بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim CommunityMuslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmadas of Qadian
Sayings of the Holy Prophetﷺ
16,900+ Ahadith
Showing 10 of 525 hadith
12. Chapter
باب ۱۲
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت محمود بن ربیعؓ نے مجھے بتایا کہ حضرت عتبان بن مالکؓ جو نبی ﷺ کے ان انصاری صحابہ میں سے تھے جو بدر میں شریک ہوئے، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔
احمد نے جو صالح کے بیٹے ہیں ہم سے بیان کیا کہ عنبسہ (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ یونس (بن یزید) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا: پھر اس کے بعد میں نے حصین بن محمد (انصاری) سے حضرت محمود بن ربیعؓ کی اس حدیث کی نسبت پوچھا جو انہوں نے حضرت عتبانؓ بن مالک سے روایت کی۔ اور (حصین بن محمد) قبیلہ بنی سالم کے ایک فرد اور اس کے سرداروں میں سے تھے۔ انہوں نے حضرت محمودؓ کی (اس روایت کی) تصدیق کی۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ حصین بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن شداد بن ہاد لیثی سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت رفاعہ بن رافع انصاریؓ کو دیکھا اور وہ بدری صحابی تھے۔
ابو نعمان (محمد بن فضل) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا کہ نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جو سانپ بھی دیکھ پاتے مار ڈالتے۔
آخر حضرت ابولبابہ بدریؓ نے ان سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے گھروں کے سفید پتلے سانپ مارنے سے منع فرمایا ہے۔ پھر وہ اُن سے رُک گئے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے مجھے خبر دی اور وہ سردارانِ بنی عدی میں سے تھے اور ان کے باپ نبی ﷺ کے ساتھ بدر میں شریک تھے، (انہوں نے کہا:) حضرت عمرؓ نے حضرت قدامہ بن مظعونؓ کو بحرین کا امیر مقرر کیا اور یہ بھی بدر میں شریک ہوئے تھے اور یہ حضرت عبداللہ بن عمر اور (امّ المومنین) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہم کے ماموں تھے۔
عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ (بن اسماء) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے زہری سے روایت کی کہ سالم بن عبداللہ نے انہیں خبر دی، کہا: حضرت رافع بن خدیجؓ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بتایا کہ ان کے دونوں چچوں نے جو بدر میں شریک تھے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھیتوں کو ٹھیکہ پر دینے سے روکا ہے۔ زہری نے سالم سے کہا: آپ تو انہیں ٹھیکے پر دیتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں (ہم تو دیتے ہیں) حضرت رافعؓ نے اپنے اوپر زیادتی کی۔
عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ (بن اسماء) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے زہری سے روایت کی کہ سالم بن عبداللہ نے انہیں خبر دی، کہا: حضرت رافع بن خدیجؓ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بتایا کہ ان کے دونوں چچوں نے جو بدر میں شریک تھے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھیتوں کو ٹھیکہ پر دینے سے روکا ہے۔ زہری نے سالم سے کہا: آپ تو انہیں ٹھیکے پر دیتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں (ہم تو دیتے ہیں) حضرت رافعؓ نے اپنے اوپر زیادتی کی۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک مروَزی) نے ہمیں خبر دی کہ معمر اور یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو خبر دی۔ حضرت مِسوَر بن مخرمہؓ نے ان کو بتایا کہ حضرت عمرو بن عوفؓ نے جو بنو عامر بن لوئی کے حلیف اور نبی ﷺ کے ساتھ بدر میں شریک تھے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو بحرین کی طرف جزیہ لینے کے لئے بھیجا اور رسول اللہ ﷺ نے بحرین والوں سے صلح کی تھی اور ان پر حضرت علاء بن حضرمیؓ کو امیر مقرر کیا تھا۔ چنانچہ حضرت ابوعبیدہؓ بحرین سے مال لے کر آئے اور انصار نے حضرت ابوعبیدہؓ کے آنے سے متعلق سنا اور وہ سب نبی ﷺ کے ساتھ نمازِ فجر پڑھنے کے لئے آگئے جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو وہ آپؐ کے سامنے آ بیٹھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیکھا تو مسکرائے اور فرمایا: میں سمجھتا ہوں تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہؓ کچھ لائے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: خوش ہو اور وہی امید رکھو جو تمہیں خوش کردے۔ اللہ کی قسم! محتاجی نہیں ہے کہ جس کا مجھے تمہارے متعلق اندیشہ ہو مگر میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا کی کشائش تم پر اس طرح ہو جس طرح کہ تم سے پہلوں پر ہوئی اور پھر تم اس کی خواہش ایک دوسرے سے بڑھ کر اسی طرح کرنے لگ جاؤ جس طرح انہوں نے اس کی خواہش کی اور وہ تم کو اسی طرح ہلاک کردے جس طرح ان کو ہلاک کردیا۔
ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن فُلَیح نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ (انہوں نے کہا:) ابن شہاب کہتے تھے: حضرت انس بن مالکؓ نے ہم سے بیان کیا کہ انصار کے کچھ آدمیوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگی، کہنے لگے: ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے بھانجے عباسؓ کو اُن کا فدیہ چھوڑ دیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ایک درہم بھی اُن کو نہ چھوڑنا۔