بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
عبداللہ بن محمد نے ہمیں بتایا۔ وہب نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ابواسحاق سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) میں حضرت زید بن ارقمؓ کے پہلو میں بیٹھاتھا تو اُن سے پوچھا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کتنی مہمات کے لیے نکلے؟ انہوں نے کہا: اُنیس۔ پھر اُن سے پوچھا گیا: آنحضرتﷺ کی معیت میں آپؓ کتنی مہمات میں شریک ہوئے؟ انہوں نے کہا: سترہ میں۔ (ابواسحاق کہتے تھے:)میں نے پوچھا: مہمات میں سے پہلی کونسی تھی؟ انہوں نے کہا: ’’عُشَیر‘‘ یا کہا: ’’عُسَیرہ‘‘۔ میں نے اس بارے میں قتادہ سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ’’عُشَیرہ‘‘۔
(تشریح)مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت براء (بن عازبؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اور (عبداللہ) بن عمرؓ جنگ بدر کے وقت کم عمر (نابالغ) سمجھے گئے۔
اور (امام بخاریؒ کہتے ہیں:) محمود (بن غیلان) نے مجھ سے بیان کیا، (کہا:) ہم سے وہب (بن جریر) نےبیان کیا، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے حضرت براء (بن عازبؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بدر کے دن مَیں اور (عبداللہ) بن عمرؓ کم عمر سمجھے گئے اور بدر کی لڑائی میں مہاجرین کی تعداد کچھ ساٹھ سے اوپر تھی اور انصار تقریباً دوسو چالیس تھے۔
عمروبن خالد نے ہم سے بیان کیا۔ زُہَیر (بن معاویہ) نے ہمیں بتایا کہ ابواسحاق نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ میں نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ نے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے مجھے بتایا کہ وہ تعداد میں اتنے ہی تھے جتنے طالوت کے وہ ساتھی تھے جو اُن کے ساتھ دریا سے پار ہوئے تھے یعنی تین سو دس سے کچھ اوپر۔حضرت براءؓ کہتے تھے: بخدا طالوت کے ساتھ دریا سے صرف مومن ہی پار گئے تھے۔
مجھ سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت براء (بن عازبؓ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے، آپس میں کہا کرتے تھے کہ بدر والے اتنی تعداد میں تھے جتنے طالوت کے وہ ساتھی جنہوں نے ان کے ساتھ دریا عبور کیا تھا ا ور ان کے ساتھ صرف مومن ہی پار گئے تھے جو تین سو دس سے اوپر تھے۔
احمد بن عثمان نے مجھے بتایا۔ شریح بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (یوسف بن اسحاق) سے، ان کے باپ (یوسف) نے ابواسحاق (سبیعی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عمرو بن میمون نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے حضرت سعد بن معاذؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: وہ اُمیہ بن خلف کے دوست تھے۔ اُمیہ جب مدینہ سے گزرتا تو حضرت سعدؓ کے پاس ٹھہرتااور حضرت سعدؓ جب مکہ سے گزرتے تو اُمیہ کے پاس مہمان ہوتے۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں آگئے حضرت سعدؓ عمرہ کرنے کے لئے مکہ گئے اور اُمیہ کے ہاں ٹھہرے۔ انہوں نے اُمیہ سے کہا: میرے لئے ایسا کوئی خالی وقت دیکھو کہ میں بیت اللہ کا طواف کرلوں۔ چنانچہ اُمیہ ان کو دوپہر کے قریب لے کر نکلا۔ ابوجہل ان سے ملا اور کہنے لگا: ابوصفوان! یہ تمہارے ساتھ کون ہیں؟ اس نے کہا: یہ سعدؓ ہیں۔ ابوجہل نے حضرت سعدؓ سے کہا: میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ مکہ میں امن سے طواف کررہے ہو حالانکہ تم لوگوں نے ان بے دینوں (یعنی مسلمانوں) کو پناہ دے دی ہے اور تم سمجھے بیٹھے ہو کہ آڑے وقت میں ان کے کام آؤ گے اور تم ان کی مدد کروگے۔ دیکھو! اگر تم ابوصفوان کے ساتھ نہ ہوتے تو بخدا تم اپنے گھروالوں کے پاس صحیح سالم کبھی نہ لوٹتے۔ حضرت سعدؓ نے ابوجہل سے بآواز بلند کہا: اگر تم نے مجھے اس عمرہ سے روکا تو میں اللہ کی قسم! تم کو اس چیز سے روکوں گا جو تم پر اس سے زیادہ گراں ہوگی یعنی مدینہ سے تمہارے قافلے کا راستہ۔ اُمیہ نے یہ سن کر حضرت سعدؓ سے کہا: سعدؓ ! ابوالحکم سردار اہل وادی کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو۔ سعد نے کہا: امیہ! اپنی ان باتوں سے ہمیں رہنے دو۔ بخدا! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپؐ فرماتے تھے کہ وہ (صحابہ) تمہیں مار ڈالیں گے۔ اس نے پوچھا: مکہ میں؟ حضرت سعدؓ نے کہا: یہ میں نہیں جانتا۔اُمیہ حضرت سعدؓ کی یہ بات سن کر بہت ڈر گیا۔ جب اُمیہ اپنے گھر گیا تو (اپنی بیوی صفیہ یا کریمہ بنت معمر سے) کہنے لگا: اے امّ صفوان ! تو نے سعدؓ کی بات سنی جو اس نے میرے بارے میں کہی ہے؟ اس نے کہا: کیوں سعدؓ کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا: کہتا ہے کہ محمد (ﷺ) نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ مجھ کو مار ڈالیں گے۔ میں نے پوچھا کہ مکہ میں؟ تو اس نے جواب دیا: میں نہیں جانتا۔ امیہ نے کہا: بخدا! میں مکہ سے نکلوں گا ہی نہیں۔ جب بدر کی جنگ ہوئی تو ابوجہل نے لوگوں سے جنگ کے لئے نکلنے کو کہا، کہنے لگا: اپنے قافلے کو بچانے کے لئے پہنچو۔ اُمیہ نے نکلنا پسند نہ کیا۔ ابوجہل اُمیہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابوصفوان! جب لوگ تمہیں دیکھیں گے کہ تم ہی پیچھے رہ گئے ہو بحالیکہ تم اہل وادی کے سردار ہو تو وہ بھی تمہارے ساتھ پیچھے رہ جائیں گے۔ ابوجہل اسے سمجھاتا رہا، آخر امیہ نے کہا: اچھا اگر تم نے مجبور ہی کرنا ہے تو بخدا! میں مکہ سے ایک نہایت ہی عمدہ اونٹ خریدوں گا۔ اس کے بعد اُمیہ نے کہا: امّ صفوان! میرے لئے (سفر کا)سامان تیار کرو، تو وہ اس سے کہنے لگی: تم وہ بات بھول گئے ہو جو تم سے تمہارے یثربی بھائی نے کہی تھی؟کہنے لگا: نہیں، میں تھوڑی دُور اُن کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔ جب اُمیہ نکلا تو جس منزل میں بھی اترتا وہاں اپنے اُونٹ کا گھٹنا باندھ دیتا۔ وہ یہی احتیاط کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے بدر میں اس کو ہلاک کردیا۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عُقَیل سے ،عُقَیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب سے روایت کی کہ عبداللہ بن کعب نے کہا: میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں کسی غزوہ میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا پیچھے نہیں رہا سوائے غزوہ تبوک کے، اور غزوہ بدر میں جو مَیں پیچھے رہ گیا تھا تو وہ اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قافلہ قریش کا قصد کرتے ہوئے نکلے تھے اور اس میں شامل نہ ہونے سے کسی کو ملامت بھی نہیں کی گئی تھی اور نوبت یہ ہوئی کہ اللہ نے مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کی مٹھ بھیڑ کرادی بغیر اس کے کہ پہلے سے لڑائی کی ٹھانی ہو۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل (بن یونس)نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مخارق (بن عبداللہ)سے، مخارق نے طارق بن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن مسعودؓ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے مقداد بن اسودؓ کی بات کا ایک ایسا منظر دیکھا کہ اگر مجھ کو حاصل ہوجاتا تو وہ ان تمام نیکیوں سے مجھے عزیز تر ہوتا جو ثواب میں اس (ایک منظر) کے برابر ہوں۔ ہوا یوں کہ مقدادؓ نبی ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپؐ مشرکوں کے خلاف دعا کررہے تھے اور کہنے لگے: (یا رسول اللہ!) ہم اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح موسیٰ کی قوم نے کہا تھا:جا تُو اورتیرا ربّ دونوں جاکر لڑو، نہیں بلکہ ہم تو آپؐ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ کا چہرہ چمکنے لگا اور مقدادؓ کی اس بات نے آپؐ کو خوش کردیا۔
محمد بن عبداللہ بن حوشب نے مجھے بتایا: عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (حذاء) نے ہمیں بتایا: انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی، کہتے تھے: نبی ﷺ نے بدر کی لڑائی کے دن (اللہ تعالیٰ سے) دعا کرتے ہوئے عرض کیا کہ اے اللہ! میں تجھ سے تیرا عہد اور وعدہ پورا کرنے کی التجا کرتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تیری یہی منشاء ہے کہ تیری عبادت نہ کی جائے۔ … اس پر حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کا ہاتھ تھام لیا اور کہا: بس کیجئے (جو دعا آپؐ کرچکے ہیں وہی کافی ہے۔) پھر آپؐ (خیمے سے) باہر نکلے اور یہ فرما رہے تھے: عنقریب یہ جمعیت شکست کھا کر بھاگ جائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر لیں گے۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں خبردی۔ ابن جریج نے انہیں بتایا، کہا: عبدالکریم (بن مالک) نے مجھے خبردی کہ انہوں نے مقسم سے سنا جو عبداللہ بن حارث کے آزاد کردہ غلام تھے۔ وہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے تھے کہ لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ یعنی مومنوں میں سے ایسے بیٹھ رہنے والے جو ضرررسیدہ نہیں ہیں سے مراد وہ لوگ ہیں جو بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے اور جو اُس میں شریک ہوئے۔
(تشریح)