بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
حسن بن مدرک نے مجھے بتایا۔ یحيٰ بن حماد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر (جعفر بن ابی وحشیہ) سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ سے میں نے کہا: سورۃ الحشر تو انہوں نے کہا: اسے سورۃ النضیر کہو۔ ابوعوانہ کی طرح ہُشَیم نے بھی ابوبشر سے یہی روایت بیان کی۔
عبداللہ بن ابی اسوَد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (سلیمان) سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا۔ وہ کہتے تھے: انصار میں سے بعض لوگ نبی ﷺ کیلئے کھجور کے درخت مخصوص کر دیتے تھے یہاں تک کہ قریظہ اور نضیر مفتوح ہوئے تو اس کے بعد آنحضرتﷺ ہدیہ میں دیئے ہوئے درخت ان لوگوں کو واپس کرنے لگے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلوا دئیے اور کٹوا ڈالے یعنی بُوَیرہ باغ کے۔ اور اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے ہیں یا جنہیں اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا ہے تو یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا۔
اسحاق (بن منصور) نے مجھ سے بیان کیا (کہا:) حبان نے ہمیں خبر دی کہ جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے بنو نضیر کی کھجوروں کے درخت جلوا دئیے۔ کہتے تھے اور انہی کی نسبت حضرت حسان بن ثابتؓ نے یہ شعر کہے: بنو لؤی کے سرداروں کے لئے یہ معمولی بات تھی وہ آگ جو بُوَیرہ میں شعلہ زن ہوئی حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے: ابوسفیان بن حارث (بن عبدالمطلب) نے (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) حسان کو یہ جواب دیا: اللہ اس کارروائی کو ہمیشہ جاری رکھے اور مدینہ کے چاروں طرف آگ بھڑکتی رہے، عنقریب تم جان لوگے کہ ہم میں سے کون اس آگ سے دور رہے گا اور یہ بھی جان لو گے کہ ہمارے ملک میں سے کس علاقہ کو یہ آگ نقصان دے گی۔
ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: مالک بن اوس بن حدثان نصری نے مجھے خبر دی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا (وہ ان کے پاس آگئے) اتنے میں حضرت عمرؓ کے پاس اُن کا دربان یرفأ آیا اور کہنے لگا: کیا آپؓ اجازت دیتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ, حضرت عبدالرحمٰن (بن عوفؓ), حضرت زبیرؓ اور حضرت سعد (بن ابی وقاصؓ) آپؓ سے ملیں؟ یہ لوگ آپؓ سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: ہاں اُن کو اندر لے آؤ۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ پھر وہ آیا اور کہنے لگا: کیا آپؓ چاہتے ہیں کہ حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ آپؓ سے ملیں؟ یہ دونوں اجازت چاہتے ہیں۔ آپؓ نے کہا: ہاں۔ جب یہ دونوں اندر آئے، حضرت عباسؓ نے کہا: امیر المؤمنین! میرے اور علیؓ کے درمیان فیصلہ کر دیں اور اُن دونوں کے درمیان اس مالِ غنیمت سے متعلق اختلاف تھا جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو بنی نضیر سے دلوایا تھا۔ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ نے ایک دوسرے کو سخت سُست کہا تھا۔ اس جماعت نے کہا: امیرالمؤمنین! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیں اور ایک کو دوسرے سے چھٹکارا دلائیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: ذرا ٹھہریں، میں تم کو اُس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں صدقہ ہوتا ہے؟ اس سے آنحضرت ﷺ کی اپنی ذات مراد تھی۔ کہنے لگے: بے شک آپؐ نے یہ فرمایا تھا۔ اس پر حضرت عمرؓ حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا؟ دونوں نے کہا: ہاں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: تب میں تمہیں اس معاملہ کی اصلیت بتاتا ہوں۔ اللہ پاک نے اپنے رسول ﷺ کو اس مالِ غنیمت میں ایک خاص حق دیا تھا جو آپؐ کے سوا کسی اور کو نہیں دیا۔ چنانچہ اللہ جل ذکرہ نے فرمایا ہے: جو مال اللہ نے اپنے رسولؐ کو اُن سے دلوایا ہے اور تم نے اس کے لئے نہ گھوڑے دوڑائے ہیں نہ اونٹ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس کا چاہتا ہے مالک بنا دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، تو یہ مال رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص تھا۔ پھر بخدا آپؐ نے تمہیں چھوڑ کر یہ مال اپنے لئے محفوظ نہیں رکھا اور اسے اپنے لئے خاص نہیں کیا بلکہ تمہیں دیا اور تم پر تقسیم کیا اور اس غنیمت میں سے یہ مال باقی رہا اور اس مال میں سے رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کو اُن کے ایک سال کا خرچ دیا کرتے تھے اور پھر جو باقی رہتا اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ اپنی ساری زندگی میں ایسا ہی کرتے رہے۔ آپؐ فوت ہوگئے تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا قائم مقام ہوں اور حضرت ابوبکرؓ نے یہ مال اپنے قبضہ میں لیا اور انہوں نے اس میں ایسا ہی تصرف کیا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا اور یہ کہہ کر حضرت عمرؓ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: تم دونوں کو یاد ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے اس میں ایسا ہی کیا جیسا کہ تم (بھی) کہتے ہو۔ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اس کارروائی میں سچے اور نیک تھے اور صراط مستقیم پر قائم اور حق کے متبع رہے۔ پھر اللہ نے حضرت ابوبکرؓ کو وفات دی اور میں نے کہا کہ رسول اللہ
زُہری کہتے تھے: میں نے یہ حدیث عروہ بن زبیر سے بیان کی تو انہوں نے کہا: مالک بن اوس نے سچ کہا: میں نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی سنا، وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ کی ازواج نے حضرت عثمانؓ کو حضرت ابوبکرؓ کے پاس بھیجا وہ اس مالِ غنیمت سے جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو عطا کیا تھا اپنے ترکہ کا آٹھواں حصہ مانگتی تھیں مگر میں انکار کرتی تھی، میں نے اُن سے کہا: کیا تم اللہ کے غضب سے نہیں ڈرتیں؟ کیا تم نہیں جانتیں کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے؟ اس سے آپؐ کی مراد اپنی ہی ذات تھی، آلِ محمد ﷺ اس مال میں سے اپنے کھانے کے لئے لیا کریں گے۔ چنانچہ نبی ﷺ کی ازواج اس کو سن کر جو میں نے ان کو بتایا تھا ترکہ کا حصہ مانگنے سے رُک گئیں۔ عروہ کہتے تھے: یہ صدقہ حضرت علیؓ کے ہاتھ میں رہا، حضرت علیؓ نے حضرت عباسؓ کو نہ دیا اور پھر اُن سے زبردستی یہ مال لیا۔ پھر اس کے بعد حضرت حسن بن علیؓ کے ہاتھ رہا۔ پھر حضرت حسین بن علیؓ کے ہاتھ میں، پھر علی بن حسین اور حسن بن حسن کے ہاتھ میں۔ دونوں باری باری اس کا انتظام کرتے رہے۔ پھر زید بن حسن کے ہاتھ میں رہا اور یہ مال رسول اللہ ﷺ کا صحیح طور پر صدقہ رہا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام نے ہمیں خبر دی کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام اور حضرت عباسؓ دونوں اپنا ورثہ مانگنے کے لئے حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے یعنی آنحضرت ﷺ کی وہ زمین جو فدک میں ہے اور آپؐ کا وہ حصہ جو خیبر میں ہے۔
حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارا کوئی وارث نہیں، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہوتا ہے۔ آلِ محمدؐ اس مال سے کھائیں گے۔ اللہ کی قسم! اپنے رشتہ داروں کی نسبت رسول اللہ ﷺ کے رشتہ دار مجھے زیادہ پیارے ہیں کہ میں ان کے ساتھ حسن سلوک کروں۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان )بن عیینہ( نے ہمیں بتایا۔ عمرو )بن دینار( کہتے تھے: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کعب بن اشرف سے کون نپٹے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو سخت اذیت دی ہے۔ محمد بن مسلمہؓ کھڑے ہوگئے، کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا آپؐ چاہتے ہیں کہ میں اسے مار ڈالوں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ کہا: تو پھر آپؐ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی طرف سے اس کے لئے کوئی صورت پیدا کروں۔ آپؐ نے فرمایا: اجازت ہے۔ چنانچہ محمد بن مسلمہؓ اس کے پاس آئے اور کہنے لگے: اس شخص (نبی کریم ﷺ) نے ہم سے صدقہ مانگا ہے اور ہمیں کئی تکلیفوں میں مبتلا کر دیا ہے، میں تمہارے پاس آیا ہوں کہ تم سے ادھار لوں۔ کعب بولا: (ابھی کیا ہے) اور بھی تکلیفیں اٹھاؤ گے، بخدا اُس سے اکتا جاؤ گے۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: چونکہ ہم اس کے ساتھ ہو لئے ہیں اس لئے پسند نہیں کرتے کہ اسے چھوڑ دیں جب تک یہ نہ دیکھ لیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے اور ہم چاہتے ہیں ایک یا دو وسق ے (غلہ یا کھجور) ہمیں ادھار دو۔ اور عمرو (بن دینار) نے یہ روایت کئی بار ہم سے بیان کی اور ایک یا دو وسق کا ذکر نہیں کیا۔ میں نے پوچھا: کیا اس روایت میں ایک یا دو وسق کا ذکر ہے؟ تو کہنے لگے: میں سمجھتا ہوں کہ ایک یا دو وسق کا ذکر ہے۔ کعب نے کہا: اچھا میرے پاس رہن رکھو۔ انہوں نے کہا: تم کیا شئے چاہتے ہو؟ کہنے لگا: اپنی عورتیں تم میرے پاس رہن رکھو۔ انہوں نے کہا: تمہارے پاس اپنی عورتیں کیسے رہن رکھیں حالانکہ تم عربوں میں نہایت خوبصورت ہو۔ کہنے لگا: پھر اپنے بیٹے ہی میرے پاس رہن رکھو۔ انہوں نے کہا: ہم تمہارے پاس اپنے بیٹوں کو کیسے رہن رکھیں انہیں طعنہ دیا جائے گا، کہا جائے گا کہ وہ ایک یا دو وسق کے لئے رہن رکھے گئے تھے، یہ ہمارے لئے عار ہے لیکن تمہارے پاس اپنی زرہیں رہن رکھتے ہیں۔ سفیان کہتے تھے: زرہ سے ان کی مراد ہتھیار تھی چنانچہ محمد بن مسلمہؓ نے کعب سے پھر اُس کے پاس آنے کا وعدہ کیا۔ چنانچہ وہ اس کے پاس رات کو آئے اور ان کے ساتھ ابو نائلہ بھی تھے جو کعب کے دودھ بھائی تھے، اس نے انہیں قلعہ کے اندر بلایا اور وہ ان کے پاس جب (اپنے بالاخانہ سے) نیچے آنے لگا تو اُس کی بیوی اُس سے کہنے لگی: اس وقت تم کہاں جاتے ہو؟ کعب نے کہا: یہ تو محمد بن مسلمہ اور میرے بھائی ابو نائلہ ہیں۔ (سفیان کہتے تھے:) عمرو بن دینار کے سوا اور لوگوں نے اس روایت میں یہ بھی کہا ہے کہ اس کی بیوی کہنے لگی: میں ایسی آواز سنتی ہوں کہ گویا جس سے خون ٹپک رہا ہے۔ کعب بولا: میرے بھائی محمد بن مسلمہ اور دودھ بھائی ابو نائلہ ہیں اور شریف آدمی کو رات کے وقت زخمی ہونے کے لئے بھی بلایا جائے تو وہ ضرور جائے گا۔ کہتے تھے اور محمد بن مسلمہ (قلعہ میں) اپنے ساتھ دو آدمی بھی لے گئے تھے۔ سفیان سے پوچھا گیا: کیا عمرو (بن دینار) نے ان کا نام لیا تھا؟ انہوں نے کہا: ان میں سے کسی کا نام لیا تھا۔ عمرو کہتے تھے: اور وہ اپنے ساتھ دو آدمی لے گئے۔ عمرو (بن دینار) کے علاوہ اوروں نے کہا: ابو عبس بن جبرؓ، حارث بن اوسؓ اور عباد بن بشرؓ کو (اپنے ساتھ لے گئے تھے)۔ عمرو (بن دینار) نے یہی کہا تھا کہ وہ اپنے ساتھ دو آدمی لے گئے تھے۔ محمد بن مسلمہؓ (اپنے ساتھیوں سے) کہنے لگے: جب کعب آئے تو میں اس کے بال پکڑ کر سونگھوں گا، جب تم دیکھو کہ میں نے اس کا سر مضبوطی سے پکڑ لیا ہے تو تم بڑھ کر اس کا کام تمام کر دینا اور کبھی (عمرو بن دینار نے) یوں کہا: پھر تم کو بھی سنگھاؤں گا۔ چنانچہ کعب ان کے پاس آیا، اس نے چادر اوڑھی تھی جو خوشبو سے مہک رہی تھی۔ محمد بن مسلمہؓ کہنے لگے: آج جیسی خوشبو تو میں نے کہیں نہیں پائی یعنی بہت ہی اچھی خوشبو ہے۔ اور عمرو (بن دینار) کے سوا اوروں نے کہا: کعب نے جواب میں کہا: میرے پاس عرب کی عورتوں میں سے وہ عورت بھی ہے جو سب سے زیادہ معطر اور
اسحاق بن نصر نے مجھے بتایا۔ یحيٰ بن آدم نے ہم سے بیان کیا کہ (یحيٰ) ابن ابی زائدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابواسحاق (سبیعی) سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے چند آدمیوں کو ابورافع کی طرف بھیجا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عتیکؓ اس کے گھر میں رات کے وقت گئے جبکہ وہ سویا ہوا تھا اور انہوں نے اسے قتل کردیا۔