بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 158 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایا۔ یحیی نے عبیداللہ (عمری) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عبداللہ بن اُبیّ جب مر گیا تو اس کا بیٹا نبی ﷺ کے پاس آیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ مجھے اپنی قمیص دیں تا میں اس میں اس کو کفنائوں اور آپؐ اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں اور اس کی مغفرت کی دعا کریں۔ نبی ﷺ نے اس کو اپنی قمیص دی اور فرمایا: (جب جنازہ تیار ہو تو) مجھے اطلاع دینا۔ اس کا جنازہ میں پڑھوں گا۔ چنانچہ اس نے آپؐ کو اطلاع دی۔ جب آپؐ نے اس کا جنازہ پڑھنا چاہا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپؐ کو کھینچ لیا اور کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو منافقوں کا جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا۔ آپؐ نے جواب دیا: مجھے دو باتوں کا اختیار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ان کے لئے مغفرت کی دعا کر یا نہ کر اگر ستر بار بھی ان کے لئے مغفرت کی دعا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا۔ چنانچہ آپؐ نے اس کا جنازہ پڑھا تو یہ آیت نازل ہوئی: یعنی ان میں سے جو کوئی مر جائے تو اس کا جنازہ کبھی نہ پڑھ اور اس کی قبر پر کھڑا بھی نہ ہو۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا: سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ عبداللہ بن ابی کے پاس اس کے دفن کئے جانے کے بعد آئے۔ آپؐ نے اس کو باہر نکلوایا اور اپنا لعاب دہن اس پر ڈالا اور اپنا کُرتہ اس کو پہنایا۔
(تشریح)ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ کو تین سفید دُھلے ہوئے سوتی کپڑوں میں دفنایا گیا۔ ان میں نہ قمیص تھی نہ دستار۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یحيٰ (ابن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) مجھے میرے باپ عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ تین کپڑوں میں دفنائے گئے۔ ان میں نہ قمیص تھی نہ دستار۔{ ابوعبداللہ نے کہا: ابونعیم نے تین کا لفظ روایت نہیں کیا اور عبداللہ بن ولید نے سفیان سے تین کا لفظ نقل کیا ہے۔ }
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کو تین دھلے ہوئے سفید کپڑوں میں کفنایا گیا۔ ان میں نہ قمیص تھی نہ دستار۔
(تشریح)احمد بن محمد مکی نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد سے اور سعد نے اپنے باپ (ابراہیم بن عبدالرحمن) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک دن کھانا لایا گیا تو انہوں نے کہا: مصعب بن عمیرؓ شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔ ان کے لئے سوائے ایک چادر کے کچھ نہیں ملا جس میں انہیں کفنایا جاتا۔ اور حمزہؓ بھی شہید ہوئے یا کہا: کوئی دوسرا شخص جو مجھ سے بہتر تھا، اس کے لئے بھی سوائے ایک چادر کے کچھ نہیں ملا جس میں انہیں کفنایا جاتا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہمارے آرام کے سامان ہمیں اس دنیا میں ہی نہ دے دیئے گئے ہوں۔ (یہ کہہ کر) پھر آپؓ رونے لگے۔
(تشریح)محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) شعبہ نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے اپنے باپ ابراہیم سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے (بوقت افطار) کھانا لایا گیا اور وہ روزہ دار تھے۔ وہ کہنے لگے: مصعب بن عمیرؓ شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔ وہ ایک ہی چادر میں کفنائے گئے۔ اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو ان کے پائوں کھل جاتے۔ اگر پائوں ڈھانپے جاتے تو ان کا سر کھل جاتا۔ میں سمجھتا ہوں، یہ بھی کہا: حمزہ ؓ شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔ پھر (ان کے بعد) ہمیں دنیا کی وہ کشائش ہوئی جو ہوئی یا یوں کہا: ہمیں دنیا سے وہ کچھ دیا گیا جو دیا گیا اور ہمیں تو ڈر ہے کہیں ہماری نیکیوں کا بدلہ جلدی ہی نہ مل گیا ہو۔ پھر وہ رونے لگے یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔
(تشریح)عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) اعمش نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شقیق نے ہمیں بتایا۔ (کہا:) حضرت خباب (بن ارت) رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ وطن چھوڑا۔ اللہ تعالیٰ ہی کی رضامندی ہم چاہتے تھے اور ہمارا بدلہ اللہ کے ذمہ ہوگیا۔ ہم میں سے ایسے بھی ہیں جو مر گئے اور انہوں نے اپنے بدلہ سے کچھ نہیں کھایا۔ انہیں میں سے حضرت مصعب بن عمیرؓ بھی ہیں اور ہم میں ایسے بھی ہیں جن کا میوہ پک گیا اور وہ اس میوہ کو چن رہے ہیں۔ حضرت مصعبؓ احد کے دن شہید ہوئے تھے اور ہمیں صرف ایک ہی چادر ملی تھی کہ جس سے ہم ان کو کفناتے۔ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پائوں کھل جاتے اور اگر ان کے پائوں ڈھانپتے تو ان کا سر کھل جاتا تو نبی ﷺ نے ہمیں فرمایا: ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پائوں پر اذخر (خوشبودار گھاس) ڈال دیں۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا: عبدالعزیز) بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس ایک بُنی ہوئی چادر لائی جس میں حاشیہ تھا۔ تم جانتے ہو بردہ کیا ہوتی ہے ؟ لوگوں نے کہا: بُردار چادر۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہتی تھیں: میں اس کو اپنے ہاتھ سے بُن کر اس لئے لائی ہوں کہ میں آپؐ کو یہ پہننے کے لئے دوں۔ نبی ﷺ نے وہ لے لی۔ آپؐ کو اس کی ضرورت تھی۔ آپؐ باہر نکلے اور وہ چادر آپؐ کا تہ بند تھی۔ ایک شخص نے اس کی تعریف کی اور کہا: مجھے پہننے کے لئے دے دیجئے۔ یہ کیا ہی عمدہ ہے۔ لوگوں نے کہا: تم نے اچھا نہیں کیا۔ نبی ﷺ نے یہ پہنی ہے۔ ایسی حالت میں کہ آپؐ کو اس کی ضرورت تھی۔ پھر باوجود اس کے تم نے آنحضرت ﷺ سے مانگی ہے اور تمہیں علم ہے کہ آپؐ سوال ردّ نہیں کیا کرتے۔ اس نے جواب دیا: میں نے اللہ کی قسم اس لئے نہیں مانگی کہ اسے پہنوں بلکہ اس لئے مانگی ہے کہ تا وہ میرا کفن ہو۔ حضرت سہلؓ نے کہا: چنانچہ وہ (چادر) اُن کا کفن ہوئی۔
(تشریح)قبیصہ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد (حذائ) سے، خالد نے ام ہذیل (حفصہ بنت سیرین) سے، امّ ہذیل نے حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: جنازوں کے ساتھ جانے سے ہم روکی گئی تھیں مگر ہمیں تاکیدی حکم نہیں دیا گیا تھا۔
(تشریح)