بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 261 hadith
اور ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا۔ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے بیت اللہ کا ایک ہی طواف (طوافِ زیارت) کیا۔ پھر قیلولہ کرتے۔ پھر منیٰ میں آتے یعنی قربانی کے دن۔ اور عبد الرزاق نے یہ حدیث مرفوع بیان کی۔ (کہا:) عبید اللہ نے ہمیں خبر دی۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ جعفر بن ربیعہ سے مروی ہے۔ انہوں نے اعرج سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی ﷺ کے ساتھ ہم نے حج کیا اور قربانی کے دن واپس آکر طواف کیا۔ حضرت صفیہؓ کو حیض آیا تو نبی ﷺ نے اُن سے چاہا جو مرد اپنی بیوی سے چاہتا ہے تو میں نے کہا: یارسول اللہ! وہ حائضہ ہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا: کیا وہ ہمیں (کوچ سے) روکے رکھیں گی؟ اہل بیت نے کہا: یارسول اللہ! وہ قربانی کے دن طوافِ زیارت کر چکی ہیں۔ فرمایا: تو کوچ کرو۔ قاسم، عروہ اور اسود سے مذکور ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) حضرت صفیہؓ نے قربانی کے دن طوافِ زیارت کر لیا تھا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ (عبداللہ) بن طائوس نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ سے ذبح کرنے، سر منڈانے، رمی اور ان میں سے کسی بات کو آگے پیچھے کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ خالد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ سے قربانی کے دن منیٰ میں مسئلے پوچھے جاتے تو آپؐ فرماتے: کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ ایک شخص نے آپؐ سے دریافت کیا۔ کہا: میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے۔ فرمایا: ذبح کر لے کوئی حرج نہیں اور انہوں نے کہا: شام ہو جانے کے بعد میں نے رمی کی۔ تو آپؐ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے۔ انہوں نے عیسٰی بن طلحہ سے، عیسٰی نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں وقوف کیا تو وہ آپؐ سے مسئلے پوچھنے لگے۔ ایک شخص نے کہا: مجھے معلوم نہ تھا اور میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے۔ فرمایا: ذبح کر لے، کوئی حرج نہیں۔ ایک اور شخص آیا۔ اس نے کہا: مجھے معلوم نہ تھا۔ میں نے رمی سے پہلے ذبح کر لیا ہے۔ فرمایا: رمی کر لے، کوئی حرج نہیں۔ اس دن کسی امر کی تقدیم و تاخیر کے متعلق آپؐ سے جب بھی دریافت کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا: ایسا کر لو، کوئی حرج نہیں۔
سعید بن یحيٰ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے ہم سے بیان کیا کہ زہری نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عیسٰی بن طلحہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے (عیسیٰ بن طلحہ) سے بیان کیا کہ وہ موجود تھے؛ جب نبی ﷺ نے قربانی کے دن لوگوں سے خطاب فرمایا تھا۔ ایک شخص اُٹھ کر آپؐ کی طرف گیا اور کہنے لگا: میں سمجھتا تھا کہ فلاں بات فلاں بات سے پہلے ہے۔ پھر ایک دوسرا اُٹھا تو اس نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ فلاں بات فلاں بات سے پہلے ہے۔ یعنی ذبح کرنے سے پہلے سر منڈایا ہے اور رمی سے پہلے ذبح کر لیا ہے اور ایسی اور باتیں بھی؛ تو نبی ﷺ نے ان سب باتوں سے متعلق فرمایا: کر لے، کوئی حرج نہیں۔ اس دن آپؐ سے جو بات دریافت کی گئی، اس کا آپؐ نے یہی جواب دیا: کر لے، کوئی حرج نہیں۔
اسحق نے ہم سے بیان کیا، کہا: یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں خبر دی کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے صالح سے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا) کہ عیسٰی بن طلحہ بن عبیداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر وقوف کیا۔… پھر اسی حدیث کا ذکر کیا۔ معمر نے بھی زہری سے روایت کرتے ہوئے صالح کی طرح یہی حدیث بیان کی۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے مجھے بتایا۔ فضیل بن غزوان نے ہم سے بیان کیا۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ قربانی کے دن لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: لوگو! یہ کون سا دن ہے؟ انہوں نے کہا: حرمت والا دن ہے۔ فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ انہوں نے کہا: حرمت والا شہر۔ آپؐ نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ انہوں نے کہا: حرمت والا مہینہ۔ فرمایا: تو یاد رکھو کہ تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں تم پر اسی طرح حرام (قابل عزت) ہیں، جیسا کہ تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر میں اس مہینہ میں۔ آپؐ نے یہ بات کئی بار دہرائی۔ پھر آپؐ نے اپنا سر (آسمان کی طرف) اُٹھایا۔ فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پورے طور پر (تیرا حکم) پہنچا دیا ہے؟ اے اللہ! میں نے (تیرا حکم) پورے طور پر پہنچا دیا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اسی کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ بات آپؐ کی وصیت ہی تھی؛ جو آپؐ نے امت کو کی۔ سو چاہیے کہ جو یہاں موجود ہوں ؛ وہ غیر موجود کو پہنچا دیں۔ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اُڑاتے رہو۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ عمرو نے مجھے خبر دی۔ کہا: جابر بن زید سے میں نے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ عرفات میں لوگوں سے مخاطب تھے۔ ابن عیینہ نے شعبہ کی طرح یہ بات عمرو (بن دینار) سے روایت کرتے ہوئے بیان کی۔
عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعامر نے ہمیں بتایا۔ قرۃ نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن سیرین سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوبکرہؓ سے مروی ہے کہ ایک اور شخص نے بھی بیان کیا؛ جو میرے نزدیک عبدالرحمن سے افضل ہے کہ حمید بن عبدالرحمن نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ قربانی کے دن ہم سے مخاطب ہوئے۔ فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کونسا دن ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ آپؐ اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ کونسا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ آپؐ اس مہینہ کا کوئی اور نام رکھیں گے تو آپؐ نے فرمایا: کیا یہ ذوالحج کا مہینہ نہیں؟ ہم نے کہا: بیشک (ذوالحج کا مہینہ ہی ہے۔) فرمایا: یہ کونسا شہر ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ آپؐ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: کیا یہ حرمت والا شہر نہیں؟ ہم نے کہا: ضرور۔ فرمایا: تو پھر یاد رکھو کہ تمہارے خون، تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام (باعزت) ہیں؛ جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس مہینہ میں، تمہارے اس شہر میں، اس روز تک کہ تم اپنے ربّ سے ملو۔ سنو! کیا میں نے (اللہ کا حکم) پورے طور پر پہنچا دیا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: اے میرے اللہ! گواہ رہ۔ چاہیے کہ جو یہاں موجود ہے، وہ غیر موجود کو یہ بات پہنچا دے۔ کیونکہ بسا اوقات جسے بات پہنچائی جاتی ہے، وہ سننے والے سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے۔ سو میرے بعد پھر کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے رہو۔