بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک سے روایت کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ (انصاری) رضی اللہ عنہما نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ جنگ اُحد کے دن دو دو شہیدوں کو ایک کپڑے میں اکٹھا کفناتے پھر فرماتے: ان میں سے کس کو قرآن زیادہ یاد تھا؟ جب آپؐ کو کسی کے متعلق اشارہ کیا جاتا کہ اس کو قرآن زیادہ یاد تھا تو اُس کو پہلے لحد میں رکھتے اور (بالآخر) آپؐ نے فرمایا: میں قیامت کے روز ان کا گواہ ہوں گا اور آپؐ نے اُن کو اُن کے خونوں سمیت ہی دفن کرنے کا حکم دیا، نہ اُن کی نماز جنازہ پڑھی اور نہ انہیں غسل دیا۔
اور ابوالولید نے شعبہ سے، شعبہ نے (محمد) بن منکدر سے نقل کیا، کہتے تھے: میں نے حضرت جابرؓ سے سنا، انہوں نے کہا: جب میرے باپ شہید ہوئے میں رونے لگا اور ان کے چہرے سے کپڑا ہٹاتا اور نبی ﷺ کے صحابہ مجھے روکتے مگر نبی ﷺ نے (مجھے) نہیں روکا۔ اور نبی ﷺ نے (حضرت فاطمہ بنت عمروؓ سے) فرمایا: ان کے لئے نہ رو، (یا فرمایا: کیا تم ان پر رُو رہی ہو، بحالیکہ) جب تک ان کا جنازہ نہیں اُٹھایا گیا ملائکہ ان پر اپنے پروں سے سایہ کئے رہے۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ سے، برید نے اپنے دادا ابو بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ میں سمجھتا ہوں انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے، آپؐ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی اور اس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا ہے اور اس کی یہی تعبیر تھی جو جنگ اُحد میں مومن شہید ہوئے ہیں۔ پھر میں نے وہ دوبارہ ہلائی تو وہ پھر ویسی ہی اچھی ہو گئی جیسی کہ تھی اور اس کی یہی تعبیر ہے جو اللہ نے فتح دی اور مومنوں کو اکٹھا کردیا ہے اور میں نے اس (خواب) میں چند گائیں دیکھیں (جو ذبح ہو رہی تھیں) اور اللہ سراسر بھلائی ہے اور اس کی تعبیر وہی مومن تھے جو جنگ اُحد میں کام آئے۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا۔ زُہَیر (بن معا ویہ) نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے شقیق سے، شقیق نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ کہتے تھے: ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ ہجرت کی اور ہم اللہ کی رضا مندی چاہتے تھے اس لئے اللہ کے ذمے ہمارا اَجر ہوگیا۔ ہم میں سے بعض گزر گئے یا (کہا:) چلے گئے اور اپنی محنت کا کوئی ثمر نہ کھایا۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ بھی انہی میں سے تھے جو جنگ اُحد میں شہید ہوئے تھے اور انہوں نے سوائے ایک دھاری دار کملی کے کچھ نہ چھوڑا۔ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانکتے تو ان کے دونوں پاؤں کھل جاتے اور جب پاؤں ڈھانپتے تو اُن کا سر کھل جاتا، یہ دیکھ کر نبی ﷺ نے فرمایا: اس سے ان کا سر ڈھانک دو اور ان کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈالو یا فرمایا: ان کے پاؤں پر کچھ اذخر ڈال دو اور ہم میں سے بعض وہ ہیں جن کا میوہ خوب پک گیا ہے اور وہ اُسے چن رہے ہیں۔
(تشریح)نصر بن علی نے مجھ سے بیان کیا، کہتے تھے: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے قُرّہ بن خالد سے، قُرّہ نے قتادہ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مطلب کے غلام عمرو (بن ابی عمرو) سے، عمرو نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ کو اُحد دکھائی دیا تو آپؐ نے فرمایا: یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیمؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں اس کے دو پتھریلے میدانوں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔
عمرو بن خالد نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے یزید بن ابی حبیب سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ یزید نے ابوالخیر (مرثد) سے، ابوالخیر نے حضرت عقبہؓ (بن عامر) سے روایت کی کہ نبی ﷺ ایک دن باہر آئے اور اُحد والوں کی نماز جنازہ اسی طرح پڑھی جس طرح کہ میت کی پڑھا کرتے تھے، پھر آپؐ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارا پیش رَو ہوں اور میں تمہارے لئے گواہی دوں گا اور میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں یا (فرمایا:) زمین کی چابیاں اور (فرمایا:) اللہ کی قسم! تمہارے متعلق مجھے یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے بلکہ تمہارے متعلق اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں تم دنیا میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حرص نہ کرنے لگو۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر (بن راشد) سے، معمر نے زُہری سے، زُہری نے عمرو بن ابی سفیان ثقفی سے، عمرو نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ایک دستہ فوج (قریش کے) حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا اور حضرت عاصم بن ثابتؓ کو اُن پر امیر مقرر کیا جو حضرت عاصم بن عمر بن خطابؓ کے نانا تھے۔ وہ روانہ ہوگئے یہاں تک کہ جب عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچے تو ہذیل قبیلے کے ایک خاندان بنو لحیان کو کسی نے اُن کی خبر دے دی۔ انہوں نے تقریباً ایک سو تیر اندازوں کے ساتھ صحابہؓ کے دستہ کا تعاقب کیا۔ وہ ان کے قدموں کے نشان پر چلے یہاں تک کہ ایک ایسے پڑاؤ پر پہنچے جہاں صحابہؓ اُترے تھے، انہوں نے وہاں کھجوروں کی گٹھلیاں پائیں جو صحابہؓ نے مدینہ سے بطور زادِ راہ لی تھیں۔ وہ تیر انداز اُن گٹھلیوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ تو یثرب کی کھجوریں ہیں اور پھر وہ اُن کے قدموں کے نشانوں پر اُن کے پیچھے چلتے گئے یہاں تک کہ اُن سے جا ملے۔ جب حضرت عاصمؓ اور اُن کے ساتھی ان کے مقابلہ سے رہ گئے تو انہوں نے ایک ٹیلے پر جا کر پناہ لی اور یہ تیر انداز بھی آپہنچے اور اُن کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور کہنے لگے: تم سے یہ عہد و پیمان ہے کہ اگر تم اُتر کر ہمارے پاس آجاؤ تو ہم تم میں سے کسی شخص کو قتل نہیں کریں گے۔ حضرت عاصمؓ نے کہا: میں تو کسی کافر کی پناہ میں نہیں اتروں گا۔ اے اللہ! اپنے نبیؐ کو ہمارے متعلق خبر دے۔ وہ اُن سے لڑے، آخر انہوں نے تیروں سے حضرت عاصمؓ کو بمع سات آدمیوں کے مار ڈالا اور حضرت خبیبؓ، حضرت زیدؓ اور ایک اور شخص بچ رہے۔ تیر اندازوں نے اُن کو عہد و پیمان دیا اور وہ ان کے عہد و پیمان دینے پر ان کے پاس آگئے۔ جب انہوں نے انہیں قابو میں کرلیا تو اپنی کمانوں کی تانیں کھولیں اور اُن سے ان کو جکڑ دیا۔ یہ دیکھ کر تیسرا شخص جو اُن کے ساتھ تھا بولا: یہ تمہاری پہلی بد عہدی ہے۔ چنانچہ اس نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ تب انہوں نے اس کو گھسیٹا اور اس سے کشمکش کی کہ ان کے ساتھ چلے لیکن وہ نہ گیا، آخر انہوں نے اسے مار ڈالا اور حضرت خبیبؓ اور حضرت زیدؓ کو لے کر چل دئیے اور ان دونوں کو مکہ میں بیچ ڈالا۔ حضرت خبیبؓ کو حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خرید لیا اور حضرت خبیبؓ نے ہی حارث کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا، وہ ان کے پاس قیدی رہے یہاں تک کہ سب نے اتفاق کیا کہ وہ قتل کر دئیے جائیں۔ حضرت خبیبؓ نے حارث کی ایک بیٹی سے اُسترا عاریۃً لیا کہ زیر ناف بال صاف کریں۔ اس نے انہیں دے دیا۔ وہ کہتی تھیں: میں نے اپنے ایک بچے کا دھیان نہ رکھا تو وہ خبیبؓ کے پاس رینگتا ہوا چلا گیا جب ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا جب میں نے یہ دیکھا تو اتنی گھبرا گئی کہ خبیبؓ یہ گھبراہٹ سمجھ گئے، ان کے ہاتھ میں استرا تھا، وہ کہنے لگے: تم ڈرتی ہو کہ میں اسے مار ڈالوں گا۔ انشاء اللہ میں کبھی ایسا نہ کروں گا اور کہتی تھیں: میں نے خبیبؓ سے زیادہ اچھا کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ میں نے خود انہیں خوشۂ انگور سے انگور کھاتے دیکھا ہے بحالیکہ ان دِنوں مکہ میں کوئی میوہ نہ تھا اور وہ زنجیر میں جکڑے ہوئے تھے اور وہ ایسا ہی کوئی رزق تھا جو اللہ نے اُن کو دیا۔ لوگ ان کو لے کر حرم سے باہر گئے تا انہیں قتل کردیں۔ انہوں نے کہا: مجھے چھوڑ دو کہ دو رکعتیں نماز پڑھ لوں۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر ان کے پاس آگئے اور کہنے لگے: اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم سمجھو گے کہ مجھے موت کی گھبراہٹ ہے تو میں (اپنی اسی حالت میں) اور (نماز) پڑھتا۔ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قتل کے وقت دو رکعت پڑھنے کی سنت قائم کی۔ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ! ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہنے پائے۔ پھر انہوں نے یہ شعر پڑھے: میں جبکہ فرمانبردار ہونے کی حالت میں مارا جارہا ہوں تو مجھے اس بات کی کیا پرواہ کہ اللہ کے لئے کس کروٹ پر گروں اور میری یہ موت اپنے معبود کی ذات کے لئے ہے اور اگر وہ چاہے تو اس ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے جسم کے جوڑوں کو برکت دے دے۔ پھر اس کے بعد عقبہ بن حارث اُٹھ کر اُن کی طرف آیا اور اس نے ان کو قتل کردیا۔ ادھر قریش نے کیا کِیا کہ حضرت عاصم (بن ثابتؓ) کی لاش پر لوگوں کو بھیجا کہ حضرت عاصمؓ کے بدن سے کوئی حصہ لے آئیں تاکہ اُن کو پہچان لیں اور حضرت عاصمؓ نے جنگ بدر میں اُن کے سرداروں میں سے ایک بہت بڑے سردار کو قتل کیا تھا۔ اللہ نے زنبوروں (بِھڑوں) کی فوج بادل کی طرح بھیج دی جس نے حضرت عاصمؓ (کے بدن) کو اُن کے بھیجے ہوئے آدمیوں سے بچایا اور وہ اُن کے بدن کا کوئی حصہ نہ لے سکے۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن دینار) سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت جابرؓ سے سنا۔ کہتے تھے: جس نے حضرت خبیبؓ کو قتل کیا تھا وہ ابو سروَعہ (عقبہ بن حارث) تھا۔
ابو معمر نے ہمیں بتایا کہ عبد الوارث (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عبد العزیز (بن مہیب) نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ستر آدمی جو قاری تھے (تبلیغ کی) غرض سے بھیجے۔ بنی سُلَیم کے دو قبیلوں رعل اور ذکوان نے ان سے ایک کنوئیں کے پاس جسے بئر معونہ کہتے تھے، تعرض کیا۔ ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تمہارے قصد سے نہیں آئے بلکہ ہم نبی ﷺ کے ایک کام کے لئے آگے جا رہے ہیں مگر انہوں نے ان کو قتل کر ڈالا۔ نبی ﷺ ان کے خلاف ایک مہینہ بھر صبح کی نماز میں دعا کرتے رہے اور دعائے قنوت کی یہی ابتداء تھی اور ہم پہلے قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے۔ عبد العزیز (بن صہیب) نے (اسی سند سے) یہ کہا اور ایک شخص نے دعائے قنوت کی نسبت حضرت انسؓ سے پوچھا: آیا رکوع کے بعد ہے یا قرأت سے فارغ ہونے پر؟ انہوں نے کہا: نہیں بلکہ قرأت سے فارغ ہونے پر (رکوع سے پہلے)۔