بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ایک گروہ سمیت عکاظ منڈی کا قصد کرتے ہوئے چل پڑے جبکہ آسمان کی خبر اور شیطانوں کے درمیان روک ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے چھوڑ دئیے گئے تھے۔ یہ شیطان اپنی قوم کی طرف لوٹ کر آئے تو لوگوں نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان روک ڈال دی گئی ہے اور ہم پر شعلے پھینکے گئے ہیں۔ لوگوں نے کہا: ضرور کوئی نئی بات ہوئی ہے۔ جو تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان روک ہوگئی ہے۔ اس لئے زمین کے مشرق اور مغرب میں پھر کر دیکھو کہ یہ کیا بات ہے جو تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان روک ہے؟ چنانچہ وہ لوگ جو تہامہ کی طرف نکلے تھے؛ پھرتے پھراتے؛ نبی ﷺ کے پاس جبکہ آپؐ نخلہ (مقام) میں تھے؛ عکاظ منڈی کا قصد کرتے ہوئے آپہنچے۔ آپؐ اپنے صحابہ کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب ان لوگوں نے قرآن سنا تو اس کو غور سے سننے لگے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہ ہے وہ جو تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان روک ہے۔ پس اس موقع پر جبکہ وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ کر گئے تھے۔ انہوں نے کہا: اے ہماری قوم! ہم نے تو عجیب قرآن سنا ہے۔ جو بھلائی کی طرف ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ ہم تو اسے مان چکے ہیں۔ اب ہم اپنے ربّ کے ساتھ ہرگز کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ تب اللہ نے اپنے نبیؐ پر یہ سورۃ اُتاری: قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ۔ اور جنّوں نے جو بات (اپنی قوم سے) کہی تھی؛ وہی آپؐ پر وحی کی گئی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ایوب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ کو جس (نماز) میں (پڑھنے کا) حکم ہوا اس میں آپؐ نے پڑھا اور جس میں (خاموش رہنے کا) حکم ہوا، اس میں آپؐ خاموش رہے اور تیرا ربّ بھولنے والا نہیں اور یقینا تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ میں اچھا نمونہ ہے۔
(تشریح)اور عبیداللہ بن عمر نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ ایک انصاری آدمی مسجد قباء میں ان کی امامت کیا کرتا تھا۔ وہ جب کبھی ان سورتوں میں سے جو نماز میں پڑھی جاتی ہیں، کوئی سورۃ شروع کرتا تو پہلے قُلْ ہُوَ اللّٰہُ پڑھتا۔ جب اسے پڑھ لیتا تو پھر اس کے ساتھ کوئی اور سورۃ پڑھتا اور ہر رکعت میں ایسا ہی کرتا۔ اس کے ساتھیوں نے اس بارہ میں اس سے بات کی اور کہا: تم اس سورۃ سے شروع کرتے ہو اور پھر نہیں سمجھتے کہ یہ سورۃ تمہیں کافی ہوگی۔ بلکہ ایک اور سورۃ بھی پڑھتے ہو تو تم اسی کو پڑھا کرو۔ یا اس کو چھوڑ دو اور کوئی دوسری سورۃ پڑھو۔ اس نے کہا: میں تو اسے ہر گز نہ چھوڑوں گا۔ اگر تم پسند کرتے ہو کہ میں اسی طرح تمہاری امامت کروں تو میں تمہارا امام رہوں گا اور اگر تمہیں یہ پسند نہیں تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا اور وہ لوگ اس کو اپنے میں سب سے بہتر سمجھتے تھے اور انہوں نے پسند نہ کیا کہ اس کے سوا کوئی اور ان کا امام ہو۔ جب نبی ﷺ ان کے پاس آئے تو انہوں نے آپؐ کو اس واقعہ کی خبر دی۔ آپؐ نے فرمایا: اے فلاں! جو بات تمہارے ساتھی تم سے کہتے ہیں ؛ تمہیں اس فعل سے کون سی بات روکتی ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ تم نے یہ سورۃ ہر رکعت میں لازم کرلی ہے؟ اُس نے کہا: یہ سورۃ مجھے بہت پیاری ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کی محبت نے تمہیں جنت میں داخل کردیا۔
آدم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا : شعبہ نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن مرّہ سے روایت ہے، کہا : میں نے ابو وائل سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ایک آدمی حضرت (عبداللہ) بن مسعودؓ کے پاس آیا۔ اس نے کہا: میں نے آج رات ایک رکعت میں ساری مفصل پڑھی ہے۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا: جلدی جلدی جیسے شعر پڑھے جاتے ہیں۔ میں وہ ہم مشابہ سورتیں جانتا ہوں جن کو نبی ﷺ ملا کر پڑھا کرتے تھے۔ پھر حضرت عبداللہؓ نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا۔ ہر رکعت میں دو دو سورتیں پڑھا کرتے تھے۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا ، کہا: ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ سے، یحيٰ نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھا کرتے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورۂ فاتحہ ہی پڑھتے اور کوئی آیت ہمیں سنا بھی دیا کرتے اور جتنی لمبی قرأت پہلی رکعت میں کرتے اتنی دوسری رکعت میں نہ کرتے اور اسی طرح عصر کی نماز میں بھی کرتے اور صبح کی نماز میں بھی۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا ، کہا : جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے عمارہ بن عمیر سے، عمارہ نے ابومعمر سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: ہم نے حضرت خبابؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی نماز میں (قرآن مجید) پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ ہم نے کہا: آپؓ کو کیسے علم ہوتا ؟ تو انہوں نے کہا: حضورؐ کی ریش مبارک کے ہلنے سے۔
(تشریح)محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، (کہا:) اوزاعی نے ہمیں بتایا (کہا:) یحيٰ بن ابی کثیر نے مجھ سے بیان کیا ، (کہا :) عبداللہ بن ابی قتادہ نے مجھے بتایا۔ ان کے باپ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ ایک اور سورۃ پڑھا کرتے تھے اور کبھی کبھی کوئی آیت بھی ہمیں سنا دیتے اور پہلی رکعت میں قرأت لمبی کرتے تھے۔
(تشریح)ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا :) ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے يحيٰ بن ابی کثیر سے، يحيٰ نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی ﷺ ظہر کی پہلی رکعت میں قرأت لمبی کیا کرتے تھے اور دوسری رکعت میں چھوٹی اور صبح کی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ ان دونوں نے ابن شہاب کو بتایا: حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ کیونکہ جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے موافق ہوگی۔ اس کے جو گناہ پہلے ہو چکے ہوں ان کی مغفرت کی جائے گی۔ ابن شہاب نے کہا: اور رسول اللہ ﷺ بھی آمین کہتے تھے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آمین کہے اور آسمان پر ملائکہ بھی آمین کہیں اور پھر وہ ایک دوسرے کے مطابق ہو جائیں تو جو گناہ اس سے پہلے ہو چکے ہوں ان کی مغفرت کی جائے گی۔
(تشریح)