بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 85 hadith
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے شیبان (بن عبدالرحمٰن) سے، شیبان نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم نے مجھے بتایا۔ ان دونوں نے کہا: نبیصلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال رہےاور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔ آپؐ پر قرآن نازل کیا جاتا تھا۔
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے شیبان (بن عبدالرحمٰن) سے، شیبان نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم نے مجھے بتایا۔ ان دونوں نے کہا: نبیصلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال رہےاور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔ آپؐ پر قرآن نازل کیا جاتا تھا۔
تھیں۔ وہ آپؐ سے باتیں کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امّ سلمہؓ سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ یا کچھ ایسے ہی الفاظ کہے۔ حضرت امّ سلمہؓ نے کہا: یہ دحیہ (کلبیؓ) ہیں۔ جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو کہنے لگیں: اللہ کی قسم! میں ان کو وہی سمجھتی رہی یہاں تک کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپؐ نے جبرائیل کے آنے کا واقعہ بیان کیا یا ایسا ہی کچھ فرمایا۔ میرے باپ (سلیمان) نے کہا: میں نے ابوعثمان (نہدی) سے پوچھا: آپ نے یہ کس سے سنا؟ انہوں نے کہا: حضرت اسامہ بن زیدؓ سے۔ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ انہوں نے ابوعثمان (نہدی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے بتایا گیا ہے کہ جبرائیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت آپؐ کے پاس حضرت امّ سلمہؓ
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے اپنے باپ (کیسان) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کو ایسے ایسے نشانات نہ دئیے گئے ہوں کہ جن کے ذریعہ سے لوگ اس پر ایمان لائے اور جو نشان مجھے دیا گیا ہے وہ یہ وحی ہے جو اللہ نے میری طرف کی۔ اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ میں قیامت کے دن سب انبیاء سے زیادہ پیرو رکھوں گا۔
عمرو بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح بن کیسان سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپؐ کی وفات سے پہلے پے در پے وحی بھیجی۔ وفات کے قریب قریب تو بہت ہی وحی ہوئی۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسود بن قیس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جندبؓ (بن عبداللہ بجلی) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ایک یا دو رات تہجد کے لئے نہیں اٹھے۔ تو (یہ دیکھ کر) آپؐ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا:محمدؐ میں سمجھتی ہوں تمہارے شیطان نے اب تم کو چھوڑ دیا ہے۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ (سورۃ) نازل کی: میں دن کو شہادت کے طور پر پیش کرتاہوں، جب وہ روشن ہوجائے۔ اور رات کو (شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں) جب اس کی تاریکی چاروں طرف پھیل جائے۔کہ نہ تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اورنہ تجھ سے ناراض ہوا ہے۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیاکہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ حضرت انس بن مالکؓ نے بھی مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت عثمانؓ نے زید بن ثابتؓ اور سعید بن عاصؓ اور عبداللہ بن زبیرؓ اور عبدالرحمٰنؓ بن حارث بن ہشام کو حکم دیا کہ وہ (سورتوں کو) مصاحف میں لکھیں اور ان سے یہ کہا: جب تم اور زید بن ثابتؓ قرآن کے عربی محاورہ کے متعلق اختلاف کرو تو قریش کے محاورہ کے مطابق اس آیت کو لکھو کیونکہ قرآن انہی کے محاورہ کے مطابق نازل کیا گیا ۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عطاء (بن ابی رباح) نے ہم سے بیان کیا۔ نیز مسدد نے بھی کہا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عطاء (بن ابی رباح) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے مجھے بتایا کہ حضرت یعلیٰؓ کہا کرتے تھے: کاش کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں جب آپؐ پر وحی نازل کی جارہی ہو۔ پھرجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے آپؐ پر ایک کپڑا تھا جس نے آپؐ پر سایہ کیا ہوا تھا اور آپؐ کے ساتھ آپؐ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ تھے۔ اتنے میں آپؐ کے پاس ایک شخص آیا جو خوشبو میں لتھڑا ہوا تھا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ اس شخص کے متعلق کیا سمجھتے ہیں کہ جو ایسے جبے میں احرام باندھے جبکہ وہ جبہ خوشبو سے لتھڑ چکا ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر تک دیکھتے رہے۔پھر آپؐ کے پاس وحی آئی۔ حضرت عمرؓ نے یعلیٰؓ کو اشارہ کیا کہ آؤ۔ حضرت یعلیٰؓ آئے، انہوں نے اپنا سر اندر کیا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ آپؐ کا چہرہ سرخ ہے۔ آپؐ بلند آواز سے سانس لے رہے ہیں۔ ایک گھڑی اس طرح حالت رہی پھر آپؐ سے وہ حالت جاتی رہی۔ اور آپؐ نے پوچھا: وہ شخص کہاں ہے جس نے مجھے ابھی عمرہ کے متعلق پوچھا تھا۔ اس شخص کو ڈھونڈ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: وہ جو خوشبو تمہیں لگی ہوئی ہے اس کو تین بار دھو ڈالو اور جو جبہ ہے اس کو اتار دو پھر اپنے عمرہ میں وہی کرو جو اپنے حج میں کرتے ہو۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابراہیم بن سعد سے، ابراہیم نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید بن سباق سے، عبید نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جب یمامہ والے شہید ہوئے حضرت ابوبکرؓ نے مجھے بلا بھیجا تو میں نے دیکھا کہ حضرت عمر بن خطابؓ بھی ان کے پاس ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمرؓ میرے پاس آئے اور کہنے لگے: یمامہ کی جنگ میں قرآن کے قاری بہت مارے گئے ہیں اور میں ڈرتا ہوں کہ جنگ، اور میدانوں میں بھی قراء کو کہیں سمیٹ نہ لے جائے اور اس طرح بہت سا قرآن ضائع ہوجائے گا اس لئے میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ آپؓ قرآن کو یکجا کرنے کا حکم دیں۔ میں نے عمرؓ سے کہا: ہم ایسا کام کیسے کریں گے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم یہ کام تو بہتر ہے۔ عمرؓ مجھے بار بار کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دیا اور اس امر میں میری بھی وہی رائے ہے جو عمرؓ کی تھی۔ زیدؓ کہتے تھے:حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: تم جوان عقل مند آدمی ہو ہمیں تم پر کوئی شبہ نہیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں وحی بھی لکھا کرتے تھے اس لئے جہاں جہاں قرآن ہو اس کو تلاش کرو اور اس کو ایک جگہ جمع کرو۔ اللہ کی قسم! اگر وہ پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی مجھے تکلیف دیتے تو یہ کام مجھ پر اتنا زیادہ بوجھل نہ ہوتا، بنسبت اس کے جو انہوں نے مجھے قرآن جمع کرنے کے متعلق دیا۔ میں نے کہا: آپؓ ایسا کام کیسے کر سکتے ہیں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ کام اچھا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ مجھے بار بار کہتےرہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دیا جس کے لئے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہماکے سینے کو کھول دیا تھا اور میں نے قرآن کی تلاش شروع کردی۔ میں اسے کھجور کی چھڑیوں اور باریک پتھروں اور آدمیوں کے سینوں سے اکٹھا کرتا رہا یہاں تک کہ سورۃ توبہ کا آخری حصہ میں نے ابوخزیمہؓ (انصاری) کے پاس پایا۔ ان کے سوا کسی کے پاس بھی اسے نہ پایا اور وہ یہ ہے:لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ سورۃ توبہ کے خاتمے تک۔ یہ ورق حضرت ابوبکرؓ کے پاس رہے یہانتک کہ اللہ نے ان کو وفات دی۔ پھر حضرت عمرؓ کے پاس ان کی زندگی میں رہے۔ پھرحضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت حفصہؓ کے پاس رہے۔
موسیٰ(بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہم سے بیان کیا ۔حضرت انس بن مالکؓ نے ان سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا) کہ حضرت حذیفہ بن یمانؓ حضرت عثمانؓ کے پاس آئے اور وہ آرمینیہ کے فتح کرنے کے لئے شام والوں سے اور آذربائیجان کے فتح کرنے کے لئے عراق والوں سے جنگ کر رہے تھے۔ لوگوں کے قراءت کے متعلق اختلاف نے حضرت حذیفہؓ کوفکر مند کر دیا۔ حضرت حذیفہؓ نے حضرت عثمانؓ سے کہا:یا امیر المؤمنین! اس امت کو سنبھالیں پیشتر اس کے کہ وہ کتاب میں اس طرح اختلاف کرنے لگیں جس طرح یہود و نصاریٰ نے اختلاف کیا۔ حضرت عثمانؓ نے حضرت حفصہؓ کو کہلا بھیجا کہ ہمارے پاس مصحف بھیج دیں تاکہ ہم دوسرے مصاحف میں (سورتوں کو) نقل کروا لیں۔ پھر ہم آپ کو وہ واپس کردیں گے۔ حضرت حفصہؓ نے حضرت عثمانؓ کو وہ (اوراق) بھیج دئیے اور انہوں نے حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، حضرت سعید بن عاصؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشامؓ کو حکم دیا اور انہوں نے مصاحف میں ان (سورتوں) کو نقل کیا اور حضرت عثمانؓ نے ان تین قریشیوں کی جماعت سے فرمایا: جب تم اور زید بن ثابتؓ قرآن کی کسی قراءت کے متعلق اختلاف کرو تو اس کو قریش کے محاورہ کے مطابق لکھو۔ کیونکہ قرآن انہی کے محاورہ کے مطابق نازل ہوا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ جب انہوں نے ان ورقوں کو مصاحف میں نقل کر لیا تو حضرت عثمانؓ نے وہ اوراق حضرت حفصہؓ کو واپس کر دئیے اور ان (مصاحف) سے ایک ایک مصحف ہر علاقے میں بھیج دیا اور اس قرآن کے سوا جو بھی (قرآن کی کوئی آیت) کسی پرچے یا ورقے پر تھی سب کو جلا دینے کا حکم دیا۔