بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 76 hadith
ہم سے احمد بن ابی بکر ابو مصعب نے بیان کیا، کہا: محمد بن ابراہیم بن دینار نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے میں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ سے بہت باتیں سنتا ہوں۔ انہیں بھول جاتا ہوں۔ فرمایا: اپنی چادر پھیلا دی۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے: آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو بھر کر ڈالا۔ پھر فرمایا: اس کو اکٹھا کر لو۔ میں نے اسے اکٹھا کر لیا۔ اس کے بعد میں کوئی بات نہ بھولتا تھا۔ ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی فریک نے یہی حدیث بیان کی۔ انہوں نے یا یہ لفظ کہے: آپ نے اپنے ہاتھ سے چلو بھر کر اس میں ڈال دیا۔
Abū Hurairah (r.a) narrated: ‘I said: “O Messenger of Allāh, I hear numerous ḥadīth from you but I tend to forget them.” He replied: “Spread out your garment.” I did so, and he made a gesture of pouring something in it with his hands. Then he instructed: “Gather it up.” So I gathered it up and from that moment onward, I did not forget anything.’ Ibn Abī Fudaik reported a similar account, or described it as: ‘He gestured with his hand, cupping it as if putting something in it.’
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: میرے بھائی نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو طرح کی یاد داشتیں محفوظ رکھی ہیں۔ ان میں ایک جو ہے اس کو تو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسری جو ہے اگر اس کو پھیلاتا تو یہ نرخرا کاٹ دیا جاتا۔ { ابو عبد اللہ نے کہا: بَلْعُومُ جہاں سے کھانا گزرتا ہے۔}
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) narrated: ‘I have retained two kinds of memories from the Messenger of Allāh (sa): I have disseminated one of them, but as for the other, if I were to reveal it, my gullet (balʿūm) would be slit.’ Abū ʿAbd Allāh [al-Bukhārī] said: ‘Balʿūm is the oesophagus.’
ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ کہا: علی بن مدرک نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابوزرعہ سے۔ ابوزرعہ نے حضرت جریر سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے حجتہ الوداع میں ان سے فرمایا: لوگوں کو سننے کے لئے خاموش کراؤ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جاؤ۔
(تشریح)Jarīr (r.a) narrated that the Prophet (sa) said to him at the Farewell Pilgrimage (Ḥajjat al-Wadāʿ): ‘Tell the people to listen silently.’ Then he said [addressing them]: ‘Do not revert to unbelief after me, striking one another’s necks.’
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: عمرو نے ہمیں خبر دی۔ کہا: سعید بن جبیر نے مجھے خبر دی۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عباس سے کہا کہ لوف بکالی کا خیال ہے کہ موسی بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں۔ بلکہ وہ اور موسیٰ ہیں۔ اس پر حضرت ابن عباس نے کہا: اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے۔ ہمیں بتلایا کہ (آپ نے فرمایا:) موسی نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر بنی اسرائیل میں تقریر کی تو ان سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے کون سب سے بڑھ کر عالم ہے۔ اس پر انہوں نے کہا: میں سب سے بڑھ کر عالم ہوں تو اللہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ کیونکہ انہوں نے جواب میں یہ نہیں کہا تھا: اللہ ہی کو علم ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی کی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے۔ وہ تجھ سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسی نے کہا: اے میرے رب! ان سے کس طرح ملا جائے؟ تو انہیں کہا گیا کہ مچھلی کو ایک ٹوکری میں اٹھا لو اور جب تم اس کو نہ پاؤ تو وہ شخص وہیں کہیں ہوگا۔ اس پر حضرت موسی پڑے اور اپنے نوجوان خادم یوشع بن نون کو ساتھ لے لیا اور ٹوکری میں ایک مچھلی اُٹھا لی۔ جب وہ چٹان کے پاس پہنچے تو وہ دونوں سر ٹکا کر سو گئے اور مچھلی ٹوکری سے سرک کر نکل گئی اور وہ پانی کو چیرتے سمندر میں اپنی راہ لگی اور حضرت موسی اور آپ کے خادم کو تعجب ہوا۔ وہ دونوں اپنی باقی ماندہ رات اور سارا دن چلتے رہے۔ جب صبح ہوئی تو حضرت موسی نے اپنے خادم سے کہا: ہمارا کھانا ہمیں دو۔ کیونکہ ہم نے اس سفر سے بہت تکلیف پائی ہے اور حضرت موسی نے ذرا بھی تھکان محسوس نہیں کی۔ اس وقت کہ جب وہ اُس مکان سے آگے گزر گئے، جہاں جانے کا اُن کو حکم ہوا تھا۔ ان کے خادم نے کہا: دیکھا آپ نے، جب ہم نے چٹان کے پاس آرام کیا تھا تو میں مچھلی بھول گیا۔ حضرت موسی نے کہا: یہی تو وہ ہے جو ہم تلاش کر رہے تھے۔ اس پر وہ دونوں اپنے پاؤں کے نشانوں کا کھوج ڈھونڈتے واپس لوٹے۔ جب وہ دونوں اس چٹان کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص ہے جو کپڑے اوڑھے ہوئے ہے۔ حضرت موسی نے سلام کیا اور خضر نے کہا: تمہارے ملک میں کہاں سلامتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ حضرت موسیٰ نے کہا: کیا میں آپ کی پیروی کروں؟ اس شرط پر کہ آپ مجھے راستی میں سے باتیں سکھائیں جو آپ کو سکھلائی گئیں ہیں؟ انہوں نے کہا: اے موسیٰ! تم ہرگز میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے۔ مجھے علم الہی سے وہ علم حاصل ہے جو اس نے مجھے خود سکھایا ہے۔ تم اس کو نہیں جانتے اور تمہیں بھی ایک علم حاصل ہے جو تمہیں (اللہ نے) سکھایا ہے۔ میں اس میں تمہیں مستقل مزاج پائیں گے اور میں آپ کے کسی علم سے انکار نہیں کروں گا۔ اس پر دونوں کنارے چل پڑے۔ ان دونوں کی کوئی کشتی نہ تھی۔ اتنے میں ان کے پاس سے ایک کشتی گزری تو انہوں نے کشتی والوں سے کہا کہ وہ ان دونوں کو سوار کر لیں۔ اتنے میں ایک چڑیا آئی اور اس کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی اور اس نے ایک یا دو چونچیں ماریں تو خضر نے کہا: اے موسیٰ! میرے اور تیرے علم نے اللہ تعالیٰ کے علم سے اتنا بھی کم نہیں کیا، جتنا کہ اس چڑیا کے چونچ مارنے نے۔ یہ کہہ کر خضر اس کشتی کے تختوں میں سے ایک تختے کی طرف بڑھے اور اس کو اکھیڑ ڈالا۔ پر حضرت موسیٰ نے کہا: یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ہمیں بغیر کرائے کے سوار کیا تھا۔ آپ نے ان کی کشتی میں عمداً سوراخ کر دیا ہے تا کشتی والوں کو غرق کر دیں۔ حضرت موسیٰ نے کہا: میری بھول پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجیئے اور میری اس بات کی وجہ سے مجھ پر سختی نہ کریں۔ اس پر وہ دونوں پھر چل پڑے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک لڑکا ہے جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ اس کا سر اوپر سے پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اس کا سرا کھیٹر ڈالا۔ اس پر حضرت موسیٰ نے کہا: آپ نے تو ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے بدلے مار ڈالا ہے۔ ابن عیینہ کہتے ہیں: (خضر کی) یہ بات زیادہ تاکید کرنے والی تھی۔ اس پر وہ دونوں پھر چل پڑے۔ یہاں تک کہ بستی والوں کے پاس آئے اور ان سے کھانا مانگا تو انہوں نے ان کو مہمان ٹھہرانے سے انکار کر دیا۔ ان دونوں نے اس بستی میں ایک دیوار دیکھی جو گرنے کو تھی۔ خضر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ سیدھی کر دی۔ حضرت موسیٰ نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس پر مزدوری لے لیتے۔ انہوں نے کہا: اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ موسیٰ پر رحم کرے ہم تو چاہتے تھے کہ کاش وہ صبر کرتے تا اُن دونوں کا حال ہم سے بیان کر دیا جاتا۔
(تشریح)Saʿīd ibn Jubair (r.a) narrated: ‘I said to Ibn ʿAbbās (r.a) that Nawf al-Bakālī asserts that ‘Moses’ is not the Moses of the Children of Israel; rather, he is another Moses. He [Ibn ʿAbbās (r.a)] said: “The enemy of Allāh has lied. Ubayy ibn Kaʿb (r.a) has narrated from the Prophet (sa) that he said: “Moses (as), the Prophet, once stood up and addressed the Banū Isrāʾīl. He was asked which of the people was the most knowledgeable.” He replied: “I am the most knowledgeable.” So Allāh admonished him for not attributing the knowledge to Him. Then Allāh revealed to him: “One of My servants who lives at the junction of the two seas is more knowledgeable than you.” He said: “My Lord, how can one meet him?” He was told: “Carry a fish in a basket, and when you lose it, that is where he will be.” So he set out along with his servant Joshua, son of Nūn, and they carried a fish in a basket until they reached a rock, where they laid their heads and slept. The fish slipped out of the basket, “And it made its way into the sea going away swiftly” (Sūrat al-Kahf, 18:62).This surprised Moses (as) and his servant. They continued on for the rest of that night and day. When it was morning, Moses (as) said to his servant: “Bring us our morning meal. Surely, we have suffered much fatigue on account of this journey of ours.” (18:63); and Moses (as) did not feel any tiredness until they had gone past the place regarding which he was commanded. His servant said to him: “Did you see, when we betook ourselves to the rock for rest, and I forgot the fish?” (18:64). Moses (as) said: “That is the place we have been seeking; so they returned retracing their footsteps” (18:65). When they reached the rock, a man wrapped in a garment, or wrapping himself with his own garment, was there. Moses (as) extended the greeting of peace to him. Al-Khaḍir said: “How is there peace in your land?” He said: “I am Moses.” He asked: “Moses of the Children of Israel?” He replied, “Yes” and [added]: “May I follow you on condition that you teach me of the guidance which you have been taught?” (18:67). He said: “You cannot keep company with me in patience.” (18:68). [He added] “Moses, I possess knowledge from the knowledge of Allāh which He has taught me and which you do not know, and you have knowledge which Allāh has taught you and which I do not know.” He [Moses (as)] said: “You will find me, if Allāh pleases, to be patient and I shall not disobey any command of yours.” (18:70). So they set out walking along the seashore, as they had no boat. A boat passed by them, and they asked them to take them on board. Al-Khaḍir was recognised, so they took them on without a fee. Then a sparrow came and sat on the edge of the boat and dipped its beak once or twice into the sea. Al-Khaḍir said: “Moses, our combined knowledge does not diminish the knowledge of Allāh except to the extent of this sparrow dipping its beak into the sea.” Then al-Khaḍir approached one of the planks of the boat and pulled it out. Thereupon, Moses (as) said: “These people took us without any fee and you have damaged their boat, making a hole in it to drown its people.” He said: “Did I not tell you that you would not be able to keep company with me in patience?” (18:73). He [Moses (as)] said: “Take me not to task at my forgetting and be not hard on me for this lapse of mine.” (18:74). This was the first instance when Moses (as) forgot [to remain patient]. So they continued on their way, and there was a boy playing with other boys. Al-Khaḍir grasped his head from above and separated it from his body with his hands. At this Moses (as) said: “Have you slain an innocent person without his having slain anyone?” (18:75). He said: “Did I not tell you that you would not be able to keep company with me in patience?” (18:76). Ibn ʿUyainah said: “He [al-Khaḍir] said this for emphasis.” “So they went on until, when they came to the people of a town, they asked them for food, but they refused to make them their guests. And they found therein a wall which was about to fall.” (18:78). Al-Khaḍir gestured with his hand and then put it right. So Moses (as) said to him: “If you had desired, you could have taken payment for it.” (18:78). He said: “This is the parting of ways between me and you” (18:79). The Prophet (sa) said: “May Allāh have mercy on Moses! We wish he had shown patience so that we could hear more of their story”.’
ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا: جریر نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابو وائل سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ سے روایت کی۔ وہ کہتے: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: یا رسول الله! اللہ کی راہ میں لڑنا کیا ہوتا ہے؟ کیونکہ ہم میں سے ایک غصے کی وجہ سے بھی لڑتا ہے اور حمیت کی وجہ سے بھی لڑتا ہے۔ اس پر آپ نے اس کی طرف سر اٹھایا۔ راوی نے کہا: اور آپ نے اس کی طرف سر اس لئے اٹھایا تھا کہ وہ کھڑا تھا۔ آپ نے فرمایا: جو شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ ہی کا بول بالا ہو تو یہ (لڑنا) اللہ عز وجل کی راہ میں ہوگا۔
Abū Mūsá (r.a) narrated: ‘A man came to the Prophet (sa) and said: “O Messenger of Allāh, what is fighting in the way of Allāh? Some of us fight out of anger, while others do so out of pride.” He [the Prophet (sa)] raised his head to him, and he only raised it because the man was standing. He said: “The one who fights so that Allāh’s word may be the most exalted fights in the way of Allāh, the Mighty, the Majestic”.’
ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا: عبد العزیز بن ابی سلمہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے زہری سے۔ عیسیٰ بن طلحہ سے عیسی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو جمرة عقبہ کے پاس دیکھا، جبکہ آپ سے مسئلے پوچھے جا رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے کنکر پھینکنے سے پہلے قربانی کر دی ہے۔ آپ نے فرمایا: (اب) کوئی حرج نہیں۔ دوسرے نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: (اب) قربانی کر لے۔ کوئی حرج نہیں۔ آپ سے کوئی بات بھی ایسی نہیں پوچھی گئی جس کو آگے پیچھے کیا گیا ہو۔ مگر آپ نے یہی فرمایا: (اب) کر لے اور کوئی حرج نہیں۔
(تشریح)ʿAbd Allāh ibn ʿAmr narrated: ‘I saw the Prophet (sa) being asked questions near the stoning wall. A man said: “O Messenger of Allāh, I have slaughtered [the sacrificial animal] before stoning.” He said: “Stone [now]. There is no harm.” Another man said: “O Messenger of Allāh, I had my head shaved before slaughtering.” He said: “Slaughter [now]. There is no harm.” Whenever he was questioned about an action completed either earlier or later [than its prescribed time], he responded: “Do it [now]. There is no harm”.’
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا: عبدالواحد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہمیں اعمش سلیمان بن مہران نے بتلایا۔ انہوں نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات میں چلا جا رہا تھا اور آپ ایک کھجور کی چھڑی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ اسی اثناء میں آپ چند یہودیوں کے پاس سے گزرے تو وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس سے روح کے متعلق پوچھو۔ ان میں سے بعض نے کہا: اس سے نہ پوچھو۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسی بات بیان کر دے جو تم ناپسند کرو۔ اور بعض نے کہا کہ ہم تو ضرور پوچھیں گے۔ اس پر ان میں سے ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا: ابو قاسم! روح کیا ہے؟ آپ خاموش رہے۔ میں سمجھا: آپ کو وحی ہو رہی ہے اور میں کھڑا ہوگیا۔ جب وحی کی حالت آپ سے ہٹ گئی تو آپ نے فرمایا: اور وہ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ تو کہہ دے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں معمولی علم کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔ اعمش نے کہا کہ ہماری قرأت میں یہ آیت یوں ہے: وَمَا اُوْتُوا یعنی انہیں نہیں دیا گیا۔
(تشریح)ʿAbd Allāh [ibn Masʿūd] narrated: ‘Once, I was walking alongside the Prophet (sa) through the desolate outskirts of Madīnah. He was leaning on a date-palm stick he had with him. A group of Jews passed by who said to one another: “Inquire about the rūḥ [the soul] from him.” A few said: “Do not ask him, in case what he says displeases you.” Others said: “We must ask him.” Thus, one among them stood up and asked: “O Abū al-Qāsim! What is the rūḥ ?” He [the Prophet (sa)] remained silent. I said [to myself], “Surely he is receiving revelation”, and I stood up. Once the state [of revelation] passed, he said: “And they ask you concerning the soul (rūḥ). Say, ‘The soul is by the command of my Lord; and of the knowledge thereof you have been given but a little’.” (Sūrat Banī Isrāʾīl, 17:86). Al-Aʿmash said: ‘In our recitation (qirāʾah), it is thus: “They have not been given” (wa-mā ūtū).’
ہم سے عبید اللہ بن موسی نے بیان کیا۔ انہوں نے اسرائیل سے۔ اسرائیل نے ابو اسحاق سے۔ ابو اسحاق نے اسود سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابن زبیر نے مجھ سے کہا: حضرت عائشہ آپ سے بہت راز کی باتیں کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے آپ کو کعبہ کے متعلق کیا بتلایا؟ میں نے کہا: انہوں نے بتلایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: عائشہ! اگر تیری قوم کا زمانہ قریب نہ ہوتا۔ حضرت ابن زبیر نے کہا: یعنی کفر سے۔ تو میں کعبہ کو توڑ ڈالتا اور اس کے دو دروازے رکھتا۔ ایک دروازہ سے لوگ داخل ہوتے اور ایک دروازہ سے وہ نکلتے۔ چنانچہ حضرت ابن زبیر نے ایسا کر دیا۔
(تشریح)Al-Aswad narrated: ‘Ibn al-Zubair (r.a) said to me: “ʿĀʾishah (r.a) used to disclose many secrets to you. What did she relate to you about the Kaʿbah?” I said: “She told me that the Prophet (sa) said: ‘O ʿĀʾishah! If your tribe had not recently emerged from disbelief, I would have demolished the Kaʿbah and reconstructed it with two doors: one door through which people would enter and one through which they would exit’.”’
عبید اللہ بن موسیٰ نے ہمیں یہ بتلایا۔ انہوں نے معروف بن خربوز سے، معروف نے ابو طفیل سے، ابو طفیل نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔
The above-mentioned saying is from ʿAlī. (r.a)
نیز ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: معاذ بن ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے قمادہ سے روایت کی۔ کہا: حضرت انس بن مالک نے ہم سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے جبکہ حضرت معاذ پالان پر آپ کے پیچھے سوار تھے، فرمایا: معاذ بن جبل! انہوں نے کہا: حاضر ہوں، یا رسول اللہ! حضور کی خدمت میں ہوں۔ آپ نے فرمایا: معاذ! انہوں نے کہا: حاضر ہوں، یا رسول اللہ! آپ کی خدمت میں ہوں۔ (فرمایا: معاذ! انہوں نے کہا: حاضر ہوں، یا رسول اللہ! آپ کی خدمت میں ہوں)۔ تین بار (آپ نے پکارا) فرمایا: جو کوئی بھی اپنے دل کی سچائی سے یہ اقرار کرے گا کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کا رسول ہے تو اللہ ضرور اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو اس کے متعلق خبر نہ دوں کہ وہ خوش ہو جائیں گے۔ آپ نے فرمایا: تب تو وہ بھروسہ کر لیں گے۔ حضرت معاذ نے مرتے وقت یہ بات بتلائی تا کہ وہ گناہ سے بچ جائیں۔
Anas ibn Mālik (r.a) related that while the Prophet (sa) was riding with Muʿādh sitting behind him on the saddle, he [the Prophet (sa)] called out: ‘O Muʿādh ibn Jabal!’ He [Muʿādh (r.a)] replied: ‘At your beck and call, and at your pleasure (labbaik wa-saʿdaik), Messenger of Allāh!’ He [the Prophet (sa) again] said: ‘O Muʿādh!’ To which he [Muʿādh (r.a)] again replied: ‘At your beck and call, and at your pleasure, Messenger of Allāh!’ This happened three times. He [the Prophet (sa)] said: ‘Allāh forbids the Hellfire for one who bears witness, sincerely from his heart, that there is none worthy of worship except Allāh and that Muḥammad is the Messenger of Allāh.’ He [Muʿādh (r.a)] said: ‘O Messenger of Allāh, should I not tell the people about this so that they may rejoice?’ He replied: ‘If you do, they may become dependent on it.’ Muʿādh (r.a) only disclosed this incident near his death out of fear of committing a sin [by withholding a ḥadīth.]