بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے قیس (بن ابی حازم) سے روایت کی (اور کہا) کہ میں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس اقرار پر بیعت کی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور نماز سنوار کر پڑھوں گا اور زکوٰۃ دوں گا اور (ہر حکم رسول اللہؐ کا) سنوں گا اور اطاعت کروں گا اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا۔
صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہم سے بیان کیا۔ معمر نے عبداللہ بن طائوس سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قافلہ سواروں سے (جو غلہ لے کر آئیں) آگے جا کر نہ ملا کرو اور شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے۔ (طائوس نے) کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا: حضورؐ کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے کہ شہری دیہاتی کے لئے نہ بیچے؟ تو انہوں نے کہا: اس کے لئے دلّال نہ بنے۔
(تشریح)عبداللہ بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعلی حنفی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ شہری غیر شہری کا مال فروخت کرے اور حضرت ابن عباسؓ نے بھی یہی کہا ہے۔
(تشریح)مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن جریج نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور فریب سے قیمت نہ بڑھائے اور شہری دیہاتی کے لئے نہ بیچے۔
محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا، (کہا:) معاذ (ابن معاذ) نے ہمیں بتایا کہ (عبداللہ) بن عون نے محمد (بن سیرین) سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس بات سے روکے گئے تھے کہ کوئی شہری دیہاتی کے لئے خرید و فروخت کرے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا) کہ عبیداللہ عمری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سعید بن ابی سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے آگے جاکر ملنے سے منع فرمایا ہے اور اِس اَمر سے بھی کہ کوئی شہری دیہاتی کے لئے خرید و فروخت کرے۔
عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن طائوس سے اور ابن طائوس نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آنحضرتﷺ کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے کہ شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کا دلّال نہ بنے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا، کہا کہ (سلیمان) تیمی نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوعثمان سے، ابوعثمان نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جو ایسا جانور خریدے جس کا دودھ تھنوں میں روک کر جمع کیا گیا ہو تو چاہیے کہ اسے واپس کردے اور ساتھ ہی ایک صاع (کھجور) بھی دے۔ انہوں نے کہا: اور نبی ﷺ نے تجارتی قافلوں کو آگے جا کر ملنے سے بھی روکا ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے اور تجارتی سامان لانے والوں سے آگے جاکر نہ ملا کرو؛ جب تک کہ مال منڈی میں لے جاکر اُتارا نہ جائے۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے نافع سے اور نافع نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم (غلہ لانے والے) قافلوں سے آگے جاکر ملا کرتے اور ان سے غلہ خریدتے تھے تو نبی ﷺ نے ہمیں اس خرید و فروخت سے منع کیا، تاوقتیکہ غلے کو منڈی میں پہنچا دیا جائے۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا کہ یہ جگہ منڈی کے بالائی حصے میں تھی اور عبیداللہ کی حدیث میں اس کا واضح بیان ہے۔