بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
عمر بن حفص (بن غیاث) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے ابوصالح سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ان دو نفخوں کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہوگا۔ لوگوں نے کہا: ابوہریرہ چالیس دن کا؟ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نہیں بتاسکتا۔ پھر انہوں نے پوچھا: چالیس سال کا ؟ انہوں نے کہا: میں نہیں بتاسکتا۔ انہوں نے کہا: چالیس مہینے کا؟ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نہیں بتاسکتا اور انسان کی ہر شے بوسیدہ ہو جائے گی سوائے اس کی ریڑھ کے آخری سرے کے۔ اسی سے (قیامت کے دن) ڈھانچہ ترکیب دیا جائے گا۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوحمزہ (محمد بن میمون) سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے مسلم (بن صبیح) سے، مسلم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: پانچ علامتیں گزر چکی ہیں، دُخان (دھواں)، روم، شق القمر، ایک سخت گرفت اور چمٹ جانے والا عذاب۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ولید بن مسلم نے ہمیں بتایا کہ اوزاعی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: یحيٰ بن ابی کثیر نے مجھے بتایا۔ کہتے تھے: محمد بن ابراہیم تیمی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عروہ بن زبیر نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے کہا: جو سخت ترین سلوک مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا وہ مجھے بتائیں۔ انہوں نے کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے اتنے میں عقبہ بن ابی مُعَیط آیا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کندھا پکڑا اور اپنا کپڑا آپؐ کی گردن میں لپیٹ کر اس کو انتہائی زور سے گھونٹا۔ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ آن پہنچے۔ انہوں نے عقبہ کا کندھا پکڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو ہٹایا اور کہا: کیا تم ایسے شخص کو مارتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے کھلے کھلے دلائل لایا ہے۔
(تشریح)صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے رَوح بن قاسم سے، رَوح نے منصور سے، منصور نے مجاہد سے، مجاہد نےابومعمر (عبداللہ بن سخبرہ) سے، ابومعمر نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی۔ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ (یہ جو آیت ہے اس کا موقع نزول یہ ہے کہ) قریش کے دو آدمی تھے اور ان کی بیوی کا ایک رشتہ دار جو ثقیف قبیلہ سے تھا یا یہ دونوں آدمی ثقیف سے تھے اور ان کی بیوی کا رشتہ دار قریش سے تھا (یہ تینوں) ایک گھر میں تھے۔ اُن میں سے ایک نے کسی سے کہا: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اللہ ہماری باتیں سن رہا ہے ؟ ان میں سے کسی نے کہا: بعض باتیں سنتا ہے۔ اور اُن میں سے ایک نے کہا: اگر وہ کچھ باتیں سنتا ہے تو یقیناً ساری بھی سنتا ہے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: اور تم ایسے نہیں ہو کہ اس سے پوشیدہ رہو کہ تمہارے برخلاف تمہارے کان گواہی دیں اور نہ تمہاری آنکھیں۔
(عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) سے، منصور نے مجاہد سے، مجاہد نے ابومعمر سے، ابومعمر نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: بیت اللہ کے پاس دو قریشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی اکٹھے ہوئے۔ ان کے پیٹوں کی چربی بہت تھی، ان کے دلوں کی سمجھ کم تھی تو اُن میں سے ایک نے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ جو ہم کہہ رہے ہیں سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا: سنتا ہے اگر ہم اُونچا بولیں اور نہیں سنتا اگر ہم آہستہ بات کریں۔ اور تیسرے نے کہا: اگر وہ ہماری بات جب اونچی کریں سنتا ہے تو یقیناً وہ اس وقت بھی سنتا ہوگا جب ہم آہستہ کریں۔ تب اللہ عزو جلّ نے یہ وحی نازل کی: اور تم ایسے نہیں ہو کہ اس سے پوشیدہ رہو کہ تمہارے برخلاف تمہارے کان گواہی دیں اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہارے جسم۔ اور سفیان (بن عیینہ) ہم سے یہ حدیث بیان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم سے منصور (بن معتمر) یا (عبداللہ) ابن ابی نجیح نے یا حمید (بن قیس) میں سے ایک نے یا ان میں سے دو نے بیان کیا۔ پھر بعد میں وہ منصور کا ہی نام لیتے رہے اور باقیوں کا نام لینا چھوڑ دیا اور اس طرح یہ حدیث انہوں نے کئی دفعہ بیان کی۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عبدالملک بن میسرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے طاؤس سے سنا۔ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى کی بابت پوچھا گیا (کہ اس سے کیا مراد ہے؟) تو سعید بن جبیر نے کہا: قُرْبَى سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل ہے۔حضرت ابن عباسؓ نے کہا: تم نے جلدی کی۔ قریش کا کوئی ایسا قبیلہ نہ تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری نہ ہو (تو اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: اگر اور کچھ نہیں تو کم از کم میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت ہے اسی کا لحاظ رکھو۔
(تشریح)حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے عطاء (بن ابی رباح)سے، عطاء نے صفوان بن یعلیٰ سے، صفوان نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو منبر پر یہ پڑھتے سنا: وَ نَادَوْا يٰمٰلِكُ… اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک! (یعنی افسرِ دوزخ) تیرے ربّ کو چاہیئے کہ ہمیں موت دے دے۔اور قتادہ نے کہا: مَثَلًا لِّلْاٰخِرِيْنَ کے معنی ہیں بعد میں آنے والوں کے لئے نصیحت۔اور قتادہ کے سوا اَوروں نے کہا: مُقْرِنِيْنَ قابو میں رکھنے والے۔ کہتے ہیں: فُلَانٌ مُقْرِنٌ لِفُلَانٍ فلاں فلاں کو قابو میں رکھنے والا ہے اور أَکْوَاب کے معنی ہیں وہ کوزے جن کی ٹونٹیاں نہ ہوں۔ اور قتادہ نے کہا: فِيْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ کے معنی ہیں مجموعی کتاب، اصل کتاب میں ہے۔ اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ سے مراد أَوَّلُ الْآنِفِينَ ہے یعنی (رحمٰن خدا کا کوئی بیٹا) نہیں ہے، اس لیے عار کرنے والوں میں سے میں سب سے پہلے ہوں۔ دونوں طرح بولتے ہیں: رَجُلٌ عَابِدٌ وَعَبِدٌ یعنی عار کرنے والا، کراہت کرنے والا۔ اور حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) نے (وَقِيْلِهٖ يٰرَبِّ کے بجائے یوں) پڑھا ہے: وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ۔ اور کہتے ہیں: أَوَّلُ الْعَابِدِينَ میں عَابِدِین کے معنی الْجَاحِدِينَ یعنی انکار کرنے والے کئے جاتے ہیں۔ عَبِدَ یَعْبَدُ سے ہے۔
(تشریح)یحيٰ (بن موسیٰ بلخی) نے ہم سے بیان کیا کہ ابو معاویہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے مسلم سے، مسلم نے مسروق سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کہتے تھے: یہ اس لئے ہوا تھا کہ قریش جب نبی ﷺ کے مقابل اَڑ گئے تو آپؐ نے ان پر سات سال قحط کی دعا کی جو حضرت یوسفؑ کے سالوں کی طرح ہوں۔ چنانچہ ان کو قحط اور سخت مصیبت پہنچی۔ یہاں تک کہ انہوں نے ہڈیاں کھائیں اور آدمی فضا میں دیکھتا تو اپنے اور اس کے درمیان مارے بھوک کی تکلیف کے دھواں سا دیکھتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تھی: پس تُو اُس دن کا انتظار کر جس دن آسمان پر ایک کھلا کھلا دُھواں ظاہر ہو گا، جو سب لوگوں پر چھا جائے گا، یہ دردناک عذاب ہوگا۔ (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! مضر کے لیے اللہ سے بارش کی دعاکیجئے۔ کیونکہ وہ تو ہلاک ہوگئے۔ آپؐ نے فرمایا: مضر کے لئے تم بھی عجب دلیر ہو، تو آپؐ نے بارش کے لئے دعا کی اور اُن پر بارش برسی۔ (اور اس کے متعلق یہ) آیت نازل ہوئی تھی۔ یعنی تم پھر ویسے کے ویسے ہوجاؤ گے۔ جب ان کو ذرا آسائش ملی تو پھر آسائش ملنے پر اپنی اسی حالت میں لوٹ گئے۔ مگر اللہ عزو جل نے یہ آیت بھی نازل کی تھی کہ جس دن ہم بڑی گرفت میں تم کو لے آئیں گے (تم پر کُھل جائے گا کہ) ہم انتقام لینے پر قادر ہیں۔ (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) کہتے تھے: (بَطْشَة سے) مراد جنگ بدر ہے۔
(تشریح)یحيٰ (بن موسیٰ بلخی) نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کے پاس گیا۔ انہوں نے کہا: علم کی شان یہ ہے کہ تم جس بات کو نہیں جانتے اس کے متعلق یہ کہو: اللہ بہتر جانتا ہے کیونکہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: تُو کہہ دے کہ میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف سے با ت کرنے کا عادی ہوں۔ قریش نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بے بس کردیا اور وہ آپؐ کے مقابل میں اَڑ گئے۔ آپؐ نے یہ دعا کی: اے اللہ! ان کو سر کرنے کے لئے میری مدد سات سال (قحط) سے فرما جو یوسفؑ کے سات سالوں کے سے ہوں۔ چنانچہ ان کو قحط نے آپکڑا جس میں انہوں نے سخت بھوک کی وجہ سے ہڈیاں اور مردار کھائے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان میں سے کوئی بھوک کے مارے اپنے اور فضاء کے درمیان دھواں سا دیکھتا۔ (اس وقت) انہوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! ہم سے عذاب ہٹا، ہم ایمان لانے والے ہیں۔ آنحضرت ﷺ سے کہا گیا: اگر ہم نے ان سے اس عذاب کو ہٹادیا تو وہ پھر ویسے کے ویسے ہوجائیں گے۔ مگر آپؐ نے اپنے ربّ سے دعا کی اور اس نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا اور وہ پھر ویسے ہی ہوگئے۔ اس لئے اللہ نے ان کو جنگِ بدر میں سزا دی۔ یہی ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: پس تُو اُس دن کا انتظار کر جس دن آسمان پر ایک کھلا کھلا دُھواں ظاہر ہو گا۔ اللہ جلّ ذِکْرُہُ کے اس قول تک کہ ہم انتقام لینے پر قادر ہیں۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کے پاس گیا۔ کچھ دیر (بیٹھنے کے) بعد انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے جب قریش کو (اسلام کی) دعوت دی تو انہوں نے آپؐ کو جھٹلا دیا اور آپؐ کے مقابل پر اڑ بیٹھے تو آپؐ نے یہ دعا کی: اے اللہ! ان کو مغلوب کرنے کے لئے سات سال (قحط) سے تو میری مدد فرما جو یوسف کے سات سالوں کے سے ہوں۔ چنانچہ اُن پر قحط ایسا پڑا جس نے ہر چیز کو فنا کردیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ مردار کھاتے تھے۔ ان میں سے کوئی کھڑا ہوتا تو مارے کمزوری اور بھوک کے اپنے سامنے اور فضا میں دھواں سا دیکھتا۔ پھر (حضرت ابن مسعودؓ نے) یہ آیت پڑھی: پس تُو اُس دن کا انتظار کر جس دن آسمان پر ایک کھلا کھلا دُھواں ظاہر ہو گا۔ جو سب لوگوں پر چھا جائے گا، یہ دردناک عذاب ہوگا یہاں تک کہ اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ… تک پہنچے۔ یعنی ہم عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ہٹا دیں گے مگر تم پھر وہی (کرتوتیں) کرنے لگ جاؤ گے۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا: بھلا کیا عذاب ان سے قیامت کے دن بھی ہٹایا جائے گا۔ حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) نے کہا: بَطْشَۃُ الْکُبْریٰ جنگ بدر تھی۔
(تشریح)