بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
86. The sale of date-palms before their benefit is evident
باب ۸۶ : بَيْعِ النَّخْلِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا
کھجور کے درخت بیچنا قبل اس سے کہ اس کے پھل کی پختگی ظاہر ہو جائے
علی بن ھیثم نے مجھ سے بیان کیا کہ معلی (بن منصور) نے ہمیں بتایا کہ ہشیم (بن بشیر) نے ہم سے بیان کیا کہ حمید نے ہمیں خبر دی، (کہا) کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا۔ نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپؐ نے پھل بیچنے سے منع فرمایا تاوقتیکہ اس کی پختگی ظاہر ہو جائے اور کھجور کے درخت بیچنے سے منع فرمایا تاوقتیکہ وہ شوخ رنگ ہو جائے۔ (حضرت انسؓ سے) پوچھا گیا کہ شوخ رنگ کا کیا مطلب؟ کہا: سرخ رنگ ہو جائے یا زرد۔
87. If somebody sells fruits before their benefit is evident
باب ۸۷ : إِذَا بَاعَ الثِّمَارَ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا ثُمَّ أَصَابَتْهُ عَاهَةٌ فَهُوَ مِنَ الْبَائِع
اس بیان میں کہ اگر کوئی پھل بیچے قبل اس کے کہ اس کی صلاحیت نمایاں ہو پھر اس پر کوئی آفت آجائے تو وہ نقصان بیچنے والے کا ہوگا
88. To buy foodstuff on credit
باب ۸۸ : شِرَاءِ الطَّعَامِ إِلَى أَجَلٍ
اناج ایک وقت مقررہ کے لئے اُدھار پر خریدنا
89. To buy dates for Riba-Al-Fadl
باب ۸۹ : إِذَا أَرَادَ بَيْعَ تَمْرٍ بِتَمْرٍ خَيْرٍ مِنْهُ
اس بارہ میں کہ ) جب کوئی کھجور کے بدلے میں ایسی کھجور لینا چاہے جو اس سے اچھی ہو
90. Sold or rented date-palms which were pollinated, or land which was sown
باب ۹۰ : مَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ أَوْ أَرْضًا مَزْرُوعَةً أَوْ بِإِجَارَةٍ
جو شخص ایسے کھجور کے درخت جو پیوند کئے گئے ہوں یا کاشت کردہ زمین بیچے یا ٹھیکہ پر دے
91. The sale of unharvested crops for a measured quantity of foodstuff
باب ۹۱ : بَيْعِ الزَّرْعِ بِالطَّعَامِ كَيْلاً
غلے کو ماپ کر اس کے عوض کھڑی فصل بیچنا
92. The sale of datepalms completely
باب ۹۲ : بَيْعِ النَّخْلِ بِأَصْلِهِ
کھجور کے درخت بیخ و بن سمیت بیچنا
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ (امام) مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کے بیچنے سے منع فرمایا ہے، تاوقتیکہ وہ شوخ رنگ نہ ہوجائیں۔ آپؐ سے پوچھا گیا کہ شوخ رنگ کیا ہے؟ فرمایا: یہاں تک کہ سرخ رنگ ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بھلا یہ تو بتائو کہ اگر اللہ پھل ہی روک دے تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال کس چیز کے بدلے لے گا۔
اور لیث نے کہا: یونس نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا شخص پھل خریدے قبل اس کے کہ اس کی صلاحیت کی حالت نمایاں ہو اور پھر اس پر کوئی آفت آجائے تو اس کے نقصان کی ذمہ داری اس کے مالک پر ہے۔ (ابن شہاب زہری نے کہا:) سالم بن عبداللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھل آپس میں نہ بیچا کرو تاوقتیکہ اس کی صلاحیت کی حالت ظاہر نہ ہو جائے اور خشک کھجور کے بدلے میں پھل (جو درخت پر ہے) نہ بیچو۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم (نخعی) کے پاس ہم نے قرضے میں رہن رکھنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا: اس میں کوئی قباحت نہیں۔ پھر انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی کہ اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ایک یہودی سے ایک مقررہ وقت تک کے لئے غلہ خریدا اور اپنی زِرہ اس کے پاس رہن رکھی۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمن سے، عبدالمجید نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو خیبر کا محصل مقرر فرمایا اور وہ آپؐ کے پاس عمدہ قسم کی کھجوریں لایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ بخدا یا رسول اللہ! ہم اس کا ایک صاع دوسری کھجور کے دو صاع کے بدلے میں اور دو صاع تین صاع کے بدلے میں لیتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو۔ ملی جلی اکٹھی کھجوریں درہم کے عوض فروخت کر دیا کرو۔ پھر ان درہموں سے عمدہ کھجوریں خریدو۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمن سے، عبدالمجید نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو خیبر کا محصل مقرر فرمایا اور وہ آپؐ کے پاس عمدہ قسم کی کھجوریں لایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ بخدا یا رسول اللہ! ہم اس کا ایک صاع دوسری کھجور کے دو صاع کے بدلے میں اور دو صاع تین صاع کے بدلے میں لیتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو۔ ملی جلی اکٹھی کھجوریں درہم کے عوض فروخت کردیا کرو۔ پھر ان درہموں سے عمدہ کھجوریں خریدو۔
ابو عبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: ابراہیم (بن منذر) نے مجھ سے کہا: ہشام (بن سلیمان) نے ہمیں خبر دی۔ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا۔ وہ نافع سے جو حضرت ابن عمرؓ کے آزاد کردہ غلام تھے، روایت کرتے ہوئے بتا رہے تھے۔ پیوند شدہ کھجور کا درخت جو بیچا جائے اور پھل کا ذکر نہ کیا جائے تو وہ پھل اس کا ہوگا جس نے اس کو پیوند کیا ہے اور اسی طرح غلام اور کھیت بھی۔ نافع نے (ابن جریج کی روایت میں) ان تینوں (یعنی کھجور کے درخت، غلام اور کھیتی) کا نام لیا تھا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کھجور کے ایسے درخت فروخت کئے جن کے پھل پیوند کئے جا چکے ہوں، ان کا پھل بیچنے والے کا ہوگا بجز اِس کے کہ خریدار شرط کر لے۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے (اور مزابنہ یہ ہے) کہ کوئی اپنے باغ کا پھل بیچے۔ اگر کھجور کے درخت ہوں تو ان کی خام کھجوریں پختہ کھجوروں کے بدلے میں ماپ کر دی جائیں اور اگر وہ انگور کی بیلیں ہیں تو ان کا خام پھل، منقہ کو ماپ کر اس کے عوض بیچا جائے اور اگر کھڑی فصل ہو تو غلّہ کو ماپ کر اس کے عوض میں خریدی جائے اور آنحضرت ﷺ نے اس قسم کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے بھی کھجور کے درخت کے پھل پیوند کئے ہوں ؛ پھر وہ کھجور بیخ و بن سمیت بیچ دے تو ایسی کھجوروں کا پھل اس شخص کا ہوگا جس نے پیوند کیا ہو؛ بجز اِس کے کہ خریدار (اس کی) شرط کر لے۔