بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 81 hadith
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہمیں عبداللہ نے بتایا، کہا: خالد بن عبدالرحمن نے ہمیں بتایا کہ غالب قطان نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے بکر بن عبداللہ مزنی سے، بکر نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم جب رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ظہر کی نمازیں پڑھتے تو ہم گرمی سے بچنے کے لئے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے۔
(تشریح)Anas ibn Mālik (r.a) reported: ‘When we would offer our Ẓuhr Prayers behind the Messenger of Allāh (sa), we performed sujūd on our clothes to protect ourselves from the heat.’
ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے جابر بن زید سے، جابر نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے مدینہ میں آٹھ رکعتیں نماز ظہر اور عصر کی اور سات رکعتیں مغرب و عشاء کی اکٹھی پڑھیں۔ اس پر ایوب نے کہا: شاید یہ برساتی رات میں ہو۔ کہا: ہو سکتا ہے۔
(تشریح)Ibn ʿAbbās (r.a) related that the Prophet (sa) in Madīnah offered eight rakaʿāt of Prayer at Ẓuhr and ʿAṣr and seven rakaʿāt of Prayer at Maghrib and ʿIshāʾ. Ayyūb said: ‘Perhaps it was on a rainy night.’ Jābir replied: ‘It may have been so.’
ابرہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا، کہا: انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز پڑھا کرتے اور ابھی دھوپ ان کے کمرے کے اندر سے نہ نکلی ہوتی۔
ʿĀʾishah (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) would offer the ʿAṣr Prayer while sunlight had not yet left her room.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہمیں لیث نے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی اور دھوپ ابھی کمرہ ہی میں تھی اور سایہ ان کے کمرے سے نکل کر (دیوار پر نہیں چڑھا تھا۔
ʿĀʾishah (r.a) said that the Messenger of Allāh (sa) offered the ʿAṣr Prayer while sunlight was still in her room and a shadow had not yet appeared in her room.
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔ فرماتی تھیں: نبی ﷺ عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ دھوپ ابھی میرے کمرے میں ہوتی، سایہ ابھی نہ چڑھتا۔ اور مالک اور یحی بن سعید اور شعیب اور ابن ابی حفصہ نے کہا: اور دھوپ (ان کے کمرے میں ہوتی) پیشتر اس کے کہ سایہ چڑھتا۔
ʿĀʾishah (r.a) related: ‘The Prophet (sa) would offer the ʿAṣr Prayer while sunlight would still be in my room and a shadow had not yet appeared.’ And Mālik and Yaḥyá Ibn Saʿīd and Shuʿaib and Ibn Abū Ḥafsah said: ‘And sunshine would still be in her chamber before shadows rose.’
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں بتایا، کہا: عوف نے سیار بن سلامہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: میں اپنے باپ کے ساتھ حضرت ابو برزہ اسلمی کے ہاں گیا اور میرے باپ نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ فرض نماز کیسے پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ دو پہر کی نماز جس کو تم پیشیں کہتے ہو اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا اور عصر کی نماز (ایسے وقت میں) پڑھا کرتے تھے کہ پھر ہم میں سے ایک اپنے ٹھکانے میں جو کہ شہر کے سب سے دور حصے میں ہوتا واپس چلا جاتا اور سورج ابھی روشن ہوتا اور جو انہوں نے مغرب سے متعلق کہا تھا وہ میں بھول گیا اور آپ عشاء میں جسے تم عَتَمَه (اندیر) کہتے ہو تاخیر پسند فرماتے تھے اور اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد بات کرنا ناپسند فرماتے اور آپ صبح کی نماز سے ایسے وقت (فارغ ہوکر) پھر تے کہ جب آدمی اپنے ساتھی کو پہچان لیتا اور آپ ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھتے۔
Sayyār ibn Salāmah narrated: ‘My father and I came to Abū Barzah al-Aslamī (r.a). My father asked him: “How would the Messenger of Allāh (sa) offer the prescribed Prayers?” Abū Barzah (r.a) said: “The Prophet (sa) would offer the midday Prayer [Ẓuhr] which you call the first, when the sun would decline, and he would offer ʿAṣr at a time when one of us could return to his home in the furthest part of Madīnah and the sun would still be bright.” – [The narrator said:] ‘I forgot what he narrated about the Maghrib Prayer’ – “He liked to postpone the ʿIshāʾ Prayer, which you call al-ʿAtamah, and he disliked sleeping prior to it and talking afterwards. And he would finish the Morning Prayer at a time when a man could recognise the person sitting next to him, and he would recite 60 to 100 [verses of the Holy Qurʾān].”’
عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے اسحاق بن عبد اللہ ابن ابی طلحہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم عصر پڑھتے پھر انسان بنی عمرو بن عوف کو جاتا تو انہیں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا۔
Anas ibn Mālik (r.a) said: ‘We would offer the ʿAṣr Prayer and then, if an individual set out towards [the tribe] Banū ʿAmr ibn ʿAwf, he would find them praying ʿAṣr.’
ابن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابوبکر بن عثمان بن سہل بن حنیف نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے ابو امامہ کو کہتے سنا کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر ہم نکل کر حضرت انس بن مالک کے پاس آئے تو ہم نے انہیں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ میں نے کہا: چا! یہ کیا نماز تھی جو آپ نے پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: عصر اور یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔
Abū Umāmah narrated: ‘We offered the Ẓuhr Prayer with ʿUmar ibn ʿAbd al-ʿAzīz. Then, we went out until we encountered Anas ibn Mālik (r.a) while he was offering the ʿAṣr Prayer. I asked: “O Uncle! What was this Prayer which you offered?” He said: “ʿAsr, and this is the Prayer of the Messenger of Allāh (sa) which we would offer with him.”’
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک نے مجھے بتایا، کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم عصر کی نماز پڑھتے اور سورج ابھی بلند اور روشن ہوتا اور جانے والا عوالی کو جاتا اور اُن کے پاس ایسے وقت پہنچتا کہ سورج ابھی بلند ہوتا اور مدینہ سے بعض عوالی چار میل یا اس کے قریب ہیں۔
Anas ibn Mālik (r.a) reported: ‘The Prophet (sa) would offer the ʿAṣr Prayer while the sun was high and bright, and a person going to al-ʿAwālī could reach the people there while the sun was still high. Certain parts of al-ʿAwālī were approximately four miles away from Madīnah.’
عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم عصر کی نماز پڑھتے پھر ہم میں سے جانے والا قباء کی طرف جاتا وہ ان کے پاس آتا اور سورج ابھی بلند ہوتا۔
(تشریح)Anas ibn Mālik (r.a) narrated: ‘We would pray ʿAṣr and afterwards, someone from among us would go to Qubāʾ, and reach the people there while the sun would still be high.’