بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
محمود (بن غیلان) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں خبر دی۔ (دوسری سند) اور نعیم (بن حماد) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے, زُہری نے سالم سے, سالم نے اپنے باپ (حضرت عبداللہ بن عمرؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا اور انہوں نے اُن کو اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے اچھی طرح نہ کہا کہ ہم نے اسلام قبول کیا اور کہنے لگے: ہم نے اپنا دین بدل ڈالا۔ ہم نے اپنا دین بدل ڈالا۔ اس پر حضرت خالدؓ نے ان کے آدمی قتل کرنے اور قید کرنے شروع کر دیئے اور ہم میں سے ہر ایک شخص کو اُس کا اپنا ہی قیدی دے دیا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ حضرت خالدؓ نے حکم دیا کہ ہم میں سے ہر ایک شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی شخص اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ یہاں تک کہ ہم نبی ﷺ کے پاس پہنچے تو ہم نے آپؐ سے سارا واقعہ ذکر کیا۔ نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ اُٹھائے اور آپؐ نے دو بار یہ فرمایا: اے اللہ! میں تیرے حضور بَری ہوں، اس فعل سے جو خالد نے کیا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سعد بن عبیدہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوعبدالرحمٰن (سلمی) سے, انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے ایک دستہ فوج بھیجا اور انصار میں سے ایک شخص کو سردار مقرر کیا اور آپؐ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ اس کی فرمانبرداری کریں۔ ایک دفعہ وہ (انصاری امیر) ناراض ہوا اور کہنے لگا: کیا نبی ﷺ نے تم کو حکم نہیں دیا کہ تم نے میری فرمانبرداری کرنی ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں, بے شک دیا ہے۔ تب اس نے کہا: میرے لئے جلانے کی لکڑیاں اکٹھی کرو۔ انہوں نے اکٹھی کیں۔ پھر اس نے کہا: آگ جلاؤ اور انہوں نے آگ جلائی۔ پھر کہا: اس میں داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے ارادہ کیا مگر وہ ایک دوسرے کو روکنے لگے اور کہنے لگے: ہم آگ سے بھاگ کر نبی ﷺ کے پاس آئے تھے (کہ قیامت کے دن آگ سے بچیں۔) خیر وہ یہی کہتے رہے یہاں تک کہ آگ بجھ گئی اور انصاری امیر کا غصہ بھی فرو ہو گیا۔ یہ خبر نبی ﷺ کو پہنچی۔ آپؐ نے فرمایا: اگر اس میں داخل ہوتے تو قیامت تک نہ نکلتے؛ اور (فرمایا:) اطاعت تو معروف بات میں ہوتی ہے۔
(تشریح)موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا کہ ابوعوانہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالملک (بن عمیر) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبردہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ (اشعریؓ) اور حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کی طرف بھیجا۔ ابوبردہ کہتے تھے: اور آپؐ نے اُن میں سے ہر ایک کو ایک ایک ضلع پر مقرر فرمایا اور یمن کے دو ضلعے تھے۔ پھر آپؐ نے ان دونوں سے فرمایا: (لوگوں پر) آسانی کرنا اور انہیں مشکل میں نہ ڈالنا اور ان کو خوش رکھنا اور نفرت نہ دلانا۔ چنانچہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے علاقہ میں چلا گیا اور ان میں سے ہر ایک جب اپنے علاقہ میں دورہ کرتا اور وہ اپنے ساتھی کے قریب آجاتا تو اس سے ملاقات کرتا، اس کے لئے سلامتی کی دعا کرتا۔ ایک بار حضرت معاذؓ اپنے علاقہ میں دورہ کرتے ہوئے اپنے ساتھی حضرت ابوموسیٰؓ کے قریب پہنچ گئے اور اپنی خچر پر سوار ہو کر حضرت ابوموسیٰؓ کے پاس گئے۔ کیا دیکھا کہ وہ بیٹھے ہیں اور اُن کے پاس لوگ جمع ہیں اور ایک شخص اُن کے پاس ہے جس کے دونوں ہاتھ اُس کی گردن سے جکڑے ہوئے ہیں۔ حضرت معاذؓ نے اُن سے کہا: عبداللہ بن قیس! یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ شخص ہے جو اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوگیا۔ حضرت معاذؓ نے کہا: میں اتروں گا نہیں جب تک کہ وہ قتل نہ کردیا جائے۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا: اسی لئے تو اسے لایا گیا ہے تم اُترو۔ انہوں نے کہا: میں ہرگز نہیں اُتروں گا جب تک کہ اس کو قتل نہ کردیا جائے۔ چنانچہ حضرت ابوموسیٰؓ نے اس کے متعلق حکم دیا اور وہ قتل کردیا گیا۔ پھر حضرت معاذؓ اُترے اور کہنے لگے: عبداللہ! تم قرآن کس طرح پڑھا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں۔ پھر حضرت ابوموسیٰ نے پوچھا: اور تم کس طرح پڑھتے ہو؟ معاذ! انہوں نے کہا: میں رات کے پہلے حصہ میں تو سو جاتا ہوں اور پھر اُٹھتا ہوں اور جو میرے نصیب میں سونا ہوتا ہے سو چکتا ہوں۔ پھر جو اللہ نے میرے لئے مقرر کیا ہوتا ہے پڑھتا ہوں۔ میں اپنے سونے میں بھی ثواب کی نیت رکھتا ہوں جیسا کہ اپنے اُٹھنے میں بھی ثواب کی نیت رکھتا ہوں۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا کہ ابوعوانہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالملک (بن عمیر) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبردہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ (اشعریؓ) اور حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کی طرف بھیجا۔ ابوبردہ کہتے تھے: اور آپؐ نے اُن میں سے ہر ایک کو ایک ایک ضلع پر مقرر فرمایا اور یمن کے دو ضلعے تھے۔ پھر آپؐ نے ان دونوں سے فرمایا: (لوگوں پر) آسانی کرنا اور انہیں مشکل میں نہ ڈالنا اور ان کو خوش رکھنا اور نفرت نہ دلانا۔ چنانچہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے علاقہ میں چلا گیا اور ان میں سے ہر ایک جب اپنے علاقہ میں دورہ کرتا اور وہ اپنے ساتھی کے قریب آجاتا تو اس سے ملاقات کرتا، اس کے لئے سلامتی کی دعا کرتا۔ ایک بار حضرت معاذؓ اپنے علاقہ میں دورہ کرتے ہوئے اپنے ساتھی حضرت ابوموسیٰؓ کے قریب پہنچ گئے اور اپنی خچر پر سوار ہوکر حضرت ابوموسیٰؓ کے پاس گئے۔ کیا دیکھا کہ وہ بیٹھے ہیں اور اُن کے پاس لوگ جمع ہیں اور ایک شخص اُن کے پاس ہے جس کے دونوں ہاتھ اُس کی گردن سے جکڑے ہوئے ہیں۔ حضرت معاذؓ نے اُن سے کہا: عبداللہ بن قیس! یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ شخص ہے جو اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوگیا۔ حضرت معاذؓ نے کہا: میں اتروں گا نہیں جب تک کہ وہ قتل نہ کردیا جائے۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا: اسی لئے تو اسے لایا گیا ہے تم اُترو۔ انہوں نے کہا: میں ہرگز نہیں اُتروں گا جب تک کہ اس کو قتل نہ کردیا جائے۔ چنانچہ حضرت ابوموسیٰؓ نے اس کے متعلق حکم دیا اور وہ قتل کردیا گیا۔ پھر حضرت معاذؓ اُترے اور کہنے لگے: عبداللہ! تم قرآن کس طرح پڑھا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں۔ پھر حضرت ابوموسیٰ نے پوچھا: اور تم کس طرح پڑھتے ہو؟ معاذ! انہوں نے کہا: میں رات کے پہلے حصہ میں تو سو جاتا ہوں اور پھر اُٹھتا ہوں اور جو میرے نصیب میں سونا ہوتا ہے سو چکتا ہوں۔ پھر جو اللہ نے میرے لئے مقرر کیا ہوتا ہے پڑھتا ہوں۔ میں اپنے سونے میں بھی ثواب کی نیت رکھتا ہوں جیسا کہ اپنے اُٹھنے میں بھی ثواب کی نیت رکھتا ہوں۔
اسحاق (بن منصور) نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (بن عبداللہ طحان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شیبانی سے، شیبانی نے سعید بن ابی بردہ سے, سعید نے اپنے باپ سے, ان کے باپ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے اُن کو یمن کی طرف (حاکم بنا کر) بھیجا۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے ان شرابوں سے متعلق پوچھا جو وہاں بنائی جاتی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اور وہ کیا کیا شرابیں ہیں؟ انہوں نے کہا: بِتْع اور مِزْر۔ سعید نے کہا: میں نے ابوبردہ سے پوچھا: بِتْع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: شہد کی شراب اور مِزْر جَو کی شراب۔ آپؐ نے فرمایا: ہر نشہ آور شے حرام ہے۔ یہ بات جریر اور عبدالواحد نے بھی (سلیمان) شیبانی سے، شیبانی نے ابوبردہ سے روایت کی۔
مسلم (بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن ابی بردہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ان کے دادا حضرت ابوموسیٰؓ اور حضرت معاذؓ کو یمن کی طرف (حاکم بنا کر) بھیجا اور فرمایا: تم (لوگوں کے لئے) آسانی کرنا اور (اُن کو) مشکل میں نہ ڈالنا اور خوش رکھنا اور نفرت نہ دلانا اور دونوں آپس میں اتفاق سے رہنا۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا: نبی اللہ! ہمارے ملک میں جَو کی شراب ہوتی ہے، جسے مِزْر کہتے ہیں اور شہد کی شراب بھی، جسے بِتْع کہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہر نشہ آور شے حرام ہے۔ ہم چل پڑے۔ حضرت معاذؓ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے پوچھا: آپؐ قرآن کس طرح پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کھڑے ہوکر بھی اور بیٹھ کر بھی اور اپنے اونٹ پر سوار ہونے کی حالت میں بھی اور تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں جب فرصت ہوتی ہے۔ حضرت معاذؓ نے کہا: میں تو (شروع رات میں) سو جاتا ہوں اور پھر اُٹھتا ہوں اور میں اپنے سونے میں بھی ثواب کی نیت رکھتا ہوں جیسا کہ اپنے اُٹھنے میں ثواب کی نیت رکھتا ہوں اور حضرت ابوموسیٰؓ نے ایک بڑا خیمہ نصب کیا اور ایک دوسرے کی ملاقات کے لئے آنے جانے لگے۔ ایک دفعہ حضرت معاذؓ حضرت ابوموسیٰؓ سے ملنے کے لئے گئے، تب دیکھا کہ ایک شخص جکڑا ہوا ہے۔ انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا: یہودی ہے جو مسلمان ہوگیا تھا، پھر مرتد ہوگیا ہے۔ حضرت معاذؓ نے کہا: میں تو اس کی گردن اُڑا دوں گا۔ (مسلم بن ابراہیم) کی طرح (عبدالملک بن عمرو) عقدی اور وہب (بن جریر) نے شعبہ سے یہی روایت بیان کی۔ اور وکیع اور نضر (بن شمیل) اور ابوداؤد (طیالسی) نے شعبہ سے یہی بات بیان کی۔ شعبہ نے سعید سے, سعید نے اپنے باپ سے, انہوں نے سعید کے دادا سے, ان کے دادا نے نبی ﷺ سے اسے روایت کیا۔ اور جریر بن عبدالحمید نے اس کو شیبانی سے, شیبانی نے ابوبردہ سے روایت کیا۔
مسلم (بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن ابی بردہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ان کے دادا حضرت ابوموسیٰؓ اور حضرت معاذؓ کو یمن کی طرف (حاکم بنا کر) بھیجا اور فرمایا: تم (لوگوں کے لئے) آسانی کرنا اور (اُن کو) مشکل میں نہ ڈالنا اور خوش رکھنا اور نفرت نہ دلانا اور دونوں آپس میں اتفاق سے رہنا۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا: نبی اللہ! ہمارے ملک میں جَو کی شراب ہوتی ہے، جسے مِزْر کہتے ہیں اور شہد کی شراب بھی، جسے بِتْع کہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہر نشہ آور شے حرام ہے۔ ہم چل پڑے۔ حضرت معاذؓ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے پوچھا: آپؐ قرآن کس طرح پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کھڑے ہوکر بھی اور بیٹھ کر بھی اور اپنے اونٹ پر سوار ہونے کی حالت میں بھی اور تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں جب فرصت ہوتی ہے۔ حضرت معاذؓ نے کہا: میں تو (شروع رات میں) سو جاتا ہوں اور پھر اُٹھتا ہوں اور میں اپنے سونے میں بھی ثواب کی نیت رکھتا ہوں جیسا کہ اپنے اُٹھنے میں ثواب کی نیت رکھتا ہوں اور حضرت ابوموسیٰؓ نے ایک بڑا خیمہ نصب کیا اور ایک دوسرے کی ملاقات کے لئے آنے جانے لگے۔ ایک دفعہ حضرت معاذؓ حضرت ابوموسیٰؓ سے ملنے کے لئے گئے، تب دیکھا کہ ایک شخص جکڑا ہوا ہے۔ انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا: یہودی ہے جو مسلمان ہوگیا تھا، پھر مرتد ہوگیا ہے۔ حضرت معاذؓ نے کہا: میں تو اس کی گردن اُڑا دوں گا۔ (مسلم بن ابراہیم) کی طرح (عبدالملک بن عمرو) عقدی اور وہب (بن جریر) نے شعبہ سے یہی روایت بیان کی۔ اور وکیع اور نضر (بن شمیل) اور ابوداؤد (طیالسی) نے شعبہ سے یہی بات بیان کی۔ شعبہ نے سعید سے، سعید نے اپنے باپ سے، انہوں نے سعید کے دادا سے، ان کے دادا نے نبی ﷺ سے اسے روایت کیا۔ اور جریر بن عبدالحمید نے اس کو شیبانی سے، شیبانی نے ابوبردہ سے روایت کیا۔
عباس بن ولید جو نرسی ہیں انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب بن عائذ سے روایت کی کہ قیس بن مسلم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے طارق بن شہاب سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا, کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے میری قوم کے ملک کی طرف (حاکم بنا کر) بھیجا۔ میں وہاں سے لوٹ کر آیا اور رسول اللہ ﷺ اس وقت ابطح (مُحَصَّب) میں اُترے ہوئے تھے۔ آپؐ نے پوچھا: عبداللہ بن قیس! تم نے حج کی نیت کی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپؐ نے پوچھا: تم نے کس طرح نیت کی تھی؟ کہتے تھے: میں نے کہا: اس احرام کے ساتھ لبیک کہتا ہوں جس نیت سے آپؐ نے احرام باندھا۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تم اپنے ساتھ کوئی قربانی لائے ہو؟ میں نے کہا: کوئی قربانی نہیں لایا۔ آپؐ نے فرمایا: پھر تم بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرو اور پھر اس کے بعد احرام کھول ڈالو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ اور بنی قیس کی عورتوں میں سے ایک عورت نے مجھے کنگھی کی اور ہم اس وقت تک اسی طریقہ پر رہے کہ حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے۔
حبان (بن موسیٰ) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ زکریا بن اسحاق سے روایت ہے۔ زکریا نے یحيٰ بن عبداللہ بن صیفی سے, یحيٰ نے حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام ابومعبد سے, ابومعبد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) رسول اللہﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے جب آپؐ نے اُن کو یمن کی طرف بھیجا, فرمایا: تم عنقریب ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جو اہل کتاب ہیں۔ جب تم اُن کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو پھر انہیں یہ بتاؤ کہ اللہ نے اُن پر دِن رات میں پانچ نمازیں مقرر کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری بات مان لیں پھر انہیں بتاؤ کہ اللہ نے اُن پر صدقہ مقرر کیا ہے، جو اُن کے دولت مندوں سے لیا جائے اور ان کے محتاجوں کو لَوٹا دیا جائے۔ پھر اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو خبردار اُن کے عمدہ عمدہ مال صدقہ میں نہ لینا (بلکہ درمیانہ درجہ کا لینا) اور مظلوم کی پکار سے بچنا۔ اس لئے کہ اُس کے اور اللہ کے درمیان کوئی روک نہیں ہوتی۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: (سورۂ مائدہ میں جو فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ آیا ہے) اس میں طَوَّعَتْ کے معنی طَاعَتْ اور أَطَاعَتْ کے ہیں یعنی اُس نے فرمانبرداری اختیار کی۔ اور عربی زبان میں اس طرح بھی استعمال ہوتا ہے طِعْتُ وَطُعْتُ وَأَطَعْتُ (سب کے معنی ایک ہی ہیں۔)
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے, حبیب نے سعید بن جبیر سے, سعید نے عمرو بن میمون سے روایت کی کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ جب یمن میں آئے تو انہوں نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور یہ آیت پڑھی: ابراہیم کو اللہ نے (اپنا) محبوب دوست بنایا۔ یہ سن کر لوگوں میں سے ایک شخص بول پڑا: تب تو ابراہیمؑ کی ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہوگئی ہوگی۔ معاذ نے شعبہ سے, شعبہ نے حبیب سے, حبیب نے سعید سے, سعید نے عمرو (بن میمون) سے اتنا زائد بیان کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت معاذؓ کو یمن کی طرف بھیجا اور حضرت معاذؓ نے صبح کی نماز میں سورۂ نساء پڑھی۔ جب انہوں نے یہ کہا: ’’وَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا‘‘ تو ایک شخص پیچھے سے بولا: تب تو ابراہیم کی ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہوگئی ہوگی۔
(تشریح)