بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 76 hadith
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: سلیمان نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے عمرو بن ابی عمرو سے، عمرو نے سعید بن ابی سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ (آپ سے) پوچھا گیا: یا رسول اللہ! قیامت کے روز لوگوں میں سے وہ کون خوش قسمت ہے جس کی آپ سفارش فرمائیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہی خیال تھا کہ تم سے پہلے یہ بات سے اور کوئی نہیں پوچھے گا۔ کیونکہ میں دیکھ چکا ہوں جو حرص تمہیں حدیث کے متعلق ہے۔ قیامت کے روز میری شفاعت کے ذریعہ لوگوں میں سے خوش قسمت وہ شخص ہوگا جس نے اپنے دل یا نفس کے ساتھ کہا: اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) narrated that he asked: ‘O Messenger of Allāh! Who will be the most privileged among people in receiving your intercession on the Day of Resurrection?’ The Messenger of Allāh (sa) replied: ‘Abū Hurairah, I knew that no one would ask me about this matter before you, for I have observed your eagerness for [learning] Ḥadīth. The most privileged among people who will receive my intercession on the Day of Resurrection will be the one who sincerely utters, “There is none worthy of worship except Allāh (lā ilāha ill-allāh)” from his heart or his soul.’
ہم سے اسماعیل بن ابی اُولیس نے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ بندوں سے یونہی چھینا جھپٹی کر کے علم نہیں اٹھایا کرتا بلکہ وہ علماء کو اٹھا کر علم اٹھا لیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں رہتا تو لوگ ایسے جاہلوں کو سردار بنا لیتے ہیں کہ جن سے اگر (کوئی مسئلہ) پوچھا جائے تو بغیر علم کے فتویٰ دیتے ہیں۔ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ فربری کہتے تھے: حضرت عباس نے ہم سے بیان کیا۔ کہا: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ کہا: جریر نے ہشام سے روایت کرتے ہوئے ہمیں اسی طرح بتلایا۔
(تشریح)ʿAbd Allāh ibn ʿAmr ibn al-ʿĀṣ (r.a) narrated: ‘I heard the Messenger of Allāh (sa) saying: “Certainly, Allāh will not snatch knowledge from people; rather, he will take knowledge away by taking away the learned ones. When no learned ones remain, people will take ignorant ones as their leaders, who, when asked questions, will give religious verdicts without knowledge, thus leading themselves and others astray”.’
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابن اصبہانی نے مجھے بتلایا۔ کہا: میں نے ابوصالح ذکوان سے سنا۔ وہ حضرت ابوسعید خدری سے روایت کرتے تھے کہ عورتوں نے نبی ﷺ سے کہا کہ مرد آپ کو تنہا نہیں چھوڑتے کہ ہم آپ کے پاس آ سکیں۔ اس لئے آپ خود ہی ہمارے لئے ایک دن مقرر کر دیں۔ چنانچہ آپ نے ان کے لئے ایک دن مقرر کیا جس میں آپ ان کے پاس آئے اور انہیں نصیحت کی اور انہیں کرنے کی باتیں بتلائیں اور منجملہ ان باتوں کے جو آپ نے ان سے کہی یہ بات بھی تھی کہ تم میں سے جس عورت نے اپنے بچوں میں سے تین بچے آگے بھیجے ہوں گے تو وہ اس کے لئے آگ سے روک بنیں گے۔ اس پر ایک عورت نے کہا: اور دو بھی۔ فرمایا: دو بھی۔
Abū Saʿīd al-Khudrī (r.a) narrated: ‘Women said to the Prophet (sa): “Men have surpassed us in spending time with you, so designate a day specifically for us [to learn from you].” So he promised them a day on which to meet them. During this day, he preached to them and imparted guidance to them. Among his teachings was: “For any woman who loses three of her children, they will serve as a shield for her from the fire [of Hell].” A woman asked: “What about two?” He replied: “Two as well”.’
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن اصبہانی سے، عبدالرحمن نے ذکوان سے، ذکوان نے حضرت ابو سعید خدری سے، حضرت ابو سعید نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے یہی بتلایا اور عبدالرحمن بن اصبہانی سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو حازم سے سنا۔ وہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین ایسے (بچے) جو بھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں۔
(تشریح)And Abū Hurairah (r.a) narrated [regarding Ḥadīth 101 that the Prophet (sa) said]: ‘Three [children] who have not yet reached the age of accountability.’
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا: نافع بن عمر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ابوملیکہ کے بیٹے نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ ﷺ کی بیوی جس بات کو نہ جانتی ہوتیں، جب بھی اسے وہ سنتیں تو وہ ضرور ہی اس کے متعلق دوبارہ پوچھتیں۔ یہاں تک کہ وہ اسے اچھی طرح سمجھ لیتیں اور یہ کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس سے حساب لیا گیا، اسے سزا دی گئی۔ (حضرت عائشہ کہتی تھیں: ) اس پر میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتا یعنی عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔ کہتی تھیں: آپ نے فرمایا کہ یہ تو صرف پیش کرنا ہے۔ حساب میں جس کی نکتہ چینی اور چھان بین ہوئی، وہ ہلاک ہوگا۔
(تشریح)Ibn Abī Mulaikah related that, whenever something was unclear to ʿĀʾishah (r.a), the wife of the Prophet (sa), she would persistently inquire about it until she grasped it. Once the Prophet (sa) said: ‘Whoever is called to account [on the Day of Resurrection] will be punished.’ ʿĀʾishah (r.a) said: ‘I asked, “Does Allāh the Exalted not say: ‘He will soon have an easy reckoning’?”’ (Sūrat al-Inshiqāq, 84:9). He [the Prophet (sa)] replied: “That is only the presentation [of the reckoning], but whoever is summoned to explain the reckoning will be destroyed”.’
ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: لیث نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سعید نے حضرت ابوشریخ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا اور وہ (اس وقت) مکہ کی طرف فوجیں بھیج رہے تھے۔ اے امیر! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کو ایک ایسی بات بتاؤں جو نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن کھڑے ہو کر بیان کی تھی۔ میرے دونوں کانوں نے وہ سنی اور میرے دل نے یاد کر لی اور جب آپ نے وہ کہی تھی تو میری دونوں آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں۔ اللہ کی حمد آپ نے بیان کی اور اس کی تعریف کی۔ پھر فرمایا کہ اللہ نے مکہ کو عزت دی ہے اور لوگوں نے اس کو عزت نہیں دی۔ اس لئے جو آدمی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے جائز نہیں کہ اس میں خون بہائے یا کسی درخت کو کاٹے۔ پس اگر کوئی اس وجہ سے اس کے متعلق اجازت سمجھے کہ رسول اللہ ﷺ اس میں لڑے تھے تو تم کہو کہ اللہ ہی نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور اس نے تمہیں اجازت نہیں دی اور مجھے بھی صرف دن میں سے ایک گھڑی بھر ہی اس کے متعلق اجازت دی گئی تھی۔ پھر اس کا ادب آج ویسے کا ویسا ہو گیا ہے جیسے اس کا ادب کل تھا اور چاہیے کہ جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے۔ اس پر حضرت ابو شریح سے پوچھا گیا کہ عمرو بن سعید نے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: ابو شریح! میں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ مکہ نافرمان کو پناہ نہیں دیتا اور نہ ایسے شخص کو جو خون کر کے بھاگا اور نہ ایسے کو جو کوئی خرابی کر کے بھاگا۔
Abū Shuraiḥ (r.a) narrated that he said to ʿAmr ibn Saʿīd when he was dispatching troops to Makkah [to fight ʿAbd Allāh ibn al-Zubair (r.a)]: ‘O Chief! Allow me to relate to you a statement the Messenger of Allāh (sa) made the day after the Conquest of Makkah. My ears heard it, my heart retained it, and my eyes witnessed him as he said it. He praised and glorified Allāh, and then said: “Verily it is Allāh Who has made Makkah sacred, it is not people who have made it sacred. Therefore, it is not lawful for anyone who believes in Allāh and the Last Day to shed blood therein or to cut down its trees. If someone asserts that it [i.e. fighting in it] is allowed because the Messenger of Allāh (sa) fought in it, say [to him]: Allāh gave permission to His Messenger [to fight in it], not to you. He gave me permission only for a few hours of one day, and today its sanctity is reinstated as it was yesterday. Let those who are present convey this to those who are absent”.’ Abū Shuraiḥ (r.a) was asked: ‘What did ʿAmr say [in reply]?’ He [ʿAmr] replied: ‘O Abū Shuraiḥ, I know more [about this] than you do. It does not grant refuge to one who rebels, nor to one who flees after committing murder or engaging in malicious destruction (kharbah).’
ہم سے عبد اللہ بن عبد الوہاب نے بیان کیا، کہا: حماد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے محمد بن سیرین سے، محمد نے ابوبکرہ کے بیٹے سے، انہوں نے (اپنے باپ) ابو بکرہ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی ﷺ کا ذکر کیا کہ آپ نے فرمایا: تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری آبرو تمہارے لئے ایسی معزز ہیں جیسے اس مہینے میں تمہارا یہ دن معزز ہے۔ سوچا چاہیے کہ جو تم میں سے حاضر ہے وہ غیر حاضر کو پہنچا دے۔ محمد بن سیرین کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا۔ یہ ہو چکا۔ آپ نے دو دفعہ فرمایا: کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟
(تشریح)Abū Bakrah (r.a) narrated that the Prophet (sa) said: ‘Verily your blood and your wealth’ – Muḥammad [a narrator] said, ‘I think he also said “and your honour”’ – ‘are sacred to one another as this day of yours is sacred, in this [sacred] month of yours. Now, let those of you who are present convey this to those who are absent.’ Muḥammad [a narrator] would say: ‘The Messenger of Allāh (sa) has spoken the truth. This is what occurred. He [the Prophet (sa)] repeated twice: “Indeed, have I conveyed the message”?’
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: منصور نے مجھے بتلایا۔ میں نے ربعی بن حراش سے سنا۔ میں نے علی سے سنا۔ وہ کہتے تھے نبی ﷺ نے فرمایا: مجھ پر جھوٹ مت باندھو۔ کیونکہ جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا تو پھر وہ آگ میں ہی داخل ہو۔
ʿAlī (r.a) narrated that the Prophet (sa) said: ‘Do not falsely attribute anything to me, for whoever falsely attributes anything to me will certainly enter the Fire.’
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے جامع بن شداد سے، جامع نے عامر بن عبد اللہ بن زبیر سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت زبیر سے کہا کہ میں آپ سے نہیں سنتا کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے اس طرح باتیں بیان کرتے ہوں جس طرح کہ فلان فلان شخص باتیں بیان کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: میں تو آپ سے کبھی بھی الگ نہیں ہوا۔ مگر بات یہ ہے کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا تھا کہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے تو وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنالے۔
ʿAbd Allāh ibn al-Zubair (r.a) reported: ‘I said to Zubair [i.e. his father]: “I do not hear you narrating from the Messenger of Allāh (sa) as certain other people do.” He replied: ‘I was never far away from him, but I heard him say: “Whoever falsely attributes anything to me ought to occupy his place in the Fire [of Hell]”.’
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا، کہا: عبدالوارث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبدالعزیز سے روایت کی کہ حضرت انس کہتے تھے کہ مجھ کو تمہیں بہت حدیثیں بتانے سے یہ بات روکتی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے تو چاہیے کہ وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنا لے۔
Anas (r.a) said: ‘What prevents me from narrating a great number of ḥadīth is that the Prophet (sa) said: “Anyone who intentionally lies about me should occupy his place in the Fire [of Hell]”.’