بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 76 hadith
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہ شعیب نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ ابن وہب نے کہا کہ یونس نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن ابی ثور سے، عبید اللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے، حضرت ابن عباس نے حضرت عمرؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ میں اور انصار میں سے میرا ایک پڑوسی بنوامیہ بن زید میں رہتے تھے اور یہ مدینہ کے ان گاؤں میں سے ہے جو آس پاس اونچی جگہ پر واقع تھے اور ہم باری باری رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتے۔ ایک دن میں جاتا اور جب میں جاتا تو میں اس دن کی وحی وغیرہ کی خبریں اس کے پاس لاتا اور جب وہ جاتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا۔ (ایک دفعہ) میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے دن گیا اور آ کر میرے دروازے کو زور سے کھٹکھٹایا اور پوچھا کہ کیا وہ بہت ہی بڑا حادثہ ہوا ہے۔ اس پر میں باہر نکلا تو اس نے کہا: بہت ہی بڑا حادثہ ہوا ہے میں حفصہ کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ رو رہی ہے۔ میں نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ کہنے لگی: میں نہیں جانتی۔ پھر میں نبی ﷺ کے پاس گیا اور میں نے کھڑے کھڑے پوچھا: کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ فرمایا نہیں۔ اس پر میں نے کہا: اللهُ اکبر۔
(تشریح)ʿUmar (r.a) narrated: ‘Myself and a neighbour of mine from the Anṣār were [residing] among the Banū Umayyah ibn Zaid, who lived in the upper parts (ʿawālī) of Madīnah and we used to take turns in visiting the Messenger of Allāh (sa). My neighbour used to visit one day and I the next. When I went, I would bring him news of that day regarding the revelation and other matters, and when he went, he did the same. On the day my Anṣārī friend had his turn, he went, [then, returning from his visit, he came] and knocked sharply on my door and asked: “Is he here?” I became alarmed and went out to him. He said: “A momentous event has occurred.” [ʿUmar (r.a) continued]: ‘I then went to Ḥafṣah, who was in tears. I asked: “Has the Messenger of Allāh (sa) divorced you all?” She replied: “I do not know.” Then I approached the Prophet (sa) and while standing, inquired: “Have you divorced your wives?” He replied: “No.” Upon hearing this, I exclaimed: “Allāh is the Greatest”.’
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن ابی خالد سے روایت کی، ابن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے روایت کی، قیس نے حضرت ابو مسعود انصاری سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہﷺ، میرے لیے ممکن نہیں کہ میں باجماعت نماز پڑھوں بوجہ اس کے کہ فلاں شخص ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ میں نے نبیﷺ کو کسی وعظ میں اس سے بڑھ کر غصہ میں نہیں دیکھا جتنا کہ اس دن۔ آپ نے فرمایا: “اے لوگو! تم تو نفرت دلا رہے ہو۔ جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو چاہیے کہ وہ ہلکی پڑھائے، کیونکہ ان میں بیمار بھی ہوتا ہے اور کمزور بھی اور حاجت مند بھی۔
Abū Masʿūd al-Anṣārī (r.a) narrated: ‘A man said: “O Messenger of Allāh, I may miss [the obligatory congregational] Prayer due to so-and-so because he prolongs it excessively.” I never saw the Prophet (sa) angrier while delivering a sermon than he was on that day. He said: “O people, indeed you will make them loathe it [i.e. Prayer]. One who leads the people in Prayer should keep it short, for surely among them are the sick, the weak and people who have obligations”.’
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: ابو عامر (عقدی) نے ہم سے بیان کیا۔ ابو عامر نے کہا: سلیمان بن بلال مدینی نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبد الرحمن سے روایت کی، ربیعہ نے یزید سے، جو منبعث کے آزاد کردہ غلام تھے۔ یزید نے زید بن خالد چمنی سے روایت کی کہ نبی ﷺ سے ایک شخص گمشدہ چیز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: “اس کا بندھن یا برتن اور تھیلی پہچان رکھ اور پھر اس کا سال بھر اعلان کرتا رہ۔ اس کے بعد اس سے فائدہ اٹھا۔ پس اگر اس کا مالک آ گیا تو اس کو وہ دیدے۔ اس نے کہا: گمشدہ اونٹ۔ نبی ﷺ پر غصہ آیا، یہاں تک کہ آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے، اور آپ نے فرمایا: “تجھے اس سے کیا واسطہ؟” اُس کے پاس اس کا مشکیزہ ہے اور اس کا موزہ بھی، پانی پر آتا ہے اور درختوں سے چرتا ہے۔ اسے رہنے دو یہاں تک کہ اس کا مالک اسے مل جائے۔ اس نے کہا: گمی ہوئی بکری؟ فرمایا: تیری یا تیرے بھائی کی یا بھیڑیے کی۔
Zaid ibn Khālid al-Juhanī (r.a) narrated that a man asked the Prophet (sa) about [picking up] lost property. He said: ‘Note the material it is bound with – or he said “its container” – and its sack, and make efforts to identify its owner for a year. Then [if no one claims it], you may use it. Then if its owner comes, return it to him.’ He [the man] asked: ‘What about a lost camel?’ He [the Prophet (sa)] became angry to the extent that his cheeks reddened – or he [the narrator] said, ‘his face turned red’ – and he said: ‘What concern is it of yours! It has its water-skin and its feet. It can reach water and graze from trees, so leave it until its owner finds it.’ The man then asked: ‘What about a lost goat?’ He [the Prophet (sa)] replied: ‘It is for you, your brother, or a wolf!’
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا: ابو اسامہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے مُرید سے، بُرید نے ابو بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابو موسی سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ سے بعض ایسی باتوں کے متعلق پوچھا گیا جن کو آپ نے ناپسند کیا۔ جب آپ سے بہت سوال کئے گئے تو آپ کو غصہ آیا اور آپ نے لوگوں سے کہا: پوچھو مجھ سے جس کے متعلق بھی چاہو۔ تب ایک شخص نے کہا: میرا باپ کون ہے؟ فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس کے بعد ایک اور اُٹھا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا: تمہارا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔ جب حضرت عمرؓ نے اس (تغیر) کو دیکھا جو آپ کے چہرہ میں تھا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ ہم اللہ عزوجل کے حضور (اپنی غلطی سے) رجوع کرتے ہیں۔
(تشریح)Abū Mūsá (r.a) narrated: ‘The Prophet (sa) was questioned about some things which he disliked. When the questioning became excessive, he grew exasperated and said to the people: “Ask me whatever you want.” A man asked: “Who is my father?” He [the Prophet (sa)] replied: “Your father is Ḥudhāfah.” Another man got up and asked: “Who is my father, O Messenger of Allāh?” He replied: “Your father is Sālim, the freed slave of Shaibah.” Observing the expression [of displeasure] on the Prophet’s face, ʿUmar (r.a) said: “O Messenger of Allāh! Indeed, we repent to Allāh, the Mighty, the Majestic”.’
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: ہمیں بتلایا۔ وہ کہتے کہ حضرت انس بن مالک نے مجھے بتلایا کہ رسول اللہ صل الله باہر نکلے تو حضرت عبداللہ بن حذافہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہے۔ پھر آپ نے بہت دفعہ فرمایا: پوچھو مجھ سے۔ مگر حضرت عمرؓ اپنے دونوں گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا: بس ہم راضی ہیں کہ اللہ (ہمارا) رب ہے اور اسلام (ہمارا دین ہے اور محمد ﷺ ہمارے) نبی ہیں۔ اس پر آپ خاموش ہو گئے۔
(تشریح)Al-Zuhrī narrated that Anas ibn Mālik (r.a) told him that the Messenger of Allāh (sa) came out and ʿAbd Allāh ibn Ḥudhāfah (r.a) stood up, inquiring: ‘Who is my father?’ He [the Prophet (sa)] replied: ‘Your father is Ḥudhāfah.’ Then he [the Prophet (sa)] repeatedly said: ‘Ask me.’ So ʿUmar (r.a) knelt and said: ‘We are pleased with Allāh as [our] Lord, Islām as [our] religion and Muḥammad (sa) as [our] Prophet.’ Then he [the Prophet (sa)] kept silent.
ہم سے عبدہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: عبداللہ بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ کہا: ثمامہ بن عبد اللہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: انہوں نے حضرت انس سے روایت کی کہ انہوں نے نبی ﷺ کے متعلق بیان کیا کہ آپ جب سلام کرتے تو تین بار السلام علیکم کہتے اور جب کوئی بات کرتے تو اسے تین بار دہراتے۔
Anas (r.a) narrated about the Prophet (sa) that whenever he used to greet [with the greeting ‘assalāmu ʿalaikum’], he would greet three times and whenever he spoke a sentence, he would repeat it three times.
ہم سے عبدہ بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: عبد الصمد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: عبداللہ بن المثنیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ کہا: ثمامہ بن عبداللہ نے ہم سے ابن عبد اللہ نے بتایا۔ انہوں نے کہا: انہوں نے حضرت انس سے روایت کی کہ آپ جب کوئی بات کرتے تو اسے تین بار دہراتے حتی کہ وہ آپ سے سمجھ لی جاتی اور جب آپ کسی قوم کے پاس آتے تو تین بار السلام علیکم کہتے۔
Anas (r.a) narrated, regarding the Prophet (sa) that whenever he said anything, he would say it three times so that it was understood, and when he came to some people and greeted them [with ‘assalāmu ʿalaikum’] he would greet them three times.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: ابو عوانہ نے ہمیں بتلایا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں پیچھے رہ گئے جو کہ ہم نے کیا تھا۔ پھر آپ ہم سے آ ملے اور حالت یہ تھی کہ ہم نماز میں یعنی نماز عصر میں اتنی دیر کر چکے تھے کہ دوسری کا وقت بھی شروع ہونے کو تھا اور ہم ابھی وضو ہی کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر ہم نے اپنے پاؤں کو یونہی پانی سے پونچھنا شروع کر دیا۔ اس پر آپ نے بلند آواز سے پکارا: ہائے شامت! ان ایڑیوں کی آگ سے۔ دو دفعہ یا تین دفعہ فرمایا۔
(تشریح)ʿAbd Allāh ibn ʿAmr (r.a) narrated: ‘The Messenger of Allāh (sa) remained behind on a journey we had made. Then he reached us while we were running late for the ʿAṣr Prayer and performing wuḍūʾ. We were wiping wet hands over our feet, when he called out at the top of his voice, “Woe to the heels from the fire”, repeating it two or three times.’
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا (کہا:) ہمیں بتلایا۔ ہم سے بیان کیا گیا کہ عامر شعبی کہتے تھے کہ ابو بردہ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین آدمی ہیں انہیں دہرا اجر ملے گا۔ وہ شخص جو اہل کتاب میں سے ہے اور اس نے اپنے نبی کو مانا اور محمد ﷺ کو بھی مانا، اور وہ بندہ جو کسی کا غلام ہو بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرتا ہو، اور وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو تو وہ اسے سکھلائے اور اس کو تعلیم دے اور نہایت اچھی تعلیم دے اور پھر اس کو آزاد کر دے اور اس سے شادی کر لے تو ایسے شخص کو بھی دو اجر ملیں گے۔ روایت کر کے عامر کہتے تھے: ہم نے تمہیں یہ حدیث مفت دے دی۔ اس سے چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے سوار ہو کر مدینہ تک جانا پڑتا تھا۔
(تشریح)Abū Burdah (r.a) narrated from his father [Abū Mūsá al-Ashʿarī (r.a)] that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘There are three individuals who will receive a double reward: [1] a man of the People of the Book (ahl al-kitāb) who believes in his own Prophet and believes in Muḥammad (sa), [2] a slave, owned by another person, who fulfills his duties both to Allāh and his master, [3] a man who has a female slave and inculcates good manners in her, and does so in the best way, and he educates her, providing her with the finest education, then sets her free and marries her. Such a person will have a double reward.’ Then ʿĀmir [a narrator] said: ‘We gave this [ḥadīth] to you without charge. In the past, individuals would journey to Madīnah for matters of lesser significance.’
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا شعبہ نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے کہا: میں نے عطاء سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس سے سنا وہ کہتے تھے: میں نبی ﷺ سے متعلق شہادت دیتا ہوں یا عطاء نے کہا: میں حضرت ابن عباس کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ باہر گئے اور آپ کے ساتھ حضرت بلال تھے۔ آپ نے خیال کیا کہ آپ عورتوں کو نہیں سنا سکے۔ اس لئے آپ نے ان کو نصیحت فرمائی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا۔ اس پر عورتیں بالیاں اور انگوٹھیاں پھینکنے لگیں اور حضرت بلال اپنے کپڑے کے دامن میں لیتے جاتے تھے اور اسمعیل نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ ایوب نے عطاء سے یوں روایت کی کہ حضرت ابن عباس نے کہا: میں نبی ﷺ کے متعلق شہادت دیتا ہوں۔
(تشریح)Ibn ʿAbbās (r.a) – or ʿAṭāʾ – said: ‘I witnessed the Prophet (sa) coming out accompanied by Bilāl. Believing that the women did not hear him [i.e. his sermon], he admonished them and instructed them to give in charity. The women started to throw earrings and rings, which Bilāl collected in a portion of his garment.’