بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 25 hadith
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھ سے (عبدالرحمن) بن کعب بن مالک نے بیان کیا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ اُن کے باپ اُحد کی جنگ میں شریک ہو کر شہید ہو گئے اور اُن کے ذمے کچھ قرض تھا۔ قرض خواہوں نے اپنے اپنے حق لینے سے متعلق سخت تقاضا کیا۔ اس پر میں نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپؐ نے قرض خواہوں سے کہا: وہ میرے باغ کی کھجوریں قبول کر لیں اور میرے والد کو قرض (کی ذمہ داری) سے آزاد کر دیں۔ انہوں نے نہ مانا۔ اس پر نبی ﷺ نے اُن کو میرا باغ نہ دیا اور فرمایا: ہم صبح تمہارے پاس آئیں گے۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو آپؐ ہمارے پاس آئے اور کھجوروں میں آپؐ نے چکر لگایا۔ پھلوں کے لئے برکت کی دُعا کی۔ میں نے اُن کا پھل کاٹا اور اُن کا سب قرض اَدا کردیا اور اس باغ کی کھجوروں سے ہمارے لئے کچھ بچ بھی رہا۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا کہ انس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام (بن عروہ بن زبیر) نے وہب بن کیسان سے، وہب نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت جابرؓ نے انہیں بتایا کہ اُن کے باپ فوت ہوگئے اور ان کے ذمے تیس وسق ایک یہودی شخص کا قرض چھوڑا۔ حضرت جابرؓ نے اُس سے مہلت مانگی تو اُس نے مہلت دینے سے انکار کردیا۔ حضرت جابرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اس سے سفارش کریں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ آئے۔ آپؐ نے اس یہودی سے کہا: اپنے قرضے کے بدلے ان کی کھجوریں لے لے۔ اس نے انکار کیا تو رسول اللہ ﷺ نخلستان میں گئے اور اس میں پھرے اور جابرؓ سے کہا: اس کے لئے کھجوریں کاٹو اور جو اس کا حق ہے اسے پورے کا پورا دو۔ چنانچہ حضرت جابرؓ نے رسول اللہ ﷺ کے واپس جانے کے بعد کاٹا اور اس کو تیس وسق پورے کے پورے دے دئیے اور ان کے لئے سترہ وسق بچ رہے۔ پھر حضرت جابرؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے کہ جو ہوا ہے آپؐ کو بتائیں۔ (حضرت جابرؓ نے) آپؐ کو عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ جب آپؐ (نماز سے) فارغ ہوئے تو انہوں نے آپؐ کو اس بڑھوتی کی اطلاع دی۔ آپؐ نے فرمایا: (عمر) بن الخطابؓ کو یہ بتائو۔ تو حضرت جابرؓ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور انہیں بتایا۔ حضرت عمرؓ نے ان سے کہا: جب رسول اللہ ﷺ باغ میں چلے تھے تو میں سمجھ گیا تھا کہ ضرور اس میں برکت ڈالی جائے گی۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ نیز اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے بھائی (عبدالحمید ابوبکر) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان سے، سلیمان نے محمد بن ابی عتیق سے، انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں دعا کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے: اے میرے اللہ! میں گناہ سے اور قرضداری سے تیری پناہ لیتا ہوں۔ کسی کہنے والے نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ قرضداری سے بہت ہی پناہ مانگتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: آدمی جب قرضدار ہوتا ہے؛ بات کہتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عدی بن ثابت سے، عدی نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جو مال چھوڑ جائے تو وہ اُس کے وارثوں کے لئے ہوگا اور جو قرض چھوڑ جائے اُس کی ذمہ داری ہم پر ہے۔
عبداللہ بن محمد نے مجھے بتایا۔ ابوعامر (عقدی) نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال بن علی سے، ہلال نے عبدالرحمن بن ابی عمرہ سے، عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: کوئی مومن ایسا نہیں جس سے میرا دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ نزدیکی رشتہ نہ ہو۔ اگر چاہو تو تم یہ آیت پڑھ لو: نبی مومنوں پر خود اُن کے اپنے نفسوں سے بھی زیادہ شفقت کرنے والا ہے۔ جو مومن فوت ہو اور مال چھوڑ جائے تو اُس کی برادری اُس کی وارث ہوگی، جو بھی وہ ہوں۔ اور جو کوئی قرضہ یا بال بچہ چھوڑ جائے تو میرے پاس آئے۔ میں اُس کا ولی ہوں۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے ہمام بن منبّہ سے جو کہ وہب بن منبّہ کے بھائی تھے۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دولت مند کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلمہ سے، سلمہ نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ کے پاس ایک شخص آ کر آپؐ سے تقاضا کرنے لگا اور اُس نے آپؐ سے سخت کلامی کی۔ اس پر آپؐ کے صحابہؓ نے اُس کو مارنے کا ارادہ کیا۔ آپؐ نے فرمایا: جانے دو کیونکہ حق دار ایسی باتیں کیا ہی کرتا ہے۔
(تشریح)احمد بن یونس نے ہمیں بتایا۔ زہیر نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے مجھے خبر دی کہ عمر بن عبدالعزیز نے انہیں بتایا۔ ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ یا انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جو اپنا مال بجنسہٖ کسی شخص، یا (کہا:) انسان کے پاس پائے جو مفلس ہوگیا ہو تو وہ دوسرے (قرض خواہوں) کی نسبت اُس کا زیادہ حق دار ہوگا۔
(تشریح)مسدد نے ہمیں بتایا کہ یزید بن زُریع نے ہمیں خبر دی کہ حسین معلّم نے ہمیں بتایا کہ عطاء بن ابی رباح نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص نے یہ وصیت کی کہ اُس کے مرنے کے بعد اس کا غلام آزاد ہوگا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: مجھ سے کون اس (غلام) کو خریدے گا تو اُس کو نُعَیْم بن عبداللہ نے لے لیا۔ آنحضرتؐ نے غلام کی قیمت لی اور (آزادی کی وصیت کرنے والے کو) دے دی (تا کہ وہ اپنے قرض خواہوں کو دے اور اپنے اُوپر خرچ کرے۔)
(تشریح)اور لیث (بن سعد) نے کہا: مجھے جعفر بن ربیعہ نے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن ہرمز سے، عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جس نے کسی دوسرے بنی اسرائیلی سے اپنے لئے قرض لیا اور اُس کو مقررہ معیاد پر اَدا کردیا، اور (آخر تک) واقعہ بیان کیا۔
(تشریح)