بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 30 hadith
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کی۔ آپؐ نے ان کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور بسم اللہ اور اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھا۔
احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ اسماعیل (بن ابی خالد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبی سے، شعبی نے مسروق سے روایت کی کہ وہ حضرت عائشہؓ کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے: امّ المؤمنین! کوئی شخص قربانی کا جانور کعبہ کو بھیجتا ہے اور شہر میں بیٹھا رہتا ہے اور یہ وصیت کرتا ہے کہ اس کی اونٹنی کو ہار ڈالا جائے اور اس دن سے برابر جب تک لوگ حج سے فارغ ہو کر احرام نہیں کھولتے احرام باندھے رہتا ہے۔ مسروق کہتے تھے: میں نے پردہ کے پیچھے سے حضرت عائشہؓ کے تالی بجانے کی آواز سنی، کہنے لگیں: میں رسول اللہ ﷺ کے قربانی کے جانوروں کے ہار بٹا کرتی تھی اور آپؐ کعبہ کو اپنی قربانی کے جانور بھیجتے تھے تو لوگوں کے لَوٹنے تک آپؐ پر اس بات سے کچھ بھی حرام نہ ہوتا جو مردوں پر اپنی عورتوں سے حلال ہے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن دینار) نے کہا: مجھے عطاء (بن ابی رباح) نے خبر دی۔ عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ہم نبی ﷺ کے زمانہ میں قربانی کا گوشت بطور زادِ راہ مدینہ لے جایا کرتے تھے اور انہوں نے کئی بار بجائے لُحُوْمَ الْأَضَاحِيِّ کے لُحُوْمَ الْهَدْيِ کہا۔
اسماعیل (بن ابی اُویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سلیمان (بن بلال) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے قاسم (بن محمد) سے روایت کی کہ (عبداللہ) بن خباب نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوسعیدؓ سے سنا۔ وہ بیان کرتے تھے کہ وہ کہیں سفر میں گئے ہوئے تھے جب آئے تو ان کے سامنے گوشت رکھا گیا لوگوں نے کہا: یہ ہماری قربانی کے گوشت میں سے ہے۔ اس پر حضرت ابوسعیدؓ نے کہا: اسے ہٹاؤ میں اسے نہیں چکھوں گا۔ حضرت ابوسعیدؓ کہتے تھے: پھر میں اٹھ کر باہر گیا اور اپنے بھائی حضرت ابوقتادہؓ کے پاس آیا اور وہ ان کی ماں کی طرف سے ان کے بھائی تھے اور بدر میں شریک ہوئے تھے۔ میں نے ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: تمہارے بعد ایک نیا حکم ہوا تھا۔
ابو عاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبید سے، یزید نے حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جو تم میں سے قربانی کرے تو تین دن کے بعد صبح کو ایسی حالت میں نہ اٹھے کہ اس کے گھر میں اس کے گوشت سے کچھ باقی ہو۔ جب دوسرا سال ہوا تو لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اسی طرح کریں جس طرح گزشتہ سال کیا تھا؟ آپؐ نے فرمایا: کھاؤ، کھلاؤ اور ذخیرہ رکھو کیونکہ اُس سال لوگوں کو بھوک کی سخت تکلیف تھی اس لئے میں نے چاہا کہ تم اس قحط میں مدد کرو۔
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے بھائی (عبدالحمید) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان (بن بلال) سے، سلیمان نے یحيٰ بن سعید (انصاری) سے، یحيٰ نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے، عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہتی تھیں: قربانی کے گوشت میں سے کچھ گوشت ہم نمک لگا کر رکھ چھوڑتے اور ہم اس کو مدینہ میں نبی ﷺ کے پاس لاتے۔ آپؐ نے فرمایا: قربانی کا گوشت صرف تین دن ہی کھاؤ اور یہ حکم وجوب کے طور پر نہیں تھا بلکہ آپؐ کی مراد یہ تھی کہ دوسروں کو بھی ہم اس سے کھلائیں اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
حبان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے کہا: ابوعبید جو (عبدالرحمٰن) بن ازہر کے غلام تھے، نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کے دن عید پڑھی۔ انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی۔ پھر لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ انہوں نے کہا: اے لوگو! رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ان دو عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ ان میں سے ایک تو وہ دن ہے جب تم اپنے روزے افطار کرتے ہو اور دوسرا دن وہ ہے جب تم اپنی قربانیوں کو کھاتے ہو۔
ابو عبید نے کہا: پھر میں حضرت عثمان بن عفانؓ کے ساتھ عید میں شریک ہوا اور وہ جمعہ کا دن تھا۔ انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی پھر لوگوں کو مخاطب ہوئے، کہنے لگے: لوگو! یہ وہ دن ہے جس میں تمہارے لئے دو عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں۔ اہل عوالی میں سے جو جمعہ کا انتظار کرنا چاہے وہ انتظار کرے اور جو واپس جانا چاہے تو میں اس کو اجازت دیتا ہوں۔
ابوعبید نے کہا: پھر میں حضرت علی بن ابی طالبؓ کے ساتھ موجود تھا۔ انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی۔ پھر لوگوں سے مخاطب ہوئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں منع کیا ہے کہ تم اپنی قربانیوں کو تین دن سے زیادہ کھاؤ۔ اور معمر سے بھی اسی سند سے مروی ہے کہ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوعبید سے اسی طرح روایت کی۔
محمد بن عبدالرحیم (صاعقہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ) سے، محمد نے اپنے چچا ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم سے، سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قربانی کے گوشت سے تین دن تک کھاؤ اور حضرت عبداللہؓ جب منیٰ سے کوچ کرتے تو اس وجہ سے کہ وہ قربانی کے گوشت ہیں تیل سے روٹی کھایا کرتے تھے۔
(تشریح)