بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم تو کہتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں بہت بیان کرتا ہے اور کہتے ہو کہ مہاجرین اور انصار کو کیا ہوا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے ایسی حدیثیں بیان نہیں کرتے جیسے ابوہریرہ حدیثیں بیان کرتا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ میرے مہاجرین بھائیوں کو بازاروں میں سودا سلف کے لین دین کا شغل رہتا اور میں جونہی اپنا پیٹ بھر لیتا، رسول اللہ ﷺ سے چمٹا رہتا۔ میں (آپؐ کی خدمت میں اُس وقت بھی) حاضر ہوتا جبکہ وہ غائب ہوتے اور میں یاد رکھتا اور وہ بھول جاتے اور میرے انصار بھائی اپنے مالی کاروبار میں مشغول رہتے اور میں مساکین اہل صفہ میں سے ایک مسکین شخص تھا۔ میں یاد رکھتا جبکہ وہ بھول جاتے اور رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث کے دوران جو آپؐ بیان کر رہے تھے، فرمایا کہ اگر کوئی اپنا کپڑا اُس وقت تک پھیلائے رکھے گا جب تک کہ میں اپنی یہ بات ختم نہ کرلوں، پھر وہ اپنا کپڑا سمیٹ لے تو جو بات میں کہتا ہوں، اُسے ضرور یاد رکھے گا۔ چنانچہ میں نے وہ کملی جو اوڑھا کرتا تھا، بچھا دی۔ یہاں تک کہ جب رسول اللہ ﷺ اپنی بات ختم فرما چکے تو میں نے اسے سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ اُس کے بعد جو بات رسول اللہ ﷺ نے فرمائی اُسے میں کبھی نہیں بھولا۔
عبدالعزیز بن عبداللہ (اویسی) نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے اُن کے دادا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ص کہتے ہیں: جب ہم مدینہ میں آئے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور سعدؓ بن ربیع کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا تو سعدؓ بن ربیع نے کہا: میں انصار میں سے زیادہ مالدار ہوں۔ سو میں تقسیم کرکے نصف مال آپؓ کو دے دیتا ہوں اور دیکھئے میری دو بیویوں میں سے جونسی آپؓ پسند کریں، میں آپؓ کے لئے اُس سے دستبردار ہو جائوں گا۔ جب اُس کی عدت گذر جائے تو اُس سے آپؓ نکاح کر لیں۔ راوی کہتا ہے کہ (یہ سن کر) حضرت عبدالرحمنؓ نے ان سے کہا: مجھے اِس کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیا یہاں کوئی منڈی ہے جس میں تجارت ہوتی ہو؟ تو انہوں نے کہا: قینقاع کی منڈی ہے۔ راوی کہتا ہے کہ حضرت عبدالرحمنؓ یہ معلوم کرکے صبح سویرے وہاں گئے اور پنیر اور گھی لے آئے۔ راوی نے کہا: پھر اِسی طرح ہر صبح آپؓ وہاں منڈی میں جاتے رہے۔ ابھی کچھ عرصہ نہ گذرا تھا کہ حضرت عبدالرحمنؓ آئے اور اُن پر زعفران کا نشان تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا آپؓ نے شادی کر لی ہے؟ عرض کیا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کس سے؟ کہا: انصار کی ایک عورت سے۔ فرمایا: کتنا مہر دیا ہے؟ عرض کیا: ایک گٹھلی برابر سونا یا (یہ کہا کہ) سونے کی گٹھلی۔ نبی ﷺ نے اُن سے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ ایک بکری کا ہی سہی۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زُہَیر نے ہمیں بتایا کہ حمید (طویل) نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن عوفؓ مدینہ میں آئے تو نبی ﷺ نے اُن کو اور سعد بن ربیع انصاریؓ کو بھائی بھائی بنا دیا اور سعدؓ دولت مند تھے۔ انہوں نے عبدالرحمنؓ سے کہا: میں اپنا مال آپؓ کو آدھوں آدھ بانٹ دیتا ہوں اور آپؓ کا نکاح بھی کر دیتا ہوں تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپؓ کے اہل اور مال میں آپؓ کے لئے برکت دے۔ آپؓ مجھے منڈی کا پتہ دیں (چنانچہ وہ منڈی گئے اور) وہ وہاں سے نہیں لَوٹے؛ یہاں تک کہ پنیر اور گھی بچا کر اپنے گھر والوں کے پاس لے آئے۔ تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا یا جتنا اللہ نے چاہا کہ عبد الرحمنؓ (ایک دن) آئے تو اُن پر زعفران کا نشان تھا۔ نبی ﷺ نے اُن سے فرمایا: یہ کیسا نشان ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ آپؐ نے پوچھا: اسے کیا مہر دیا ہے؟ جواب دیا کہ سونے کی ڈلی یا (یہ کہا:) گٹھلی برابر سونا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ولیمہ کریں خواہ ایک بکری ہی کا سہی۔
عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو (بن دینار) نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں عکاظ، مجنہ اور ذو المجاز منڈیاں تھیں۔ جب اِسلام کا زمانہ آیا تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نے اُن میں کاروبار کرنا گناہ سمجھا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: تمہارے لئے گناہ کی بات نہیں کہ تم اپنے ربّ کے فضل کی جستجو حج کے موسموں میں کرو۔ حضرت ابن عباسؓ نے اِس (آیت) کو (اِسی طرح) پڑھا۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن ابی عدی نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن عون سے، ابن عون نے (عامر) شعبی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ اس کی دوسری سند یوں ہے: اور علی بن عبداللہ (مدینی) نے بھی ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ ابوفروہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے شعبی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیرؓ سے سنا کہ نبی ﷺ سے مروی ہے۔ اس کی تیسری سند یوں ہے: اور عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا کہ ابوفروہ (عروہ بن حارث) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے شعبی سے سنا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی ﷺ سے مروی ہے۔ چوتھی سند یوں ہے: (اور) محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابوفروہ سے، ابوفروہ نے شعبی سے، شعبی نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور اُن کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں۔ پس جس نے وہ چیز چھوڑ دی جس میں گناہ کا اِشتباہ ہے تو وہ کھلے گناہ کو بطریق اولیٰ چھوڑنے والا ہوگا اور جس نے ایسے اَمر کے اِرتکاب کی جرأت کی جس میں گناہ کا اِشتباہ ہے تو قریب ہے کہ وہ کھلے کھلے گناہ میں مبتلا ہو جائے اور نافرمانی کی باتیں اللہ کی طرف سے ممنوعہ چراگاہ ہیں۔ جو شخص چراگاہ کے اِردگرد چرائے، قریب ہے کہ اس میں جا پڑے۔
(تشریح)محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں خبر دی۔ عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن ابی ملیکہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام عورت آئی اور کہنے لگی کہ اُس نے ان دونوں (عقبہؓ اور اُس کی بیوی عینیہؓ ) کو دودھ پلایا ہے تو حضرت عقبہؓ نے نبی ﷺ سے ذکر کیا۔ نبی ﷺ اُن سے منہ پھیر کر مسکرائے۔ فرمایا: (اب یہ عورت) کیونکر (رہ سکتی ہے) جبکہ یہ کہا گیا ہے اور ابواہاب تمیمی کی بیٹی (حضرت عینیہؓ ) حضرت عقبہؓ کی بیوی تھیں۔
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاصؓ کو وصیت کی کہ زمعہ کی کنیز کا بیٹا میرا ہے، اُسے لے لینا۔ (حضرت عائشہؓ) کہتی تھیں: جس سال مکہ فتح ہوا تو سعد بن ابی وقاصؓ نے اُسے لے لیا اور کہا میرے بھائی کا بیٹا ہے۔ مجھے اِس کے متعلق اُس نے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی کنیز کا بیٹا ہے جو اُس کے بستر پر پیدا ہوا تو وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنا جھگڑا لائے۔ سعدؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بھائی کا بیٹا ہے۔ مجھے اِس بارہ میں اُس نے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ نے کہا: میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی کنیز کا بیٹا ہے جو اُس کے بستر پر پیدا ہوا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: عبد بن زمعہ! وہ تیرا ہی ہے۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا: بچہ اُسی کا ہے جو عورت کا جائز خاوند یا مالک ہو اور زانی کے لئے پتھر تیار ہیں۔ پھر آپؐ نے حضرت سودہؓ بنت زمعہ سے جو نبی ﷺ کی زوجہ تھیں، فرمایا: اے سودہ! اِس سے پردہ کریں کیونکہ آپؐ نے دیکھا کہ وہ صورت و شکل میں عتبہ سے ملتا ہے۔ پھر اُس نے حضرت سودہؓ کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ اللہ سے جا ملا۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، کہا: عبداللہ بن ابی سفر نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے شعبی سے، شعبی نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے بے نوک تیر کی نسبت پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ جب تیر اپنی دھار سے شکار کو لگے تو کھا لو اور جب تیر کی جھپٹ سے مر جائے تو نہ کھاؤ۔ کیونکہ اس صورت میں وہ چوٹ سے مرا ہوا شکار ہوگا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے کتے کو چھوڑتا ہوں اور (چھوڑنے سے پہلے) بسم اللہ پڑھ لیتا ہوں اور جب شکار لینے جاتا ہوں تو اپنے کتے کے ساتھ اور کتا بھی پاتا ہوں جس پر میں نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہوتی اور مجھے یہ پتہ نہیں لگتا کہ کس کتے نے شکار کیا۔ آپؐ نے فرمایا: نہ کھاؤ۔ کیونکہ تم نے تو اپنا کتا چھوڑنے پر ہی بسم اللہ پڑھی تھی اور دوسرے پر بسم اللہ نہیں پڑھی۔
(تشریح)قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، انہوں نے طلحہ سے، طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ ایک گری پڑی کھجور کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ صدقہ کی ہوگی تو میں اسے کھاتا۔ اور ہمام (بن منبّہ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ نبی ﷺ سے مروی ہے۔ آپؐ نے (یوں) فرمایا کہ میں اپنے بچھونے پر پڑی ہوئی کھجور پاتا ہوں۔
ابو نعیم (فضل بن دکین) نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عباد بن تمیم سے، عباد نے اپنے چچا (عبداللہ بن زید مازنی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص کے متعلق نبی ﷺ کی خدمت میں شکوہ کیا گیا کہ اسے نماز میں (وضو ٹوٹنے کے متعلق) کچھ وسوسے اُٹھتے ہیں۔ اِس صورت میں کیا وہ نماز توڑ دے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ پائے۔ اور (محمد) ابن ابی حفصہ نے زہری سے نقل کیا کہ وضو کی اس وقت ضرورت ہے جبکہ تو بو پائے یا آواز سنے۔