بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
حضرت عائشہؓ نے کہا: اور یہ بات ویسے ہی ہے جیسے عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کنویں پر کھڑے ہوئے جبکہ اس میں وہ مشرک پڑے تھے جو بدر کی جنگ میں مارے گئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ جو میں ان سے کہہ رہا ہوں وہ سن رہے ہیں حالانکہ یہ نہیں فرمایا تھا بلکہ یہ فرمایا تھا کہ وہ اب جانتے ہیں کہ جو میں ان سے کہا کرتا تھا سچ ہے اس کے بعد حضرت عائشہ نے یہ آیات پڑھیں: تو ہرگز مُردوں کو نہیں سنا سکتا۔ اور نہ تو اُن کو سنا سکتا ہے جو قبروں میں دبے پڑے ہوں۔ حضرت عائشہؓ کی مراد یہ تھی کہ جب آگ میں وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے تو پھر تو اُن کو نہیں سنا سکتا۔
عثمان (بن ابی شیبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ کہتے تھے: نبی ﷺ بدر کے کنویں پر رُکے اور (کفار قریش کو جو بدر میں مارے گئے تھے مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا: تمہارے ربّ نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے درست پایا ہے؟ پھر آپؐ نے فرمایا کہ وہ جو میں ان سے کہہ رہا ہوں سن رہے ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے حضرت ابن عمرؓ کی یہ روایت ذکر کی گئی تو وہ کہنے لگیں: بلکہ نبی ﷺ نے تو یہ فرمایا تھا کہ اب وہ جانتے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ صحیح تھا۔ پھر انہوں نے یہ ساری آیت پڑھی: تو مُردوں کو نہیں سنا سکتا۔
(تشریح)عثمان (بن ابی شیبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ کہتے تھے: نبی ﷺ بدر کے کنویں پر رُکے اور (کفار قریش کو جو بدر میں مارے گئے تھے مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا: تمہارے ربّ نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے درست پایا ہے؟ پھر آپؐ نے فرمایا کہ وہ جو میں ان سے کہہ رہا ہوں سن رہے ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے حضرت ابن عمرؓ کی یہ روایت ذکر کی گئی تو وہ کہنے لگیں: بلکہ نبی ﷺ نے تو یہ فرمایا تھا کہ اب وہ جانتے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ صحیح تھا۔ پھر انہوں نے یہ ساری آیت پڑھی: تو مُردوں کو نہیں سنا سکتا۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا۔ معاویہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحاق (ابراہیم بن محمد فزاری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید (طویل) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: حارثہؓ (بن سراقہ بن حارث) جنگ بدر میں شہید ہوئے اور وہ ابھی نوجوان لڑکے تھے، ان کی ماں (ربیع بنت نضر حضرت انسؓ کی پھوپھی) نبی ﷺ کے پاس آئیں۔ کہنے لگیں: یا رسول اللہ! آپؐ جانتے ہی ہیں جو مقام حارثہؓ کا میرے نزدیک تھا۔ سو اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں اور ثواب کی امید رکھوں اور اگر کوئی اور بات ہے تو آپؐ دیکھیں گے کہ میں کیا کچھ کرتی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: افسوس، کیا تو دیوانی ہے؟ کیا جنت ایک ہی ہے؟ جنتیں تو بہت سی ہیں اور تمہارا بیٹا تو جنت الفردوس میں ہے۔
اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن ادریس نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے حُصَین بن عبدالرحمٰن سے سنا۔ انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، سعد نے ابوعبدالرحمٰن (عبداللہ بن حبیب) سلمی سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور ابومرثدؓ (غنوی) اور زبیرؓ کو بھیجا اور ہم سب گھڑسوار تھے۔ آپؐ نے فرمایا: تم (سفر پر) روانہ ہوجاؤ یہاں تک کہ جب تم روضہ خاخ (مقام) پر پہنچو تو وہاں تمہیں مشرکوں میں سے ایک عورت ملے گی اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہؓ کی طرف سے مشرکوں کے نام ایک خط ہے۔ چنانچہ ہم نے وہاں پہنچ کر اُس کو پالیا جہاں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔ وہ اپنے اونٹ پر سوار چلی جارہی تھی۔ ہم نے (اس سے) کہا: لا خط نکال۔ کہنے لگی: ہمارے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھا دیا اور تلاشی لی مگر ہمیں کوئی خط نظر نہ آیا۔ ہم نے کہا: رسول اللہ ﷺ کا فرمانا غلط نہیں ہوسکتا، تم کو وہ خط نکالنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں ننگا کریں گے۔ جب اس نے ہم میں سنجیدگی دیکھی تو وہ اپنی کمر پر بندھی ہوئی چادر کی طرف جھکی اور خط نکال کر رکھ دیا۔ ہم اس عورت کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یارسول اللہ! حاطب نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنین سے خیانت کی ہے مجھے اجازت فرمائیں تو میں اس کی گردن اُڑا دوں۔ نبی ﷺ نے (حاطبؓ سے) پوچھا: کس بات نے تم کو اس کارروائی پر آمادہ کیا ہے جو تم نے کی ہے؟ حاطبؓ نے عرض کیا: بخدا بھلا مجھے کیا تھا کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے والا نہ ہوتا؟ مَیں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ ان (قریش کے) لوگوں پر میرا احسان ہو جس کے ذریعہ اللہ میرے بال بچوں اور جائیداد کی حفاظت کرتا اور آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا وہاں اس کے کنبے کا کوئی ایسا شخص نہ ہو کہ جس کے ذریعہ سے اللہ اس کے بال بچوں اور اس کی جائیداد سے ان کے شر کو دور کررہا ہو۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے اور تم بھی اس کی نسبت بھلی بات کے سوا کچھ نہ کہو۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اس نے اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنوں سے خیانت کی ہے، (یارسول اللہ!) مجھے اجازت دیں کہ اس کی گردن اُڑا دوں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا وہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے نہیں تھا؟ آپؐ نے فرمایا: امید ہے اللہ نے اہل بدر کو دیکھا ہو اور یہ کہا ہو: جو تم چاہو کرو تمہارے لئے جنت ہوچکی یا فرمایا: میں نے تمہاری پردہ پوشی کرکے تم کو معاف کردیا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور کہنے لگے: اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد جعفی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواحمد زبیری (محمد بن عبداللہ بن زبیر) نے ہمیں بتایا کہ عبدالرحمٰن بن غسیل نے ہم سے بیان کیا کہ حمزہ بن ابواُسَید اور زبیر بن منذر بن ابواُسَید سے روایت ہے۔ ان دونوں نے حضرت ابواُسَید (مالک بن ربیعہ خزرجی ساعدی) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جنگ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا: جب کافر تمہارے اتنے قریب ہو جائیں کہ وہ تمہاری زد میں ہوں تو پھر اس وقت ان پر تیر چلاؤ اور اپنے تیر بچائے رکھو۔
محمد بن عبدالرحیم (صاعقہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواحمد زبیری نے ہمیں بتایا کہ عبدالرحمٰن بن غسیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمزہ بن ابو اُسَید اور منذر بن ابو اُسَید سے روایت کی کہ حضرت ابو اُسَید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر کے دن ہمیں فرمایا کہ کافر جب تم پر ہجوم کرکے حملہ کریں تو پھر اُس وقت تم انہیں نشانہ بناؤ اور اپنے تیر بچائے رکھو۔
عمر و بن خالد نے ہم سے بیان کیا۔ زُہَیر نے ہمیں بتایا کہ ابو اسحاق نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: نبی ﷺ نے جنگ اُحد کے دن تیر اندازوں پر حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کو سردار مقرر کیا اور کافروں نے ہمارے ستر آدمیوں کو زخمی کیا اور نبی ﷺ اور صحابہؓ نے جنگ بدر میں مشرکوں کے ایک سو چالیس آدمیوں کا نقصان کیا تھا یعنی ستر کو قید کیا اور ستر کو قتل کیا تھا۔ (جنگ احد میں) ابو سفیان نے کہا: یہ معرکہ بدر کے معرکہ کا بدلہ ہے اور لڑائی تو ڈول کی طرح ہے (کبھی ایک کے حق میں اور کبھی دوسرے کے حق میں۔)
(ابوکُرَیب) محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ (حماد بن اسامہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بُرَید (بن عبداللہ بن عامر بن ابی موسیٰ) سے، انہوں نے اپنے دادا ابوبردہ (عامر) سے، ابوبردہ نے (اپنے والد) حضرت ابوموسیٰ (اشعریؓ) سے روایت کی۔ (ابوبردہ کہتے ہیں:) میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی، آپؐ نے فرمایا کہ میں نے (خواب میں) جو خیر دیکھی اس کی تعبیر وہ خیر تھی جو اللہ (جنگ احد کے) بعد لایا اور صدق کا بدلہ وہ ہے جو اللہ نے ہم کو جنگ بدر کے بعد دیا۔
یعقوب بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سعد (بن ابراہیم) سے، انہوں نے ان کے دادا (ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کہتے تھے کہ میں جنگ بدر کے دن صف میں کھڑا تھا میں نے نگاہ پھیری تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے دائیں اور بائیں دو نَوعمر جوان لڑکے ہیں جیسے اُن کی اس موجودگی پر مَیں اپنے آپ کو اَمن میں نہیں سمجھتا تھا۔ اتنے میں ان میں سے ایک نے چپکے سے جس کی خبر اُس کے ساتھی کو نہ ہوئی مجھے پوچھا: چچا! مجھے ابوجہل تو دِکھا دو۔ میں نے کہا: میرے بھتیجے! تجھے اس سے کیا کام؟ وہ کہنے لگا: میں نے اللہ سے یہ عہد کیا ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ پاؤں تو میں اسے مار ڈالوں گا یا اس کے سامنے خود مارا جاؤں گا۔ پھر دوسرے نوجوان نے چپکے سے جس کی خبر اس کے ساتھی کو نہ ہوئی مجھ سے ویسے ہی پوچھا۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ کہتے تھے: مجھے کبھی اتنی خوشی نہ ہوتی، اگر میں ان کی جگہ دو مَردوں کے درمیان ہوتا۔ میں نے ان دونوں کو ابوجہل کی طرف اشارہ کرکے بتایا (کہ وہ ہے۔) یہ سنتے ہی وہ دونوں شِکروں کی طرح اُس پر جھپٹے اور اس کو مار ڈالا اور وہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے (معاذؓ اور معوّذؓ)۔