بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 187 hadith
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ اشعث بن سلیم نے ہم سے بیان کیا، اشعث نے کہا: میں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے سنا۔ معاویہ نے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ہمیں نبی ﷺ نے سات باتوں سے منع فرمایا۔ سونے کی انگوٹھی سے یا کہا سونے کے چھلے سے منع فرمایا اور ریشمی کپڑے اور استبرق اور دیباج اور سرخ ریشمی زین پوش اور قسی اور چاندی کے برتنوں سے بھی منع فرمایا اور ہمیں سات باتوں کا حکم دیا۔ بیمار پرسی کرنے، جنازوں کے ساتھ جانے اور چھینکنے والے کو دعا دینے اور سلام کا جواب دینے اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے اور قسم کھانے والے کی قسم کو پورا کرنے اور مظلوم کی مدد کرنے کا۔
محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نضر بن انس سے، نضر نے بشیر بن نہیک سے، بشیر نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا اور عمرو (بن مرزوق باہلی) نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ایسا ہی نضر سے سنا۔ نضر نے بشیر سے سنا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے، عبیداللہ نے کہا کہ مجھے نافع نے بتایا۔ نافع نے حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور آپؐ نے اس کا نگینہ اس طرف رکھا جو ہتھیلی کے قریب تھا۔ پھر لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں۔ یہ دیکھ کر آپؐ نے اس کو پھینک دیا اور آپؐ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ راوی نے وَرَق کا لفظ بیان کیا یا فِضَّہ کا۔
یوسف بن موسیٰ نے ہمیں بتایا کہ ابواسامہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ (عمری) نے ہم سے بیان کیا۔ عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی یا (کہا) چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ اس طرف رکھا جو آپ کی ہتھیلی کے قریب تھا اور اس میں یہ کندہ کرایا: محمد رسول اللہ۔ تو لوگوں نے بھی ایسی ہی انگوٹھیاں بنوائیں۔ جب آپؐ نے دیکھا کہ وہ بھی انگوٹھیاں پہننے لگے ہیں تو آپؐ نے اس کو پھینک دیا اور فرمایا: میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پھر آپؐ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوائیں۔ حضرت ابن عمر ؓ کہتے تھے: نبی ﷺ کے بعد وہ انگوٹھی حضرت ابوبکرؓ نے پہنی پھر حضرت عمرؓ نے پھر حضرت عثمانؓ نے اور آخر وہ انگوٹھی حضرت عثمانؓ سے أَریس کے کنوئیں میں گر گئی۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سونے کی انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ پھر آپؐ نے اس کو پھینک دیا اور فرمایا: میں اس کو کبھی نہ پہنوں گا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
یحيٰ بن بکیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے کہا کہ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ايك دن چاندی کی انگوٹھی دیکھی۔ پھر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوائیں اور انہیں پہنا۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگوٹھی پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ (یونس کی طرح) اس حدیث کو ابراہیم بن سعد اور زیاد اور شعیب نے بھی زہری سے روایت کیا اور (عبدالرحمٰن بن خالد) ابن مسافر نے زہری سے یوں نقل کیا: میں سمجھتا ہوں کہ چاندی کی انگوٹھی تھی۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زریع نے ہمیں خبر دی کہ حمید (طویل) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت انسؓ سے پوچھا گیا: کیا نبی ﷺ نے انگوٹھی پہنی؟ تو انہوں نے کہا: ایک رات آپؐ نے عشاء کی نماز میں آدھی رات تک دیر کر دی۔ پھر آپؐ ہماری طرف رخ کئے ہوئے آئے تو گویا اب بھی میں آپؐ کی انگوٹھی کی چمک کو دیکھ رہا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: لوگ نماز پڑھ چکے ہیں اور سو گئے ہیں اور تم نماز میں رہے ہو جب تک تم اس کا انتظار کرتے رہے ہو۔
اسحاق (بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حمید سے سنا۔ حمید حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ نبی ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا۔ اور یحيٰ بن ایوب نے اپنی سند میں یوں کہا: مجھ سے حمید نے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔
عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہل (بن سعد انصاریؓ) سے سنا وہ کہتے تھے: ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی۔ کہنے لگی: میں اس لئے آئی کہ اپنے تئیں ہبہ کر دوں۔ وہ دیر تک کھڑی رہی۔ آپؐ نے اس کو دیکھا اور نگاہ نیچے کر لی۔ جب وہ دیر تک کھڑی رہی ایک شخص نے کہا: مجھ سے ہی اس کا نکاح کر دیں اگر آپؐ کو ضرورت نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تمہارے پاس کچھ ہے جو اس کو مہر میں دو۔ اس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھو۔ وہ گیا اور پھر لوٹ آیا اور کہنے لگا: اللہ کی قسم! کچھ نہیں ملا۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ اور ڈھونڈو گو لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔ وہ گیا اور پھر لوٹ آیا۔ کہنے لگا: اللہ کی قسم لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی اور اس نے ایک تہ بند پہنا ہوا تھا اس پر اوپر کی چادر بھی نہ تھی۔ اس نے کہا: میں اسے اپنا یہ تہ بند مہر میں دیئے دیتا ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: تمہارا تہ بند؟ اگر اس نے وہ پہنا تو اس میں سے تم پر کچھ نہ رہے گا اور اگر تم نے وہ پہنا تو اس پر اس میں سے کچھ نہ رہے گا۔ (یہ سن کر) وہ شخص الگ ہو کر بیٹھ گیا۔ پھر نبی ﷺ نے اس کو پیٹھ موڑ کر جاتے ہوئے دیکھا۔ آپؐ نے حکم دیا اور وہ بلایا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں قرآن سے کیا یاد ہے۔ اس نے چند سورتوں کو گن کر کہا: فلاں فلاں سورۃ۔ آپؐ نے فرمایا: جو تمہیں قرآن یاد ہے اس کے بدلے میں یہ عورت تمہارے قبضے میں کئے دیتا ہوں۔
عبدالاعلیٰ (بن حماد) نے ہمیں بتایا کہ یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا کہ سعید (بن ابی عروبہ) نے ہمیں بتایا۔ سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اللہ ﷺ نے ایک جماعت کو یا (کہا کہ) چند لوگوں کو جو عجم کے تھے خط لکھوانے چاہے تو آپؐ سے کہا گیا کہ وہ کوئی ایسا خط قبول نہیں کرتے جس پر مہر نہ ہو۔ نبی ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ اس پر یہ نقش تھا: محمد رسول اللہ۔ (مجھے یہ ایسا یاد ہے) کہ گویا کہ میں اب بھی اس انگوٹھی کی چمک کو دیکھ رہا ہوں جو نبی ﷺ کی انگلی میں تھی یا (کہا) آپؐ کے ہاتھ میں تھی۔