بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 1 of 81 hadith
ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: معتمر بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ کہا: میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عثمان نے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرے سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ اصحاب الصفہ محتاج لوگ تھے اور نبی ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس دو کا کھانا ہو، وہ تیسرے کو (اپنے ساتھ) لے جائے۔ اگر چار کا ہو تو پانچویں یا کہا: چھٹے کو لے جائے) اور حضرت ابوبکر تین کو لائے اور نبی ﷺ دس کو لے گئے۔ حضرت عبدالرحمن نے کہا: میں اور میرا باپ اور میری ماں تھیں۔ مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے کہا: اور میری بی بی اور ایک نوکر جو ہمارے اور حضرت ابوبکر کے گھر کے درمیان مشترک تھا اور حضرت ابوبکر نبی ﷺ کے پاس رات کا کھانا کھا چکے تھے اور پھر وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھی گئی۔ اس کے بعد وہ لوٹ گئے اور وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ نبی ﷺ نے عشاء کا کھانا کھایا۔ پھر جتنی دیر کہ اللہ نے چاہا کچھ رات گزرنے کے بعد وہ آئے۔ اُن کی بی بی نے ان سے کہا: آپ کو کس نے اپنے مہمانوں سے یا کہا: اپنے مہمان سے روکے رکھا؟ انہوں نے جواب دیا: کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا؟ انہوں نے کہا: مہمانوں نے آپ کے آنے تک (کھانا کھانے سے) انکار کر دیا۔ ان کے سامنے کھانا تو پیش کیا گیا تھا مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ حضرت عبدالرحمن نے کہا: میں چلا گیا اور چھپ گیا۔ یہ سن کر کہنے لگے: ارے بیوقوف نکئے! اور اسی طرح برا بھلا کہا۔ اور (گھر والوں سے) کہا: کھاؤ تمہیں ہضم نہ ہو اور حضرت ابوبکر نے کہا: اللہ کی قسم! میں ہرگز نہیں کھاؤں گا۔ (حضرت عبد الرحمن کہتے تھے: اللہ کی قسم ہم لقمہ بھی لیتے تھے تو اس کے نیچے سے اس سے بھی زیادہ بڑھ جاتا۔ کہتے تھے: سب سیر ہو گئے اور وہ کھانا پہلے سے بھی زیادہ ہو گیا۔ حضرت ابو بکر نے جو اس کو دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ویسے کا ویسا ہی ہے یا اس سے بھی زیادہ تو انہوں نے اپنی بی بی سے کہا: بنی فراس کی بہن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ قسم ہے مجھے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کی کہ وہ (کھانا) پہلے کی نبت تین گنا زیادہ ہے۔ تب حضرت ابو بکر نے اس سے کھایا اور کہا: وہ قسم تو شیطان سے تھی۔ پھر اس میں سے ایک لقمہ کھایا اور اس کو نبی ﷺ کے پاس اُٹھا کر لے گئے اور وہ (کھانا) آپ کے پاس صبح تک رہا اور ہمارے اور ایک قوم کے درمیان معاہدہ تھا اور میعاد گزر گئی تھی تو ہم نے بارہ آدمیوں کو علیحدہ علیحدہ بٹھایا ہے اور ان میں سے ہر ایک آدمی کے ساتھ کچھ لوگ تھے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہر ایک کے ساتھ کتنے تھے تو سبھی نے اس میں سے کھایا۔ ایسے ہی کچھ یا جیسے راوی نے بیان کیا۔
(تشریح)Abū ʿUthmān said that ʿAbd al-Raḥmān ibn Abū Bakr (r.a) narrated: ‘The Aṣhāb al-Ṣuffah were poor people and the Prophet (sa) said: “Whoever has food for two should take [with him] a third. And if he has food for four, he should take [with him] a fifth or he said a sixth.” Abū Bakr (r.a) brought three people and the Prophet (sa) set forth with ten. It was my father, my mother and I.’ He [Abū ʿUthmān] mentions that he did not know whether he [ʿAbd al-Raḥmān (r.a)] had said: “And my wife and a servant who served in our house and the house of Abū Bakr.” ‘Abū Bakr (r.a) had supper with the Prophet (sa) and then remained there until the ʿIshāʾ Prayer was offered. Then he went back and stayed there until the Prophet (sa) had taken his supper. When Abū Bakr (r.a) came home, after as much of the night had passed as Allāh willed, his wife asked him: “What held you back from your guests?” Or she said: “Your guest”. He responded: “Have you not served them their supper?” She said: “They refused to eat until you came. They were offered it but they declined”.’ ʿAbd al-Raḥmān (r.a) further relates: ‘I went away and hid myself and Abū Bakr (r.a) said: “O foolish one!” And he reprimanded me in similar fashion. He said: “Eat it and let it not prove agreeable to you”, and he swore by God that he would not eat it at all. By Allāh, whenever we took a morsel, more than its equal increased from underneath, until everyone was satiated, and yet the food had increased in quantity to more than what it was before. Abū Bakr (r.a) looked at it and it was the same or more than it had been beforehand. So he said to his wife: “O sister of Banū Firās, what is this?” She replied: “By the delight of my eyes! It is now three times more than it was before.” Abū Bakr (r.a) ate from it and said referring to his oath: “It was only from satan”, then he ate a morsel of it and carried it to the Prophet (sa) where it remained with him until the morning. There was a treaty between us and some people, and its term had expired, so we separated 12 people. Each one of those men had some people with him. Allāh alone knows how many were with each man.’ ‘They all ate of it’, or as ʿAbd al-Raḥmān (r.a) reported.