بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق (سبیعی) سے، ابواسحاق نے حضرت سلیمان بن صُرَدؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے جنگِ احزاب کے دن فرمایا: (اس کے بعد) ہم ان پر حملہ آور ہوں گے اور وہ ہم پر حملہ نہیں کر سکیں گے۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ بن آدم نے ہمیں بتایا۔ اسرائیل (بن یونس) نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے ابواسحاق سے سنا، کہتے تھے: میں نے حضرت سلیمان بن صُرَد ؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: جب احزاب میدان سے ہٹ گئے تو میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا۔ اب ہم ان پر حملہ کریں گے اور وہ ہم پر حملہ نہیں کریں گے۔ ہم ان کی طرف جایا کریں گے۔
اسحاق (بن منصور) نے ہمیں بتایا۔ رَوح (بن عبادہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن حسان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے عبیدہ (بن عمرو سلمانی) سے، عبیدہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے، حضرت علیؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے خندق کے موقع پر فرمایا: اللہ ان کافروں کے لئے ان کے گھر اور ان کی قبریں آگ سے بھر دے! انہوں نے ہمیں مصروف رکھا اور صلوٰۃِ وسطیٰ (درمیانی نماز) کا موقع نہیں دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن ابی عبداللہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن) سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوۂ خندق کے اثنا میں ایک دفعہ سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور کفار قریش کو سخت سُست کہنے لگے اور کہا: یا رسول اللہ! قریب تھا کہ میں نماز سے رہ جاتا۔ اس وقت نماز پڑھی کہ سورج ڈوبنے کو تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے بھی تو نماز نہیں پڑھی ہے پھر ہم نبی ﷺ کے ساتھ (وادیٔ) بطحان میں گئے۔ آپؐ نے نماز کے لئے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا۔ آپؐ نے عصر پڑھائی جبکہ سورج غروب ہو چکا تھا پھر اس کے بعد مغرب پڑھائی۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (محمد) بن منکدر سے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر ؓ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے جنگ احزاب میں فرمایا: ہمارے پاس ان لوگوں کی خبر کون لائے گا؟ حضرت زبیر (بن عوامؓ ) نے کہا: میں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: ہمارے پاس ان لوگوں کی خبر کون لائے گا؟ حضرت زبیرؓ نے کہا: میں۔ آپؐ نے تھوڑی دیر بعد پھر فرمایا: ہمارے پاس ان لوگوں کی خبر کون لائے گا؟ حضرت زبیرؓ نے پھر کہا: میں۔ آپؐ نے فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیرؓ ہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن ابی سعید سے، سعید نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنی فوج کو عزت دی اور اپنے بندہ کی مدد کی اور خود اکیلے ہی ان احزاب کو مغلوب کردیا۔ اب اس کے بعد کوئی (خوف کی) بات نہیں۔
محمد (بن سلام بیکندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ (مروان بن معاویہ) فزاری اور عبدہ نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل بن ابی خالد سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے احزاب کے خلاف دعا کی اور فرمایا: اے اللہ! جو کتاب کو نازل کرنے والا ہے، جلدی حساب لینے والا ہے، ان احزاب کو بھگا دے، انہیں بھگا دے اور ان کے قدم اُکھاڑ دے۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سالم (بن عبداللہ بن عمر) اور نافع سے، ان دونوں نے حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے واپس آتے تو پہلے تین بار اللہ اکبر کہتے پھر فرماتے: ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اس میں تمام خوبیاں ہیں اور وہ ہر بات پر قادر ہے، ہم لوٹ کر آرہے ہیں، اسی کی طرف متوجہ ہونے والے، اپنے ربّ ہی کی عبادت کرنے والے، اپنے ربّ ہی کو سجدہ کرنے والے، اپنے ربّ ہی کی ستائش کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ پورا کردیا اور اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور تمام احزاب کو اکیلے ہی شکست دے کر بھگا دیا۔
(تشریح)عبداللہ بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن نُمَیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: جب نبی ﷺ جنگ خندق سے لوٹے اور ہتھیار اُتار دئیے اور غسل کیا۔ جبرائیل علیہ السلام آپؐ کے پاس آئے اور بولے: آپؐ نے تو ہتھیار اُتار دئیے ہیں واللہ! ہم نے تو نہیں اتارے۔ ان کی طرف چلیں۔ آپؐ نے پوچھا: کدھر؟ انہوں نے کہا: ادھر اور بنوقریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ چنانچہ نبی ﷺ ان کی طرف چلے۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید بن ہلال سے، حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: گویا میں اس وقت بھی اس غبار کو دیکھ رہا ہوں جو جبرائیلؑ کی سواری سے بنی غنم کے کوچہ میں اُٹھا تھا جبکہ رسول اللہ ﷺ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے۔