بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 13 hadith
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: غندر (محمد بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: شعبہ نے ابو اسحق سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا، کہا: میں نے اسود (بن یزید) کو حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے مکہ میں سورۂ نجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور جو آپؐ کے ساتھ تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا، سوائے ایک بوڑھے کے۔ (یہ امیہ بن خلف تھا۔) اس نے ایک مٹھی بھر کنکریاں یا مٹی لی اور پیشانی تک اسے اٹھایا اور کہا: مجھے یہی کافی ہے۔ اس کے بعد میں نے اس کو دیکھا وہ بحالت کفر ہی قتل ہوا۔
(تشریح)محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں اَلمّ تَنْزِیْلٌ السَّجْدَۃَ اور ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ پڑھا کرتے تھے۔
سلیمان بن حرب اور ابو نعمان (محمد بن فضل) نے ہم سے بیان کیا۔ دونوں نے کہا: حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ سورۃ ص (کا سجدہ) ان سجدوں میں سے نہیں ہے جن کے بارے میں تاکید ہے مگر میں نے نبی ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔
(تشریح)حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحق سے، ابواسحق نے اسود سے، اسود نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے سورۂ نجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا۔ لوگوں میں سے کوئی باقی نہ رہا جس نے سجدہ نہ کیا ہو۔ ان میں سے ایک آدمی نے کنکروں کی یا مٹی کی مٹھی لی اور اسے اپنے منہ تک اٹھا کر لایا اور کہا: میرے لئے یہی کافی ہے۔ (عبد اللہ کہتے تھے:) میں نے اسے بعد میں دیکھا کہ وہ بحالت کفر مارا گیا۔
(تشریح)مسدد (بن مسرہد) نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ایوب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے سورۃ نجم میں سجدہ کیا اور آپؐ کے ساتھ مسلمانوں اور مشرکوں، بڑوں اور چھوٹوں سب نے سجدہ کیا۔ اس حدیث کو (ابراہیم) بن طہمان نے بھی ایوب سے روایت کیا۔
(تشریح)سلیمان بن دائود ابوربیع نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماعیل بن جعفر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: یزید بن خصیفہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن قسیط سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے روایت کی کہ عطاء بن یسار نے انہیں خبر دی۔ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو سورۃ النجم پڑھ کر سنائی تو آپؐ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا: ہمیں یزید بن عبداللہ بن قسیط نے بتایا۔ انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت زید بن ثابتؓ سے، انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کے سامنے سورۃ والنجم پڑھی۔ آپؐ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
(تشریح)مسلم (بن ابراہیم )اور معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا۔ دونوں نے کہا: ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحیی سے، یحیی نے ابوسلمہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ انہوں نے سورۃ اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ پڑھی اور اس میں سجدہ کیا۔ میں نے کہا: ابوہریرہؓ کیا میں نے آپؓ کو اس سورۃ میں سجدہ کرتے نہیں دیکھا ؟ انہوں نے کہا: اگر میں اس میں نبی ﷺ کو سجدہ کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی سجدہ نہ کرتا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ نے ہم سے بیان کیا۔ عبیداللہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ ہم کو وہ سورۃ پڑھ کر سناتے جس میں سجدہ ہوتا۔ آپؐ بھی سجدہ کرتے اور ہم بھی سجدہ کرتے۔ یہاں تک کہ ہم میں سے کسی کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی۔
(تشریح)بشر بن آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: علی بن مسہر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ (عمری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ سجدے کی آیات پڑھتے اور ہم آپؐ کے پاس ہوتے۔ آپؐ سجدہ کرتے اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ سجدہ کرتے اور اتنی بھیڑ ہوتی کہ ہم میں سے کوئی سجدے کے لئے اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ پاتا جس پر وہ سجدہ کرتا۔
(تشریح)