بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 26 hadith
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبد العزیز (بن ابی حازم) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حازم (سلمہ بن دینار) سے، ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو خبر پہنچی کہ بنی عمرو بن عوف کے درمیان قباء میں کچھ جھگڑا ہے تو آپؐ اپنے صحابہؓ میں سے کچھ آدمیوں سمیت ان کے درمیان صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے اور رسول اللہ ﷺ وہاں رک گئے اور نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ حضرت بلالؓ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ابوبکرؓ! رسول اللہ ﷺ رک گئے ہیں اور نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ کیا آپؓ لوگوں کی امامت کریں گے؟ انہوں نے کہا: اچھا اگر تم چاہتے ہو۔ حضرت بلالؓ نے نماز کے لئے تکبیرِ اقامت کہی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور لوگوں کے لئے اللہ اکبر کہا اور رسول اللہ ﷺ بھی صفوں کو چیرتے ہوئے آئے۔ یہاں تک کہ پہلی صف میں کھڑے ہوگئے۔ لوگوں نے تصفیح شروع کر دی۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے: تصفیح کے معنے تالی بجانا۔ راوی نے کہا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں اِدھر اُدھر متوجہ نہیں ہوتے تھے۔ جب لوگوں نے بہت تالیاں بجائیں تو وہ مڑکر کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ آپؐ نے انہیں اشارہ فرمایا کہ نماز پڑھائیں۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کی۔ پھر اُلٹے پاؤں پیچھے ہٹے۔ یہاں تک کہ صف میں کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! تمہیں کیا ہو گیا؟ جب تمہیں نماز میں کوئی بات پیش آتی ہے تو تم تالیاں بجانے لگتے ہو۔ تالی بجانا عورتوں کا فعل ہے۔ جسے نماز میں کوئی بات پیش آئے تو چاہیے کہ وہ سبحان اللہ کہے۔ پھر آپؐ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ابوبکرؓ! جب میں نے اشارہ کیا تھا تو تمہیں لوگوں کو نماز پڑھانے سے کس بات نے روکا؟ حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا: ابو قحافہ کے بیٹے کے شایاں نہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے آگے ہو کر نماز پڑھائے۔
(تشریح)ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا ، (کہا:) حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے ، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنے سے روکا گیا ہے۔
عمر و بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا کہ ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) محمد (بن سیرین) نے ہمیں بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے۔
(تشریح)اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) روح (بن عبادہ) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) عمر بن سعید نے ہمیں بتایا ، کہا: ابن ابی ملیکہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ جب آپؐ نے سلام پھیرا تو جلدی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی ایک زوجہ کے پاس گئے۔ پھر باہر آئے اور آپؐ نے اس تعجب کو دیکھا جو لوگوں کے چہروں پر آپؐ کے جلدی جانے کی وجہ سے تھا تو آپؐ نے فرمایا: میں نماز میں ہی تھا کہ مجھے سونے کی ایک ڈلی یاد آئی جو ہمارے پاس تھی۔ میں نے نہ چاہا کہ وہ گھر میں شام تک یا فرمایا رات تک رہے۔ میں نے کہہ دیا ہے کہ وہ تقسیم کر دی جائے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعفر سے، جعفر نے اعرج سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ موڑ کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے۔ تاکہ وہ اذان نہ سنے اور جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو پھر آ جاتا ہے۔ جب تکبیر ہوتی ہے تو پھر پیٹھ موڑ کر چلا جاتا ہے۔ جب وہ خاموش ہوتا ہے تو پھر آ جاتا ہے۔ آدمی کو مشغول رکھتا ہے اور اسے وہ وہ باتیں یاد کرنے کے لئے کہتا ہے جو کبھی یاد نہ کرتا۔ یہاں تک کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے تھے : اگر کسی کو ایسا ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔ یہ بات ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی۔
محمد بن مثنی نے ہم سے بیان کیا (کہا:) عثمان بن عمر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابن ابی ذئب نے مجھے بتایا کہ سعید مقبری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ کہتے تھے: لوگ کہتے ہیں: ابوہریرہؓ بہت حدیثیں بیان کرتا ہے تو میں ایک شخص کو ملا اور اس سے پوچھا: کل رات عشاء میں رسول اللہ ﷺ نے کون سی سورۃ پڑھی تھی؟ تو اس نے کہا میں نہیں جانتا۔ میں نے کہا: کیا تم نماز میں موجود نہ تھے؟ کہنے لگا تھا تو سہی۔ میں نے کہا: مجھے تو یاد ہے۔ آپؐ نے فلاں فلاں سورتیں پڑھی تھیں۔
(تشریح)