس میں بڑے بڑے واقعات ہوں گے۔ پھر فرمایا: جو شخص کچھ پوچھنا چاہے تو پوچھ لے۔ تم جو کچھ بھی مجھ سے پوچھو گے میں تمہیں بتاؤں گا جب تک کہ میں اپنے اس مقام میں ہوں تو لوگ بہت روئے اور آنحضرت ﷺ نے کئی دفعہ فرمایا کہ مجھ سے پوچھو اس پر حضرت عبد الله بن حذافہ سہمی اٹھے اور کہا: میرا باپ کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا: حذافہ۔ پھر آپ نے بہت دفعہ فرمایا کہ مجھ سے پوچھو۔ اس پر حضرت عمرؓ اپنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور کہا: ہم راضی ہیں کہ اللہ ہمارا رب اور اسلام ہمارا دین اور محمد ہمارے نبی ہیں۔ آپ خاموش ہو گئے۔ پھر فرمایا: جنت اور آگ ابھی اس دیوار کی چوڑائی میں میرے سامنے پیش کی گئی تھیں تو میں نے ایسا خیر و شر کبھی بھی نہیں دیکھا۔
Anas ibn Mālik (r.a) related that the Messenger of Allāh (sa) came out when the sun declined and performed the Ẓuhr Prayer. Then, he stood on the pulpit and mentioned the Hour and said that grand events would take place in it. Then, he said: ‘Whoever wishes to ask anything, let him ask. I will tell you about whatever you ask me, as long as I am at this place of mine.’ So the people wept profusely and he said repeatedly: ‘Ask me.’ At this, ʿAbd Allāh ibn Ḥudhāfah al-Sahmī (r.a) stood up and asked: ‘Who is my father?’ The Prophet (sa) replied: ‘Your father is Ḥudhāfah’. Then, he said many times: ‘Ask me.’ ʿUmar (r.a) rose on his knees and said: ‘We are content with Allāh as our Lord, Islām as our religion, and Muḥammad (sa) as our Prophet.’ The Prophet (sa) became silent. Then, he said: ‘Paradise and Hell were just now presented before me in the direction of this wall, and I had never seen such a good and a bad sight as that.’
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابومنہال سے۔ ابومنہال نے حضرت ابو برزہؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ صبح کی نماز پڑھا کرتے اور (حالت یہ ہوتی کہ) ہم میں سے ایک اپنے ساتھی کو پہچان سکتا اور آپ اس نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آنتوں تک پڑھتے تھے۔ جب سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھا کرتے اور اسی طرح عصر ایسے وقت میں پڑھتے کہ ہم میں سے کوئی (عصر پڑھ کر) مدینہ کے پر لے کنارے جاتا پھر وہ لوٹ آتا اور سورج ابھی روشن ہوتا اور میں بھول گیا ہوں جو (حضرت ابو برزہؓ) نے مغرب سے متعلق کہا تھا اور آپ رات کی تہائی تک عشاء میں تاخیر کرنے کی پرواہ نہ کرتے۔ پھر (ابومنہال نے) کہا: رات کے نصف تک اور معاذ نے کہا: شعبہ کہتے تھے: میں اُن (ابو منہال) سے ایک دفعہ ملا تو انہوں نے کہا: رات کی تہائی تک۔
Abū Minhāl narrated via Abū Barzah (r.a): ‘The Prophet (sa) would offer the Morning Prayer when one of us could [just about] recognise the person sitting next to him, and he would recite during it between 60 and 100 [verses of the Holy Qurʾān]. He would offer Ẓuhr when the sun would decline, and ʿAṣr when one of us [having offered ʿAṣr Prayer] could go to the far end of Madīnah and return and the sun would still be bright. I [Abū al-Minhāl] forgot what Abū Barzah (r.a) said about the Maghrib Prayer. He did not mind delaying the ʿIshāʾ Prayer to one-third of the night.’ Then he said: ‘To the middle of the night’ and Muʿādh related that Shuʿbah said: ‘I met Abū al-Minhāl once and he said: “Or one-third of the night”.’