بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 26 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: بشر (بن مفضل) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) غالب (قطان) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے بکر بن عبداللہ (مزنی) سے، بکر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم گرمی کی شدت میں نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔ اگر ہم میں سے کوئی زمین پر اپنی پیشانی نہ لگا سکتا تو وہ اپنا کپڑا بچھاتا اور اس پر سجدہ کرتا۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو نضر سے، ابو نضر نے ابو سلمہ سے، ابو سلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نبی ﷺ کے قبلہ میں اپنے پائوں دراز کئے ہوتی اور آپؐ نماز پڑھ رہے ہوتے۔ جب آپؐ سجدہ کرتے تو مجھے ہاتھ سے دبا دیتے اور میں پائوں سمیٹ لیتی۔ جب آپؐ کھڑے ہوتے تو میں پائوں لمبا کر لیتی۔
محمود (بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شبابہ (بن سوار) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن زیاد سے، محمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے ایک دفعہ نماز پڑھی اور فرمایا: شیطان میرے سامنے آیا اور اُس نے مجھ پر زور سے حملہ کیا تاکہ میری نماز توڑ دے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دیا اور میں نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے زمین پر پٹخا اور میں نے ارادہ کیا کہ اس کو ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم اسے دیکھو۔ مگر مجھے سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آیا: { اے میرے ربّ! مجھے ایک ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد اُس پر اور کوئی نہ جچے۔ } پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل و خوار کرکے لوٹا دیا۔
(تشریح)آدم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ازرق بن قیس نے ہمیں بتایا، کہا: ہم اہوز میں خارجیوں سے لڑ رہے تھے اور میں ایک نہر کے کنارے بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا اور اس وقت جانور کی لگام اس کے ہاتھ میں تھی۔ جانور اس کو کھینچنے لگا اور وہ اس کے پیچھے چلتا گیا۔ شعبہ کہتے تھے: یہ حضرت ابو برزہ اسلمیؓ تھے تو خارجیوں میں سے ایک شخص کہنے لگا: اے اللہ! اس بوڑھے کا ناس کر۔ جب وہ بوڑھا نماز سے فارغ ہوا تو اس نے کہا: میں نے تمہاری بات سن لی ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں چھ سات یا آٹھ جنگیں کی ہیں اور میں دیکھ چکا ہوں جو آسانی آپؐ دیا کرتے تھے اور مجھے تو یہ بات زیادہ پسند ہے کہ میں اپنے جانور کو لے کر واپس آؤں بہ نسبت اس کے کہ اسے چھوڑ دوں کہ وہ اپنی چراگاہ میں چلا جائے اور پھر یہ بات مجھے تکلیف دیتی رہے۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا ، (کہا:) عبداللہ (بن مبارک) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: سورج گرہن ہوا تو نبی ﷺ (نماز کے لئے) کھڑے ہوئے۔ آپؐ نے ایک لمبی سورۃ پڑھی۔ پھر آپؐ نے رکوع کیا اور دیر تک رکوع میں رہے۔ اس کے بعد آپؐ نے سر اٹھایا اور پھر ایک دوسری سورۃ شروع کی۔ پھر آپؐ نے رکوع کرکے یہ رکعت ختم کی اور سجدہ میں گئے۔ پھر آپؐ نے دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) آپؐ نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں۔ سو جب تم گرہن دیکھو تو نماز پڑھو۔ یہاں تک کہ گرہن تم سے ہٹا دیا جائے۔ میں نے اپنے اس مقام میں ہر وہ شئی دیکھ لی ہے جس کا مجھے وعدہ دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں جنت کا ایک خوشہ لینا چاہتا ہوں۔ یہ اس وقت کہ جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھنے لگا ہوں اور جب تم نے مجھے دیکھا کہ پیچھے کو ہٹا ہوں تو اس وقت میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو بھسم کر رہا ہے اور اِس میں مَیں نے عمرو بن لحی کو دیکھا اور اسی نے سائبہ بنانے کی رسم ڈالی تھی۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے مسجد کے قبلہ میں رینٹھ (ریزشِ بینی) کو دیکھا تو آپؐ مسجد والوں سے ناراض ہوئے اور فرمایا: اللہ تم میں سے ایک کے سامنے ہوتا ہے جب وہ نماز میں ہوتا ہے۔ اس لئے وہ نہ تھوکے اور نہ ہی بلغم نکالے۔ پھر آپؐ نیچے آئے اور اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جب تم میں سے کوئی تھوکے تو چاہیے کہ وہ اپنی بائیں طرف تھوکے۔
محمد (بن بشار) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) غندر نے ہم سے بیان کیا۔ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے قتادہ سے سنا۔ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے ربّ سے مناجات کر رہا ہوتا ہے۔ اس لئے نہ اپنے سامنے تھوکے اور نہ اپنی دا ہنی طرف، بلکہ اپنی بائیں طرف یا اپنے بائیں پائوں کے نیچے۔
(تشریح)محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا ، (کہا:) سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: لوگ نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے اور وہ اپنے تہ بندوں کو بوجہ چھوٹے ہونے کے اپنی گردنوں پر باندھے ہوئے ہوتے اور عورتوں کو کہہ دیا جاتا کہ تم اپنے سر نہ اُٹھانا جب تک لوگ سیدھے ہو کر نہ بیٹھ جائیں۔
(تشریح)عبد اللہ بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا: محمد) بن فضیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کو جبکہ آپؐ نماز میں ہوتے سلام کیا کرتا تھا اور آپؐ مجھے جواب دیتے تھے۔ جب ہم لوٹ کر آئے تو میں نے آپؐ کو سلام کیا۔ آپؐ نے جواب نہ دیا اور (بعد میں) فرمایا: نماز میں بھی ایک مصروفیت ہوتی ہے۔
ابو معمر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) کثیر بن شنظیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء بن رباح سے، عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے کسی کام کے لئے مجھے بھیجا۔ میں چلا گیا۔ پھر میں وہ کام پورا کرکے واپس لوٹا۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ کو سلام کیا۔ تو آپؐ نے مجھے جواب نہ دیا۔ میرے دل میں جو خیال آئے انہیں اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ میں نے اپنے جی میں کہا: شاید رسول اللہ ﷺ مجھ پر ناراض ہیں۔ اس لئے کہ میں نے دیر کردی ہے۔ پھر میں نے آپؐ کو سلام کیا تو آپؐ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ اس پر میرے دل کو پہلے سے بھی زیادہ صدمہ ہوا۔ پھر میں نے آپؐ کو سلام کیا تو آپؐ نے مجھے جواب دیا اور فرمایا: میں نماز پڑھ رہا تھا اور اسی نے مجھے جواب دینے سے روکا اور آپؐ اس وقت اپنی اونٹنی پر (سوار) تھے۔ آپؐ کا منہ قبلہ کی طرف نہیں کسی اور طرف تھا۔
(تشریح)