بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 81 hadith
آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا، کہا: عمرو بن دینار نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے جابر بن زید سے سنا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے سات رکعتیں اکٹھی اور آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھیں۔
(تشریح)Ibn ʿAbbās (r.a) narrated that the Prophet (sa) prayed seven rakaʿāt together and eight rakaʿāt together.
ابو معمر نے جو کہ عبد اللہ بن عمرو ہیں ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوارث نے ہمیں بتایا کہ حسین سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن بریدہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حضرت عبداللہ مزنی نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اہل بادیہ تمہاری مغرب کی نماز کے نام میں تمہیں مغلوب نہ کر دیں۔ (حضرت عبداللہ مزنی نے) کہا: اہل بادیہ کہتے ہیں مغرب عشاء ہی ہے۔
(تشریح)ʿAbd Allāh al-Muzanī (r.a) narrated that the Prophet (sa) said: ‘The Bedouins should certainly not overcome you in respect to the naming of your Maghrib Prayer.’ He [ʿAbd Allāh al-Muzanī (r.a)] further said: ‘The Bedouins say that it is ʿIshāʾ.’
عبدان نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں بتایا، کہا: یونس نے ہم سے بیان کیا۔ زہری سے مروی ہے کہ سالم نے کہا: عبداللہ نے مجھے بتایا، کہا: رسول اللہ ﷺ نے ایک رات عشاء کی نماز ہمیں پڑھائی اور وہ وہی ہے جس کو لوگ عتمہ کہتے ہیں۔ پھر آنحضرت ﷺ پھرے اور ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم نے اپنی اس رات کے بارے میں غور کیا ہے۔ اس سے ایک سو سال کے آخر تک ان میں سے جو زمین پر ہیں؛ کوئی باقی نہیں رہے گا۔
(تشریح)ʿAbd Allāh (r.a) narrated: ‘One night, the Messenger of Allāh (sa) led us in the ʿIshāʾ Prayer, and this is the Prayer which people call ʿAtamah. Then, he finished and turned his attention to us and said: “Have you pondered over this night of yours? For surely, at the end of a hundred years [from this night], nobody who is on the face of this earth [today] will remain”.’
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے محمد بن عمرو سے جو کہ حسن بن علی کے بیٹے ہیں روایت کی کہ وہ کہتے تھے: ہم نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے نبی ﷺ کی نماز سے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا: آپ ظہر تو دوپہر کے بعد پڑھا کرتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج ابھی روشن ہوتا اور مغرب ایسے وقت میں پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا اور عشاء جب لوگ زیادہ ہو جاتے تو جلدی پڑھتے اور جب کم ہوتے تو تاخیر فرماتے اور صبح اندھیرے میں پڑھتے۔
(تشریح)Muḥammad ibn ʿAmr, who was the son of al-Ḥasan ibn ʿAlī, narrated that they asked Jābir ibn ʿAbd Allāh (r.a) about the Prayer of the Prophet (sa), and he replied: ‘He would offer the Ẓuhr Prayer in the early afternoon, the ʿAṣr Prayer when the sun was still bright and the Maghrib Prayer when it would set. He would offer the ʿIshāʾ Prayer sooner when the people were many, and he would delay it when they were few. [He would offer] the Morning Prayer when it was still dark.’
یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے تحصیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ نے انہیں خبر دی۔ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک رات عشاء کی نماز میں بہت دیر کر دی اور یہ (واقعہ) اسلام پھیلنے سے پہلے کا ہے۔ آپ باہر نہیں آئے۔ یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے کہا: عورتیں اور بچے سو گئے ہیں۔ اس پر آپ باہر آئے اور مسجد والوں سے فرمایا کہ زمین کے باشندوں میں سے کوئی تمہارے سوا اس کا انتظار نہیں کر رہا۔
ʿUrwah narrated that ʿĀʾishah (r.a) told him: ‘The Messenger of Allāh (sa) delayed the ʿIshāʾ Prayer one night, and this was before Islām had spread. He did not come out until ʿUmar (r.a) said: “The women and children have fallen asleep.” Then, he came out and said to the worshippers in the mosque: “None of the dwellers of the earth is waiting for it except you”.’
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بُرید سے، بُرید نے ابی بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابوموسیٰ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں اور میرے اُن ساتھیوں نے جو میرے ساتھ کشتی میں آئے تھے بطحان کے میدان میں ڈیرے لگائے ہوئے تھے اور نبی ﷺ مدینہ میں تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ ہر رات نماز عشاء کے وقت نبی ﷺ کے پاس باری باری جایا کرتے تھے۔ میں اور میرے ساتھی اتفاقاً نبی ﷺ کے پاس ایسے وقت پہنچے کہ آپ اپنے کسی کام میں مشغول تھے۔ آپ نے نماز میں دیر کر دی۔ یہاں تک کہ آدھی رات ہو گئی۔ پھر نبی ﷺ باہر تشریف لائے اور آپ نے نماز پڑھائی۔ جب آپ اپنی نماز پڑھ چکے تو آپؐ نے اُن سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا: ٹھہرو! ذرا خبردار خوش ہو کہ تم پر یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، لوگوں میں سے تمہارے سوا کوئی بھی ایسا نہیں جو اس وقت نماز پڑھ رہا ہو یا فرمایا کہ اس گھڑی تمہارے سوا کسی نے بھی نماز نہیں پڑھی۔ وہ نہیں جانتے کہ ان دو باتوں میں سے کون سی بات فرمائی۔ (ابو بردہ نے) کہا: حضرت ابوموسیٰ کہتے تھے: ہم رسول اللہ ﷺ کی بات سن کر خوشی خوشی لوٹے۔
(تشریح)Abū Mūsá (r.a) narrated: ‘My companions and I, who had come with me by boat, had stopped off in the plain of Buṭḥān while the Prophet (sa) was in Madīnah. Some of them would take turns visiting the Prophet (sa) for the ʿIshāʾ Prayer each night. We coincidentally visited the Prophet (sa) when he was engaged in some of his affairs, and he delayed the Prayer until midnight. Then the Prophet (sa) came out and led them in Prayer. When he completed his Prayer, he said to those present with him: “Remain where you are and rejoice, for among the blessings of Allāh upon you is that there is not a single person who is offering Prayer at this time except you.” Or he said: “No-one has offered Prayer at this time except you”.’ He [the narrator] does not know which of the two statements the Prophet (sa) made. Abū Mūsá (r.a) said: ‘We returned, joyful at what we had heard from the Messenger of Allāh (sa).’
محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبد الوہاب ثقفی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: خالد حذاء نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو منہال سے، ابو منہال نے ابو برزہ سے روایت کی کہ رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور اس کے بعد بات کرنا نا پسند فرماتے تھے۔
Abū Barzah (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) disliked sleeping before the ʿIshāʾ Prayer and talking after it.
ایوب بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوبکر نے مجھے بتایا۔ سلیمان سے مروی ہے کہ صالح بن کیسان نے کہا: ابن شہاب نے مجھے خبر دی۔ عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ کہتی تھیں: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں اتنی دیر کردی کہ حضرت عمر نے آپ کو آواز دی: نماز پڑھئے، عورتیں اور بچے سو گئے۔ آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا: زمین کے باشندوں میں سے تمہارے سوا کوئی بھی اس کے انتظار میں نہیں۔ (عروہ) کہتے تھے: اس زمانہ میں صرف مدینہ میں ہی نماز پڑھی جاتی تھی اور لوگ شفق غائب ہونے سے لے کر رات کی پہلی تہائی تک جو وقت ہے اس میں نماز (عشاء) پڑھا کرتے تھے۔
ʿUrwah narrated that ʿĀʾishah (r.a) said: ‘The Messenger of Allāh (sa) delayed the ʿIshāʾ Prayer until ʿUmar (r.a) called him, saying: “Let us pray. The women and children have fallen asleep.” So he came out and said: “None of the dwellers of the earth are waiting for it except yourselves”.’ ʿUrwah said: ‘Prayer would only be performed in those days in Madīnah, and they would offer [the ʿIshāʾ Prayer] in between the end of twilight and the first third of the night.’
محمود نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ کہا: ابن جریج نے مجھے خبر دی۔ کہا: نافع نے مجھے بتایا، کہا: حضرت عبداللہ بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات مصروفیت کی وجہ سے عشاء کو نہ آئے اور اس میں تاخیر کر دی یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے۔ پھر ہم جاگے اور پھر سو گئے۔ پھر جاگے۔ اس کے بعد نبی ﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا: زمین کے باشندوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے جو تمہارے سوا نماز کی انتظار میں ہو۔ اور حضرت ابن عمرؓ پرواہ نہیں کرتے تھے کہ اس کو پہلے پڑھیں یا پیچھے، اگر انہیں خوف نہ ہوتا کہ نیند اُن پر اس قدر غالب ہو جائے گی کہ عشاء کا وقت جاتا رہے گا اور کبھی وہ عشاء سے پہلے بھی سو جاتے تھے۔ ابن جریج کہتے تھے: میں نے عطاء کو یہ بتایا۔
ʿAbd Allāh ibn ʿUmar (r.a) narrated: ‘The Messenger of Allāh (sa) was kept occupied away from Prayer one night, so he delayed it until we fell asleep in the mosque. We awoke, then fell asleep again and awoke once more. Afterwards, the Prophet (sa) came out to us and said: “None of the dwellers of the earth are waiting for the Prayer except you”.’ Ibn ʿUmar (r.a) was not against offering it earlier or later, were it not for fear that sleep would overcome him at its time, and he would sometimes fall asleep before it. Ibn Juraij said that he mentioned this to ʿAṭāʾ.
تو انہوں نے کہا: میں نے بھی حضرت ابن عباس سے سنا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات عشاء میں اتنی دیر کر دی کہ لوگ سو گئے اور جاگے اور سو گئے اور جاگے۔ تب حضرت عمر بن خطاب اُٹھے اور کہا: نماز پڑھائیں۔ عطاء کہتے تھے کہ حضرت ابن عباس نے کہا: تب نبی ﷺ باہر تشریف لائے۔ گویا میں آپ کو اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا ہوا تھا اور آپ نے فرمایا کہ اگر یہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں ضرور ان کو حکم دیتا کہ وہ اس کو ایسے ہی وقت میں پڑھا کریں۔ میں (ابن جریج) نے عطاء سے پختہ طور پر معلوم کرنے کے لئے پوچھا کہ نبی ﷺ نے اپنے سر پر ہاتھ کیسے رکھا ہوا تھا جیسا کہ حضرت ابن عباس نے ان کو بتایا تو عطاء نے اپنی انگلیاں تھوڑی سی کھولیں۔ پھر انہوں نے اپنی انگلیوں کے سروں کو سر کے سامنے کی طرف رکھا۔ پھر انہیں سر پر پھیرتے ہوئے اس طرح ملا دیا کہ اُن کا انگوٹھا کان کے اس کنارے کو چھوتا تھا جو چہرہ سے ملا ہوا کنپٹی اور داڑھی کے سرے پر ہے۔ (بالوں کو) نہ نچوڑ رہے تھے اور نہ پکڑ کر اکٹھا کیا ہوا تھا۔ مگر کچھ ایسا ہی تھا۔ اور فرمایا: اگر یہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں حکم دیتا کہ وہ ایسے وقت میں (یہ) نماز پڑھا کریں۔
(تشریح)And he [ʿAṭāʾ] reported that he heard Ibn ʿAbbās (r.a) say: ‘One night, the Messenger of Allāh (sa) delayed the ʿIshāʾ Prayer until the people fell asleep, then awoke, then fell asleep again and awoke once more. Then, ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (r.a) stood up and said: “Let us pray.” ʿAṭāʾ relates that Ibn ʿAbbās (r.a) said: ‘The Prophet (sa) emerged, and I recall as if I am seeing him even now, with water dripping from his head while his hand rested upon it. He said: “Had I not feared that it would be hard for my Ummah, I would have instructed them to offer Prayer at this time.” I [Ibn Juraij] sought to ascertain from ʿAṭāʾ as to how the Prophet (sa) placed his hands over his head, as Ibn ʿAbbās (r.a) had described. Hence, ʿAṭāʾ parted his fingers slightly. He placed his fingertips towards the front of his head. Then, he merged them, passing them in said manner over his head, until his thumb touched the edge of his ear, near his face, where his temple and the side of his beard were. He was not pressing [his hair], nor had he collected it together, but it was something similar, and he said: “Had I not feared that it would be hard for my Ummah, I would have instructed them to offer Prayer at this time”.’