بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل (بن ابراہیم بن عُلیّہ) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عطاء (بن ابی رباح) نے مجھے بتایا کہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے خبر دی کہ حضرت یعلیٰ ؓ کہا کرتے تھے: کاش کہ میں رسول اللہ ﷺ کو اس وقت دیکھوں کہ جب آپؐ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ صفوان نے کہا: ایک بار جبکہ نبی ﷺ جعرانہ میں تھے اور آپؐ کے اوپر ایک کپڑا تھا، جس سے آپؐ کو سایہ کیا ہوا تھا۔ آپؐ کے ساتھ سائبان کے نیچے صحابہؓ میں سے بعض لوگ تھے۔ اتنے میں آپؐ کے پاس ایک اعرابی آیا جس نے ایک چوغہ پہنا تھا جو خوشبو سے مہک رہا تھا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ کا کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جس نے ایسے چوغہ میں عمرہ کا احرام باندھا ہو جو خوشبو سے لتھڑا ہو؟ حضرت عمر ؓ نے حضرت یعلیٰؓ کو ہاتھ کا اشارہ کیا کہ اِدھر آؤ۔ حضرت یعلیٰؓ آئے اور انہوں نے بھی اپنا سر جو اُس (سائبان) کے اندر کیا تو کیا دیکھا کہ نبی ﷺ کا چہرہ سرخ ہے، آپؐ کے سانس کی آواز آ رہی تھی۔ ایک گھڑی یہی حال رہا۔ پھر اس کے بعد آپؐ سے وہ حالت جاتی رہی۔ آپؐ نے فرمایا: وہ شخص کہاں ہے جو مجھ سے عمرہ کے متعلق ابھی پوچھ رہا تھا؟ اس شخص کی تلاش کی گئی، اس کو لے آئے۔ آپؐ نے فرمایا: یہ جو خوشبو تمہیں لگی ہوئی ہے اس کو تین بار دھو ڈال اور چوغہ اُتار دے۔ پھر اپنے عمرہ میں وہی کر جو اپنے حج میں تو کیا کرتا ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا, (کہا:) وُہَیب (بن خالد) نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن یحيٰ سے روایت ہے۔ انہوں نے عباد بن تمیم سے, عباد نے حضرت عبداللہ بن زیدؓ بن عاصم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو حنین کے واقعہ میں غنیمت کا مال عطا فرمایا تو آپؐ نے ان لوگوں میں وہ بانٹ دیا جن کی تالیفِ قلب مقصود تھی اور انصار کو کچھ نہیں دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انصار نے اس کو محسوس کیا کہ انہیں وہ کچھ نہیں ملا جو لوگوں کو ملا ہے۔ یہ دیکھ کر آپؐ نے ان کو خطاب فرمایا اور کہا: اے انصار کی جماعت! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ نے میرے ذریعہ تمہیں ہدایت دی اور تم پراگندہ تھے تو اللہ نے میرے ذریعہ تمہارے درمیان اُلفت پیدا کردی اور تم محتاج تھے تو اللہ نے میرے ذریعہ تم کو غنی کردیا۔ جب کبھی آپؐ کچھ فرماتے تو انصار کہتے: اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بڑا ہی احسان فرمایا ہے۔ آپؐ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو جواب دینے سے تمہیں کیا بات روک رہی ہے؟ حضرت عبداللہ بن زیدؓ کہتے تھے: جب کبھی آپؐ کچھ فرماتے تو وہ کہتے: اللہ اور اس کے رسولﷺ نے بڑا ہی احسان فرمایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم چاہتے تو کہتے: آپؐ ہمارے پاس ایسی ایسی حالت میں آئے تھے۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ لوگ اونٹ بکریاں لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میں نبی ﷺ کو لے کر جاؤ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ہی ایک آدمی ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی یا پہاڑی راستے میں چلیں تو میں انصار کی ہی وادی اور انہی کے پہاڑی راستے میں چلوں۔ انصار اَستر ہیں اور دوسرے لوگ اَبرہ۔ دیکھو عنقریب تم میرے بعد حق تلفی پاؤ گے۔ پس تم صبر سے رہنا۔ یہاں تک کہ تم مجھے حوضِ کوثر پر ملو۔
مجھ سے عبداللہ بن محمد (مسندی) نے بیان کیا، (کہا:) ہم سے ہشام (بن یوسف صنعانی) نے کہا کہ معمر (بن راشد) نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی, کہتے تھے: جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو ہوازن کے مالوں سے عطا کیا اور نبی ﷺ بعض لوگوں کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار میں سے بعض کہنے لگے: اللہ رسول اللہ ﷺ سے درگزر فرمائے۔ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نظرانداز کردیا ہے حالانکہ ہماری تلواریں اُن کے خون سے ٹپک رہی ہیں۔ حضرت انس ؓ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ سے اُن کی اس بات کا ذکر ہوا تو آپؐ نے انصار کو بلا بھیجا۔ ان کو چمڑے کے ایک بڑے خیمے میں اکٹھا کیا اور اُن کے ساتھ اور کسی کو نہ بلایا۔ جب وہ سب اکٹھے ہوگئے, نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: یہ کیا بات ہے جو مجھے تمہارے متعلق پہنچی ہے؟ انصار میں سے جو سمجھ دار لوگ تھے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں سے بڑے لوگوں نے کچھ نہیں کہا اور جو ہم میں سے کم سن لوگ ہیں، انہوں نے یہ کہا ہے: اللہ رسول اللہ ﷺ کو معاف کرے, قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں حالانکہ ہماری تلواریں اُن کے خون سے ٹپک رہی ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو حال میں مسلمان ہوئے ہیں۔ میں اُن کی تالیف قلب کرنا چاہتا ہوں۔ کیا تمہیں پسند نہیں کہ لوگ مال لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میں نبی ﷺ کو لے کر جاؤ؟ کیونکہ اللہ کی قسم جس کو تم لے کر لَوٹ رہے ہو، وہ بہتر ہے اُن مالوں سے جن کو وہ لے کر لَوٹیں گے۔ انصار نے کہا: یا رسول اللہ! ہم خوش ہیں۔ پھر نبی ﷺ نے اُن سے فرمایا: عنقریب تم بہت خودغرضی پاؤ گے۔ تو تم اس وقت تک کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ملو، صبر کئے رہنا۔ میں حوض پر ہوں گا۔ حضرت انس ؓ کہتے تھے: مگر انہوں نے صبر نہ کیا۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالتیاح (یزید بن حمید) سے, انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی, کہا: جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کے درمیان غنیمتیں تقسیم کیں۔ انصار ناراض ہوگئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو لے کر جاؤ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی یا (فرمایا:) پہاڑی راستے میں چلیں تو میں انصار کی ہی وادی یا اُن کے راستے پر ہی چلوں گا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا, (کہا:) ازہر (بن سعد سمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن عون سے, عبداللہ نے ہشام بن زید بن انس سے, انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب حنین کا واقعہ ہوا تو ہوازن سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی اور نبی ﷺ کے ساتھ دس ہزار صحابہؓ تھے اور وہ لوگ بھی تھے جن کو آپؐ نے احسان کرکے چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے پیٹھ پھیر دی۔ آپؐ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! انہوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ! حاضر ہیں اور آپؐ کی خدمت کے لئے مستعد کھڑے ہیں۔ ہم آپؐ کے سامنے موجود ہیں۔ پھر نبی ﷺ اپنی سواری سے اُتر پڑے اور آپؐ نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور مشرک شکست کھا کر بھاگ گئے۔ آپؐ نے ان لوگوں کو جنہیں احسان کرکے چھوڑ دیا تھا اور مہاجرین کو تو مالِ غنیمت دیا اور انصار کو کچھ نہ دیا۔ انصار باتیں کرنے لگے اور آپؐ نے ان کو بلایا، پھر انہیں ایک بڑے خیمے میں لے گئے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو لے کر جاؤ؟ نبی ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسرے راستے پر چلیں تو میں ضرور انصار کے راستے کو ہی اختیار کروں گا۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر (محمد بن جعفر) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا۔ وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے انصار میں سے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھو قریش زمانہ جاہلیت سے قریب بعہد ہیں اور ابھی ابھی مصیبت سے نکلے ہیں اور میں نے چاہا کہ ان کے نقصان کی تلافی کروں اور ان کی تالیف قلب کروں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ دُنیا لے کر لَوٹیں اور تم اپنے گھروں میں رسول اللہ ﷺ کو لے کر لَوٹو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار پہاڑ کے راستہ پر چلیں تو میں ضرور انصار کی وادی یا (کہا:) انصار کے راستے پر ہی چلوں گا۔
قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے, اعمش نے ابووائل سے, ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ نے حنین کے مال کی تقسیم کی تو انصار میں سے ایک شخص بولا: آپؐ نے اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی نہیں چاہی۔ یہ سن کر میں نبیﷺ کے پاس آیا اور آپؐ کو میں نے بتایا۔ آپؐ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ پھر فرمایا: موسیٰ پر اللہ کی رحمت ہو، انہیں اس سے زیادہ دُکھ دئیے گئے، پر انہوں نے صبر کیا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابو وائل سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب حنین کا واقعہ ہوا تو نبی ﷺ نے کچھ لوگوں کو مقدم کیا۔ اقرع (بن حابس) کو ایک سو اونٹ دیئے اور عُیَینہ (بن حصن) کو بھی اتنے ہی اونٹ اور چند اور لوگوں کو بھی دیا۔ یہ دیکھ کر ایک شخص بولا: اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی نہیں چاہی گئی۔ (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے تھے:) میں نے کہا: میں نبی ﷺ کو ضرور بتاؤں گا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ موسیٰ پر رحم کرے، انہیں اس سے زیادہ دُکھ دیا گیا اور انہوں نے صبر کیا۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا, (کہا:) معاذ بن معاذ نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن عون نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن زید بن انس بن مالک سے, ہشام نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب حنین کا واقعہ ہوا, ہوازن اور غطفان وغیرہ قبیلے اپنے مویشی اور اپنے بال بچے لے کر اُمڈ آئے اور نبی ﷺ کے ساتھ دس ہزار صحابہؓ تھے۔ کچھ ان لوگوں میں سے وہ بھی تھے جن کو آپؐ نے احسان کرکے چھوڑ دیا تھا۔ وہ سب آپؐ کو چھوڑ کر پیٹھ موڑ کر بھاگ نکلے۔ یہاں تک کہ آپؐ اکیلے رہ گئے۔ یہ دیکھ کر آپؐ نے اس دن دو آوازیں دیں۔ انہیں آپس میں ملایا نہیں۔ پہلے آپؐ نے دائیں طرف مڑ کر دیکھا اور فرمایا: اے انصار کے لوگو! انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حاضر۔ آپؐ کو بشارت ہو ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔ پھر آپؐ نے بائیں طرف مڑ کر دیکھا اور فرمایا: اے انصار کے لوگو! انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حاضر اور آپؐ کو بشارت ہو۔ ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔ آپؐ اس وقت ایک سفید خچر پر سوار تھے۔ آپؐ اُتر پڑے اور فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر مشرک شکست کھا کر بھاگ گئے۔ آپؐ نے اس دن بہت سی غنیمتیں حاصل کیں۔ آپؐ نے مہاجرین اور ان لوگوں میں جن کو احسان کرکے چھوڑ دیا تھا, بانٹ دیں۔ انصار کو کچھ نہ دیا۔ انصار کہنے لگے: جب کوئی سخت گھڑی ہو تو ہمیں بلایا جاتا ہے اور غنیمت اوروں کو دی جاتی ہے۔ یہ خبر آپؐ کو پہنچی۔ آپؐ نے ان کو ایک بڑے خیمہ میں اکٹھا کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! یہ کیا بات مجھے تمہاری طرف سے پہنچی ہے؟ وہ خاموش رہے۔ آپؐ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو اپنے گھروں میں لے کر جاؤ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک پہاڑی راستے پر چلیں تو میں خود انصار کا راستہ اختیار کروں گا۔ ہشام نے یہ سن کر کہا: ابو حمزہ! آپؓ بھی اس وقت موجود تھے؟ انہوں نے کہا: اور میں کہاں آپؐ سے غائب ہوگیا تھا۔
(تشریح)ابو نعمان نے ہمیں بتایا کہ حماد (بن زید) نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب (سختیانی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے, نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے نجد کی طرف ایک دستہ فوج بھیجا اور میں بھی اس میں شامل تھا۔ ہمارے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے اور ہمیں ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا اور ہم تیرہ تیرہ اونٹ لے کر آئے۔
(تشریح)