بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
مسلم (بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا کہ ہشام نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) قتادہ نے ہمیں بتایا کہ حضرت انسؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ رکوع کے بعد قنوت میں مہینہ بھر عرب کے چند قبیلوں کے خلاف دعا کرتے رہے۔
عبدالاعلیٰ بن حماد نے مجھے بتایا کہ یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سعید (بن ابی عروبہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان نے رسول اللہ ﷺ سے ایک دشمن کے برخلاف مدد طلب کی۔ آپؐ نے اُن کی ستر انصار سے مدد کی جنہیں ہم اپنے زمانے میں قاری کہا کرتے تھے، وہ دن کو لکڑیاں لاتے اور رات کو نماز پڑھتے۔ جب بئر معونہ پر پہنچے تو انہوں نے ان (صحابہؓ) سے دغا کیا اور انہیں مار ڈالا۔ نبی ﷺ کو (یہ خبر) پہنچی تو آپؐ مہینہ بھر صبح کی نماز میں عرب کے چند قبیلوں کے خلاف دعا کرتے رہے۔ یعنی رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے خلاف۔ حضرت انسؓ نے کہا: ہم سمجھتے رہے کہ یہ بھی قرآن ہے جو اُن کے متعلق نازل ہوا ہے۔ پھر یہ شبہ دور ہوا۔ (اور وہ یہ الفاظ تھے:) ہماری طرف سے ہماری قوم کو کہہ دو کہ ہم اپنے ربّ سے جا ملے ہیں۔ وہ ہم سے خوش ہوا اور ہمیں خوش کردیا۔ اور (اسی سند کے ساتھ) قتادہ سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو بتایا: نبی ﷺ ایک مہینہ تک صبح کی نماز میں عرب کے بعض قبائل کے خلاف دعا کرتے رہے۔ یعنی رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان پر۔ خلیفہ (بن خیاط) نے اس روایت میں اتنا بڑھایا کہ (یزید) بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا کہ سعید (بن ابی عروبہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے اسی طرح روایت کی کہ حضرت انسؓ نے ہم سے بیان کیا: یہ ستر آدمی انصار میں سے تھے جو بئر معونہ میں شہید کئے گئے۔ قرآن کا لفظ جو اس روایت میں آیا ہے، اس سے مراد کتاب ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن يحيٰ) نے ہمیں بتایا۔ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: حضرت انسؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ان کے ماموں (حضرت حرام بن ملحانؓ) کو جو امّ سلیم کے بھائی تھے ستر سواروں کے ساتھ بھیجا اور عامر بن طفیل مشرکوں کا سردار تھا جس نے (آنحضرت ﷺ کو) تین باتوں میں سے ایک کا اختیار دیا تھا۔ اس نے کہا: قصباتی لوگ آپؐ کے ہوں گے اور دیہاتی میرے یا یہ کہ (میں آپؐ کی وفات کے بعد) آپ کا جانشین ہوں گا ورنہ میں دو ہزار غطفان کے آدمیوں کو لے کر آپؐ پر حملہ کر دوں گا تو عامر کسی عورت کے گھر طاعون میں مبتلا ہوا، کہنے لگا: یہ ویسی ہی گلٹیوں کی بیماری ہے جو (آل سلول کی) ایک عورت کے گھر میں جوان اونٹ کو ہوئی تھی، میرا گھوڑا لاؤ۔ (وہ اس پر سوار ہوا) اور اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر ہی مر گیا۔ حضرت امّ سلیم کے بھائی حضرت حرام (بن ملحانؓ)، ایک لنگڑے آدمی اور ایک اور آدمی کو جو فلاں قبیلہ سے تھا، اپنے ساتھ لے کر (بنی عامر کے پاس) گئے۔ حرام نے ان دونوں سے کہا: تم قریب ہی رہنا، میں ان کے پاس جاتا ہوں۔ اگر انہوں نے مجھے امن دیا تو تم آ جانا اور اگر مجھے قتل کر دیا تو تم اپنے ساتھیوں کے پاس جا کر انہیں بتانا۔ پھر حضرت حرامؓ نے عامر کے پاس جا کر کہا: کیا تم مجھے امن دیتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچا دوں؟ یہ کہہ کر وہ اس سے باتیں کرنے لگے۔ قبیلے کے لوگوں نے ایک شخص کو اشارہ کیا۔ وہ ان کے پیچھے سے آیا اور ان کو نیزہ مار کر زخمی کیا۔ ہمام کہتے تھے: میں سمجھتا ہوں کہ اس نے نیزہ ان کے پار کر دیا۔ حضرت حرامؓ نے کہا: اللہ اکبر! کعبہ کے ربّ کی قسم! میں نے اپنی مراد پالی۔ پھر وہ لوگ دوسرے آدمی کے پیچھے چلے (اور اسے مار ڈالا اور پھر باقی قاریوں پر جا کر حملہ کر دیا اور) وہ سارے کے سارے مارے گئے سوا اُس لنگڑے آدمی کے جو پہاڑ کی چوٹی پر چلا گیا تھا۔ اللہ نے ہم پر وہ بات نازل کی۔ پھر اس کا ذکر اذکار موقوف ہو گیا۔ یعنی ہماری طرف سے ہماری قوم کو کہہ دو کہ ہم اپنے ربّ سے جاملے ہیں، وہ ہم سے خوش ہوا اور ہمیں خوش کر دیا۔ تب نبی ﷺ تیس دن ہر صبح ان کے خلاف دعا کرتے رہے یعنی رعل، ذکوان، بنو لحیان اور عصیہ کے خلاف۔ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بغاوت کی۔
حبان (بن موسیٰ) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: جب حضرت حرام بن ملحانؓ کے یوم بئر معونہ میں نیزہ مارا گیا اور وہ حضرت انسؓ کے ماموں تھے تو انہوں نے خون اپنے ہاتھ میں یوں لیا اور اپنے منہ اور اپنے سر پر (یوں) چھڑکا اور اس کے بعد کہا: کعبہ کے ربّ کی قسم! میں نے مراد پالی۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: حضرت ابوبکرؓ کو جب مکہ میں سخت تکلیف دی گئی تو آپؐ نے نبی ﷺ سے (مکہ سے) ہجرت کر جانے کی اجازت مانگی تو آنحضرتﷺ نے ان سے فرمایا: ٹھہرو۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپؐ بھی امید کرتے ہیں کہ آپؐ کو بھی اجازت دی جائے گی؟ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: میں بھی یہی امید رکھتا ہوں۔ کہتی تھیں: حضرت ابوبکرؓ اس کا انتظار کرتے رہے۔ ایک دن ظہر کے وقت رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے اور آواز دی، آپؐ نے فرمایا: جو آپؓ کے ہاں ہوں ان کو باہر بھیج دیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: صرف میری دو بیٹیاں ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا آپؐ کو معلوم ہوا ہے کہ مجھے نکلنے کا حکم ہو گیا ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میں بھی ساتھ ہوں گا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: آپؐ بھی ساتھ ہوں گے؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں جن کو میں نے جانے کے لئے تیار کر رکھا ہے چنانچہ ان میں سے ایک نبی ﷺ کو دی، اس کا نام جدعاء تھا۔ وہ دونوں روانہ ہو گئے یہاں تک کہ اس غار پر آئے جو ثور پہاڑ میں ہے اور اس میں چھپ گئے۔ حضرت عامر بن فہیرہؓ جو عبداللہ بن طفیل بن سخبرہ کے غلام تھے جو حضرت عائشہؓ کے ماں کی طرف سے بھائی تھے اور حضرت ابوبکرؓ کی ایک دودھیل اونٹنی تھی جس کو حضرت عامر بن فہیرہؓ صبح چرانے کے لئے لے جاتے اور شام کو اُن کے پاس لے آتے تھے۔ وہ صبح کو اُٹھتے اور تھوڑی رات رہے دونوں کے پاس جاتے اور صبح ہونے سے پہلے پہلے (چراگاہ میں) چلے آتے۔ اس لئے چرواہوں میں سے کوئی بھی اُن سے آگاہ نہ ہوتا۔ جب آنحضرتﷺ (اور حضرت ابوبکرؓ) چلے تو (حضرت عامر بن فہیرہؓ) بھی ان کے ساتھ چلے۔ دونوں انہیں باری باری اپنے پیچھے بٹھا لیتے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے۔ پھر حضرت عامر بن فہیرہؓ بئرمعونہ کے واقعہ میں شہید ہوئے۔ اور اسی سند کے ساتھ ابواسامہ سے مروی ہے، کہتے تھے: ہشام بن عروہ نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا، کہا: جب وہ لوگ بئرمعونہ میں قتل کئے گئے اور حضرت عمرو بن امیہ ضمریؓ قید کئے گئے تو عامر بن طفیل نے ان سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اور اس نے ایک مقتول کی طرف اشارہ کیا تو عمرو بن امیہ نے جواب دیا: یہ عامر بن فہیرہؓ ہے۔ عامر بن طفیل نے کہا کہ میں نے (عامر بن فہیرہؓ کو) دیکھا کہ وہ قتل کئے جانے کے بعد آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں یہاں تک کہ میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ آسمان ان کے اور زمین کے درمیان ہے۔ پھر وہ (زمین پر) اُتارے گئے۔ نبی ﷺ کو ان کی خبر پہنچی اور آپؐ نے ان کے قتل کئے جانے کی خبر صحابہؓ کو دی اور فرمایا: تمہارے ساتھی شہید ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنے ربّ سے دعا کی ہے کہ اے ہمارے ربّ! ہمارے متعلق ہمارے بھائیوں کو بتا کہ ہم تجھ سے خوش ہو گئے اور تو ہم سے خوش ہو گیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق بتایا اور اس دن ان کے ساتھ عروہ بن اسماء بن صلت بھی شہید ہوئے تھے اور عروہ (بن زبیر) کا نام انہی کے نام پر عروہ رکھا گیا اور ان شہیدوں میں سے حضرت منذر بن عمروؓ بھی تھے۔ انہی کے نام پر (حضرت زبیرؓ کے ایک لڑکے کا نام) منذر رکھا گیا۔
محمد (بن مقاتل) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ سلیمان تیمی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابومجلز سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ رکوع کے بعد ایک مہینہ کھڑے ہو کر رعل اور ذکوان (قبیلوں) کے خلاف دعا کرتے رہے اور فرماتے تھے: عصیّہ قبیلہ نے اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کی۔
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ تیس دن تک ان لوگوں کے خلاف دعا کرتے رہے جنہوں نے بئر معونہ میں آپؐ کے صحابہؓ کو قتل کر دیا تھا۔ آپؐ رعل اور لحیان اور عصیّہ جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بغاوت کی، کے خلاف دعا کر رہے تھے۔ حضرت انسؓ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (ﷺ) کو اُن لوگوں کی نسبت جو بئر معونہ میں قتل کئے گئے تھے، قرآن نازل کیا جسے ہم پڑھتے رہے۔ آخر وہ پڑھنا بعد کو موقوف ہوگیا۔ وہ یہ تھا: ہماری قوم کو (یہ بات) پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ سے آ ملے ہیں۔ وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوگئے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔ عاصم احول نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں دعائے قنوت پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہاں درست ہے۔ میں نے کہا: رکوع سے پہلے پڑھا کرتے تھے یا بعد؟ انہوں نے کہا: رکوع سے پہلے۔ میں نے کہا: فلاں (یعنی محمد بن سیرین) نے تو آپ کے متعلق مجھے بتایا ہے کہ آپؓ نے رکوع کے بعد کہا تھا۔ انہوں نے کہا: غلط کہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ تو رکوع کے بعد ایک مہینہ کھڑے ہو کر دعا کرتے رہے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ آپؓ نے کچھ لوگ جنہیں قاری کہتے تھے اور وہ ستر تھے بعض مشرکوں کے پاس بھیجے اور ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان عہد تھا۔ (اس واقعہ سے) ظاہر ہوگیا کہ حملہ کرنے والے (بنوعامر نہ تھے بلکہ) دوسرے لوگ تھے (یعنی بنوسلیم)۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ رکوع کے بعد مہینہ بھر اُن کے خلاف دعا کرتے رہے۔
(تشریح)یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جنگ اُحد کے دن ان کا جائزہ لیا اور وہ چودہ برس کے تھے، آپؐ نے انہیں (جنگ میں شامل ہونے کی) اجازت نہ دی اور خندق کے دن ان کا جائزہ لیا اور وہ پندرہ برس کے تھے۔ چنانچہ آپؐ نے انہیں جنگ میں شریک ہونے کی اجازت دی۔
قتیبہ(بن سعید) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالعزیز (بن ابی حازم) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (اپنے باپ) ابوحازم (سلمہ بن دینار) سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد (ساعدی) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خندق میں تھے اور وہ خندق کھود رہے تھے اور ہم مٹی اپنے مونڈھوں پر ڈھو رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا کوئی زندگی نہیں، مہاجرین و انصار کی مغفرت فرما۔