بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 81 hadith
عبد الرحیم محاربی نے ہم سے بیان کیا، کہا: زائدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید طویل سے، حمید نے حضرت انس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے عشاء کی نماز میں آدھی رات تک تاخیر کر دی۔ پھر آپ نے نماز پڑھی اور فرمایا: لوگ نماز پڑھ کے اور سو گئے۔ مگر دیکھو تم لوگ تو نماز میں ہی تھے جب تک تم اس کی انتظار کرتے رہے اور ابن ابی مریم نے اس کے علاوہ یہ بیان کیا کہ یحی بن ایوب نے ہمیں بتایا کہ حمید نے مجھ سے بیان کیا اور انہوں نے حضرت انس سے سنا: گویا کہ میں آپ کی انگوٹھی کی چمک اب بھی دیکھ رہا ہوں جو اُس رات تھی۔
(تشریح)Anas (r.a) said: ‘The Prophet (sa) delayed the ʿIshāʾ Prayer until midnight. Then he offered it and said: “The people have prayed and gone to sleep, but you have been in Prayer for as long as you were waiting for it.” Ḥumaid reported that he heard Anas (r.a) say: ‘It is as if I can still see the gleam of his ring that night.’
مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: جی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل سے روایت کی (کہا :) قیس نے ہمیں بتایا۔ حضرت جریر بن عبداللہ نے مجھ سے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے۔ اتنے میں آپ نے چودھویں کی رات چاند کو دیکھا اور فرمایا: سنو کہ تم یقینا اپنے رب کو دیکھو گے اسی طرح جس طرح کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ تمہیں اس بات کی ضرورت نہ ہوگی کہ تم ایک دوسرے سے لپٹ کر پوچھو کہ دکھاؤ کہاں ہے؟ یا یہ فرمایا تمہیں اس کے دیکھنے میں شبہ نہ ہوگا۔ پس اگر تم سے ہو سکے تم اس نماز کے پڑھنے میں مغلوب نہ ہونا جو سورج نکلنے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے ہے تو پھر ایسا ہی کرو۔ پھر آپ نے پڑھا: اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے تسبیح کیا کرو۔ ابوعبداللہ نے کہا: ابن شہاب نے اسمعیل سے روایت کرتے ہوئے یہ بڑھایا: حضرت جریر سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ضرور تم اپنے رب کو کھلم کھلا دیکھو گے۔
Jarīr ibn ʿAbd Allāh (r.a) narrated: ‘We were with the Prophet (sa) when he looked towards the full moon and said: “Listen, you will certainly see your Lord as you see this moon. You will not need to inquire from one another as to His whereabouts in order to see Him.” Or he said: “You will have no doubt in seeing Him”. Thus, if you can avoid missing the Prayer before sunrise and before sunset, then do so.” Then, he recited: “And glorify your Lord with His praise, before the rising of the sun and before its setting”.’ Abū ʿAbd Allāh al-Bukhārī (rh) said that Ibn Shihāb added, on the authority of Ismāʿīl, that Jarīr reported that the Prophet (sa) said: ‘You will surely see your Lord openly.’
بد به بن خالد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہمام نے ہمیں بتایا کہ ابو جمرہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوبکر بن ابی موسیٰ سے، ابوبکر نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دو ٹھنڈے وقتوں کی نماز پڑھی تو وہ جنت میں داخل ہوا اور ابن رجاء نے کہا: ہمام نے ہمیں بتایا۔ ابو جمرہ سے مروی ہے کہ ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے بھی ان کو یہی بتایا۔ اسحاق نے ہمیں بتایا۔ حبان سے مروی ہے کہ ہمام نے ہم سے بیان کیا۔ ابو جمرہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبکر بن عبداللہ سے۔ انہوں نے اپنے باپ سے۔ ان کے باپ نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی۔
(تشریح)Abū Mūsá (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘He who offers the Prayers of the two cool periods shall enter Paradise.’
عمر و بن عاصم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس سے روایت کی کہ حضرت زید بن ثابت نے ان سے بیان کیا: انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ سحری کھائی۔ پھر وہ نماز کے لئے اُٹھے۔ میں نے پوچھا کہ کھانے اور نماز کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے جواب دیا: بقدر پچاس یا ساٹھ آیت۔
Anas (r.a) said that Zaid ibn Thābit (r.a) informed him that they ate the saḥūr [pre-dawn meal] with the Prophet (sa) and then stood up for the Prayer. ‘I [Anas] asked: “What was the interval of time between the two?” He replied: “The equivalent of 50 or 60, meaning [50 to 60] verses [of the Qurʾān]”.’
حسن بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے روح سے سنا۔ (انہوں نے کہا:) سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی کہ نبی ﷺ اور حضرت زید بن ثابت نے سحری اکٹھی کھائی۔ جب دونوں اپنی سحری کھانے سے فارغ ہو گئے تو نبی ﷺ نماز کے لئے اُٹھے اور دونوں نے نماز پڑھی۔ ہم نے حضرت انس سے کہا: ان کے سحری سے فارغ ہونے اور نماز کے شروع کرنے کے درمیان کتنا فاصلہ تھا۔ انہوں نے کہا: جتنی دیر میں آدمی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہے۔
Anas ibn Mālik (r.a) narrated that the Prophet (sa) and Zaid ibn Thābit (r.a) ate the saḥūr together. When they had finished, the Prophet (sa) stood for [Fajr] Prayer and they both prayed. We asked Anas (r.a): ‘What was the interval of time between them finishing their saḥūr and starting the Prayer?’ He replied: ‘The time required for a man to recite 50 verses [of the Qurʾān.]’
اسماعیل بن ابی اولیس نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے بھائی سے، ان کے بھائی نے سلیمان سے، سلیمان نے ابو حازم سے روایت کی کہ انہوں نے سہل بن سعد سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں اپنے کنبے کے ساتھ سحری کھایا کرتا تھا تو مجھے جلدی ہوتی کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پالوں۔
Abū Ḥāzim narrated that he heard Sahl ibn Saʿd say: ‘I would eat the saḥūr with my family. I would then make haste to be in time to join the Fajr Prayer with the Messenger of Allāh (sa).’
یحی بن بگیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا: حضرت عائشہ نے انہیں خبر دی۔ فرماتی تھیں: مومن عورتیں صبح کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھا کرتی تھیں۔ اپنی اوڑھنیوں میں لپٹی ہوئی ہوتیں۔ پھر جب وہ نماز ادا کر چکتیں تو اپنے گھروں کو لوٹ جاتیں۔ اندھیرے کی وجہ سے کوئی اُن کو نہ پہچانتا۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) narrated: ‘Believing women would attend the Fajr Prayer behind the Messenger of Allāh (sa), wrapped in their cloaks. Then, they would return to their homes when they had completed the Prayer. No-one would recognise them in the dark.’
عبد الله بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے زید بن اسلم سے، زید بن اسلم نے عطا بن بیسار سے اور بسر بن سعید سے اور اعرج سے روایت کی کہ وہ (تینوں) اُن سے بیان کرتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: جس نے سورج نکلنے سے پہلے صبح کی نماز سے ایک رکعت پالی تو اُس نے صبح کی نماز پالی اور جس نے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز سے ایک رکعت پالی تو اس نے عصر کی نماز پالی۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘Whoever joins in time to offer one rakʿah of the Morning Prayer before the sun rises has indeed joined the Morning Prayer within its time. And whoever joins in time to offer one rakʿah of the ʿAṣr Prayer before the sun has set has indeed joined the ʿAṣr Prayer within its time.’
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عبد الرحمن سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی تو اُس نے نماز پالی۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) narrated that the Prophet (sa) said: ‘Whoever joins in time to offer one rakʿah of the Prayer has indeed joined in time for the [entire] Prayer.’
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے ابو العالیہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: پسندیدہ آدمیوں نے میرے پاس بیان کیا۔ سب سے زیادہ پسندیدہ اُن میں میرے نزدیک حضرت عمرؓ ہیں کہ نبی ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد تا وقتیکہ سورج خوب روشن نہ ہو جائے اور عصر کی نماز کے بعد تا وقتیکہ وہ ڈوب نہ جائے، نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: بسیجی نے مجھے بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ سے روایت کی کہ میں نے ابو عالیہ سے سنا کہ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے یہی حدیث مجھ سے بیان کی۔
Ibn ʿAbbās (r.a) narrated: ‘Some esteemed men testified in my presence – and the most reliable of them, in my view, was ʿUmar (r.a) – that the Prophet (sa) forbade offering Prayer after the Morning Prayer until the sun had [fully] risen, and after the ʿAṣr Prayer until it had set.’ Ibn ʿAbbās (r.a) said: ‘Some people related this narration to me.’