بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے جنگ احزاب میں فرمایا: کوئی بھی عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنی قریظہ میں پہنچ کر۔ صحابہؓ میں سے بعض نے راستے میں ہی عصر کا وقت پایا تو اُن میں سے کسی نے کہا: ہم (عصر) نہیں پڑھیں گے جب تک ہم وہاں نہ پہنچ جائیں۔ کسی نے کہا: نہیں ہم پڑھ لیتے ہیں، آنحضرت ﷺ کی یہ مراد نہیں تھی کہ ہم وہیں جا کر پڑھیں۔ نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے ان میں سے کسی پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔
اور بکر بن سوادہ نے کہا: زیاد بن نافع نے مجھے بتایا کہ ابوموسیٰ (علی بن رباح تابعی) سے مروی ہے کہ حضرت جابرؓ نے ان سے بیان کیا: نبی ﷺ
((عبداللہ) بن ابی الاسود نے مجھ سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ (امام بخاریؒ نے کہا:) اور خلیفہ (بن خیاط) نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: کوئی صحابی نبی ﷺ کیلئے کھجوروں کے کچھ درخت خاص کر دیتا تھا۔ جب آپؐ نے قریظہ اور نضیر فتح کئے تو (آپؐ کو ان کی ضرورت نہ رہی اور) میرے گھر والوں نے مجھے کہا کہ میں نبی ﷺ کے پاس جاؤں اور آپؐ سے وہ درخت جو انہوں نے آنحضرت ﷺ کو دئیے تھے یا ان میں سے کچھ درخت واپس کرنے کیلئے کہوں اور نبی ﷺ نے یہ درخت حضرت اُمّ ایمنؓ کو دے دئیے تھے۔ یہ سن کر حضرت اُمّ ایمنؓ آئیں اور میری گردن میں کپڑا ڈالا اور بولیں: ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! (یہ درخت) تمہیں کبھی نہیں ملیں گے جبکہ آنحضرت ﷺ مجھے دے چکے ہیں یا کچھ ایسا ہی کہا اور نبی ﷺ نے (حضرت اُمّ ایمنؓ سے) فرمایا: (واپس کردو) تمہیں اتنے ہی اور دوں گا اور وہ کہتی تھیں: اللہ کی قسم! ہرگز نہیں۔ آخر آپؐ نے ان کو - میرا خیال ہے کہ حضرت انسؓ نے کہا - اس سے دس گنا دئیے یا کچھ ایسے ہی الفاظ تھے جو کہے۔
محمد بن بشار نے مجھے بتایا۔ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد (بن ابراہیم) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے ابواُمامہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: بنوقریظہ خواہش مند ہوئے کہ حضرت سعد بن معاذؓ جو فیصلہ کردیں گے وہ ہمیں منظور ہوگا۔ سو نبی ﷺ نے حضرت سعدؓ کو بلا بھیجا۔ وہ گدھے پر سوار جب مسجد کے قریب پہنچے تو آپؐ نے انصار سے کہا: اپنے سردار کے استقبال کو اُٹھو، یا فرمایا: اپنے سے بہتر شخص کے استقبال کو اُٹھو۔ آپؐ نے (ان سے) فرمایا: یہ لوگ آپؓ کے فیصلہ کے خواہش مند ہیں۔ حضرت سعدؓ نے کہا: ان میں سے جو لڑنے والے ہیں انہیں آپؐ قتل کردیں اور ان کے بال بچوں کو قید کرلیں۔ آپؐ نے فرمایا: تم نے اللہ ہی کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے، یا فرمایا: جیسے بادشاہ (یعنی خدا) کا حکم تھا ویسے فیصلہ کیا ہے۔
زکریا بن یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن نُمَیر نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن عروہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: خندق کی جنگ میں حضرت سعدؓ کو قریش کے ایک شخص کا تیر لگا جسے حبان بن عرقہ کہتے تھے۔ {اور یہ حبان بن قیس ہے جو بنو معیص بن عامر بن لؤی میں سے تھا۔} اس نے انہیں (اکحل) ہفت اندام کی رگ میں تیر مارا۔ نبی ﷺ نے مسجد میں ایک خیمہ لگایا کہ آسانی سے ان کی عیادت کر سکیں۔ جب رسول اللہ ﷺ خندق کی جنگ سے لَوٹ کر آئے، آپؐ نے ہتھیار کھول دئیے اور غسل کیا، اتنے میں جبریل علیہ السلام آئے اور آپؐ اپنا سر گرد سے صاف کر رہے تھے۔ جبرائیلؑ نے کہا: آپؐ نے ہتھیار کھول دئیے ہیں، اللہ کی قسم! میں نے تو نہیں کھولے، ان کی طرف چلیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: کدھر؟ تو انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس گئے اور وہ فیصلہ پر رضا مند ہوگئے۔ مگر آپؐ نے حضرت سعدؓ کی طرف فیصلہ لوٹایا۔ حضرت سعدؓ نے کہا: میں تو ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ لڑنے والے قتل کئے جائیں اور عورتیں اور بچے قید کئے جائیں اور ان کے مال بانٹ دئیے جائیں۔ ہشام نے کہا: میرے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے یہ بھی بتایا کہ حضرت سعدؓ نے کہا: اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے تیری خاطر کسی سے بھی جہاد کرنا اتنا پسند نہیں جتنا کہ ان لوگوں سے جنہوں نے تیرے رسول (ﷺ) کو جھٹلایا اور وطن سے نکالا، اے اللہ! میں سمجھتا ہوں کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی موقوف کر دی ہے اور اگر قریش سے ابھی کچھ لڑائی باقی ہو تو مجھے اس کے لئے زندہ رکھ تا میں تیری خاطر ان سے جہاد کروں اور اگر تو نے لڑائی ختم کر دی ہے تو میرے زخموں کو کھول کر بہنے دے اور اس میں میری موت ہو۔ چنانچہ ان کے سینے کا زخم کھل گیا اور خون بہہ کر بنی غفار کے خیمہ کی طرف جو مسجد ہی میں تھا، آنے لگا اور وہ خوفزدہ ہو کر بول اُٹھے: یہ کیا ہے جو تمہاری طرف سے ہماری طرف آ رہا ہے؟ کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت سعد ؓ کا زخم کھل گیا ہے اور خون بہہ رہا ہے۔ وہ اس زخم سے فوت ہوگئے۔ اللہ ان سے راضی ہو۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: عدی (بن ثابت) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے حضرت حسانؓ سے فرمایا: مشرکوں کی ہجو کرو یا فرمایا: ان کی ہجو کا جواب دو اور جبرائیل تمہارے ساتھ ہے۔
اور ابراہیم بن طہمان نے (سلیمان) شیبانی سے، شیبانی نے عدی بن ثابت سے، عدی نے حضرت براء بن عازبؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے قریظہ کے واقعہ میں حسانؓ بن ثابت سے کہا: ان مشرکوں کی ہجو کرو، جبرائیلؑ تمہارے ساتھ ہیں۔
(تشریح)اور عبداللہ بن رجاء نے کہا: عمران قطان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن) سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ساتویں مہم میں یعنی غزوۂ ذات الرقاع میں اپنے صحابہ کو نمازِ خوف پڑھائی۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: نبی ﷺ نے نمازِ خوف مقام ذی قرد میں پڑھائی۔
اور ابن اسحاق نے کہا: میں نے وہب بن کیسان سے سنا۔ (وہ کہتے تھے:) میں نے حضرت جابرؓ سے سنا کہ نبی ﷺ نخل کے مقام سے ذات الرقاع کو گئے اور وہاں غطفان کی ایک جمیعت سے مقابلہ ہوا۔ کوئی لڑائی نہیں ہوئی اور لوگوں نے ایک دوسرے کو دھمکی دی تھی۔ نبی ﷺ نے نمازِ خوف کی دو رکعتیں پڑھائیں۔ اور یزید نے حضرت سلمہؓ (بن اکوع) سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ میں قرد کی مہم میں حملہ کے لئے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکلا تھا۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے بُرَید بن عبداللہ بن ابی بردہ سے، انہوں نے (اپنے دادا) ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، کہا: ہم ایک حملہ میں نبی ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہم چھ آدمی تھے۔ ہمارے پاس ایک مشترکہ اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سوار ہوتے۔ ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے دونوں پاؤں بھی پھٹ گئے اور میرے ناخن گر گئے اور ہم اپنے پاؤں پر کپڑوں کے ٹکڑے لپیٹتے تھے۔ اس لئے اس کا نام غزوۂ ذات الرقاع (یعنی چیتھڑوں والی لڑائی) رکھا گیا۔ کیونکہ ہم کپڑوں کے ٹکڑے اپنے پیروں پر باندھتے تھے اور حضرت ابوموسیٰ (اشعریؓ) نے یہ واقعہ بیان کرنا ناپسند کیا۔ کہنے لگے: میں ایسا نہ کرتا یعنی اس کا ذکر نہ کرتا۔ گویا انہوں نے ناپسند کیا کہ اپنے (نیک) عمل میں سے کسی بات کا اظہار کریں۔