بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 158 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) بشر بن مفضل نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) سلمہ بن علقمہ نے ہمیں بتایا۔ محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا ایک بیٹا فوت ہوگیا۔ جب تیسرا دن ہوا تو انہوں نے زرد خوشبو منگوائی اور اپنے بدن پر لگائی اور کہنے لگیں: ہمیں منع کیا گیا ہے کہ ہم خاوند کے سوا اور کسی پر تین دن سے زیادہ سوگ کریں۔
(عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ایوب بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ کہا: حمید بن نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت زینب بنت ابی سلمہ سے مروی ہے کہ وہ کہتی تھیں: جب شام سے حضرت ابوسفیانؓ کے مرنے کی خبر آئی تو حضرت امّ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے تیسرے دن زرد خوشبو منگوائی اور اپنے رخساروں اور باہوں پر ملی اور کہنے لگیں: اگر چہ مجھے اس کی کوئی اور حاجت نہیں (اور کبھی نہ لگاتی) اگر میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ کسی عورت کے لئے بھی جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ خاوند کے سوا میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ البتہ خاوند کے لئے چار ماہ دس دن سوگ کرنا چاہیے۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے، عبداللہ نے حمید بن نافع سے، حمید نے زینب بنت ابی سلمہ سے روایت کی کہ حضرت زینبؓ نے انہیں خبر دی۔ کہتی تھیں: میں نبی ﷺ کی زوجہ حضرت امّ حبیبہؓ کے پاس گئی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر خاوند پر چار ماہ اور دس دن۔
پھر میں حضرت زینب بنت جحشؓ کے پاس گئی۔ جب ان کے بھائی فوت ہوگئے تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور (اسے) لگایا اور پھر کہنے لگیں: مجھے تو خوشبو کی حاجت نہیں مگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر خاوند پر چار ماہ دس دن۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ہمیں ثابت نے بتایا۔ ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ ایک عورت کے قریب سے گزرے جو قبر کے پاس رو رہی تھی تو آپ نے فرمایا: اللہ کو سپر بنائو اور صبر کرو۔ وہ کہنے لگی: مجھ سے دور ہو۔ تمہیں میرے جیسی مصیبت نہیں پہنچی۔ اس نے آپؐ کو پہچانا نہیں تھا۔ اسے کہا گیا کہ نبی ﷺ ہیں، تب وہ نبی ﷺ کے دروازے پر آئی اور آپؐ کے پاس کوئی دربان نہ پایا۔ کہنے لگی: میں نے آپؐ کو پہچانا نہیں تھا۔ آپؐ نے فرمایا: صبر تو پہلے صدمہ کے وقت میں ہوتا ہے۔
(تشریح)عبدان اور محمد (بن مقاتل) نے ہم سے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عاصم بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ ابوعثمان (عبدالرحمن نہدی) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا، کہا: نبی ﷺ کی بیٹی نے آپؐ کو کہلا بھیجا کہ میرا بچہ حالتِ نزع میں ہے، ہمارے پاس آئیں تو آپؐ نے کہلا بھیجا اور فرمایا: اللہ ہی کا ہے جو لے لے اور اسی کا ہے جو عنایت کرے اور ہر بات کا اس کے ہاں ایک وقت مقرر ہے۔ اس لئے تم صبر کرو اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی چاہو۔ انہوں نے پھر آپؐ کو بلا بھیجا اور آپؐ کو قسم دی کہ ان کے پاس ضرور آئیں۔ آپؐ اٹھے اور آپؐ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت زید بن ثابتؓ اور کئی آدمی تھے۔ نبی ﷺ کے پاس بچہ اٹھا کر لایا گیا اور وہ دم توڑ رہا تھا (اور ایسی آواز آ رہی تھی) عثمان کہتے تھے میرا خیال ہے اسامہ نے کہا: جیسے پرانی مشک (ٹھکرانے سے آواز دیتی ہے۔) آپؐ کے آنسو بہنے لگے۔ حضرت سعدؓ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپؐ نے جواب دیا: یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کی ہے اور اللہ بھی اپنے بندوں میں سے اُنہی پر رحم کرتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابوعامر (عقدی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) فلیح بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال بن علی سے، ہلال نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: ہم رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کے (جنازہ) میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ کہا: میں نے دیکھا کہ آپؐ کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔ کہتے تھے: آپؐ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص ہے جو آج رات اپنی بیوی کے پاس نہ گیا ہو۔ حضرت ابوطلحہؓ نے کہا: میں ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: اُترو۔ کہا: تو وہ ان کی قبر میں اترے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبد اللہ (ابن مبارک) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے: عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی مکہ میں فوت ہوگئی اور ہم اس کے جنازے میں شریک ہونے کے لئے آئے۔ حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم بھی اس کے جنازے میں شریک ہوئے اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا یا کہا: ان دونوں میں سے ایک کے پاس بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک اور شخص آیا اور وہ میرے پاس بیٹھ گیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عمرو بن عثمانؓ سے کہا: کیا آپؓ رونے سے (عورتوں کو) منع نہیں کرتے؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میت کو بھی اس کے گھروالوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی کچھ ایسا ہی کہا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے واپس آیا۔ یہاں تک کہ ہم بیداء میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ چند سوار ببول کے سائے میں بیٹھے ہیں تو انہوں نے مجھ سے کہا: جاؤ دیکھو یہ سوار کون ہیں؟ کہتے تھے: میں نے دیکھا تو وہ حضرت صہیبؓ ہیں۔ میں نے (حضرت عمرؓ) کو بتایا تو انہوں نے کہا: ان کو میرے پاس بلا لائو۔ میں حضرت صہیبؓ کے پاس گیا اور میں نے کہا: چلئے امیر المؤمنین سے ملئے۔ جب حضرت عمرؓ زخمی ہوئے تو حضرت صہیبؓ روتے ہوئے ان کے پاس آئے اور یہ کہہ رہے تھے: ہائے میرے بھائی۔ ہائے میرے دوست۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: صہیب! کیا آپ مجھ پر روتے ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: اہل میت کے بعض قسم کے رونے کی وجہ سے میت کو بھی عذاب ہوتا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: اللہ حضرت عمرؓ پر رحم کرے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں بیان کیا تھا کہ اللہ مومن کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتا ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ کافر کے گھر والے جب اس پر روتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کافر کو اور زیادہ عذاب دیتا ہے اور کہنے لگیں: تمہارے لئے قرآن کافی ہے: کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی یہ سن کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: (یہ جو آیت ہے کہ) وہی ہنسا تا ہے اور وہی رلاتا ہے۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ بخدا حضرت ابن عباسؓ کی یہ بات سن کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کچھ نہیں کہا۔