بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اور ابن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسریٰ مر جائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں اور جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ؛ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے تم ضرور ان کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔
تو انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے مجھ سے راز کی بات کی تھی تو آپؐ نے مجھے یہ بتایا تھا کہ آپؐ اس بیماری میں اُٹھائے جائیں گے جس میں کہ آپؐ فوت ہوئے۔ یہ سن کر میں رو پڑی۔ پھر آپؐ نے مجھ سے راز کی بات کی اور آپؐ نے مجھے یہ بتایا تھا کہ آپؐ کے گھر والوں میں سے پہلی مَیں ہوں جو آپؐ کے پیچھے جاؤں گی۔ یہ سن کر میں ہنس پڑی۔
قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالملک بن عمیر سے، عبدالملک نے حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے اس حدیث کو آنحضرت ﷺ تک پہنچایا۔ آپؐ نے فرمایا: جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا {اور جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا} اور انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ آپؐ نے فرمایا کہ ان کے خزانے اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کئے جائیں گے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی حسین سے روایت کی کہ نافع بن جبیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب آیا اور کہنے لگا: اگر محمد (ﷺ) اپنے بعد خلافت میرے لئے کردیں تو میں ان کا تابعدار ہوجاتا ہوں اور وہ اپنی قوم کے بہت سے لوگ لے کر مدینہ آیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے اور آپؐ کے ساتھ ثابتؓ بن قیس بن شماس تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔ آکر مسیلمہ کے سامنے کھڑے ہوگئے جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم مجھ سے یہ (لکڑی کا) ٹکڑا بھی مانگو تو میں تم کو یہ بھی نہ دوں اور اللہ نے جو بات تمہارے لئے مقدر کی ہے، اس سے آگے تم ہرگز نہ بڑھ سکو گے اور اگر تم نے پیٹھ موڑی تو اللہ تمہیں ضرور تباہ کر ڈالے گا اور میں تمہیں وہی دیکھتا ہوں جو مجھے تمہارے متعلق دکھلایا گیا۔
اور حضرت ابوہریرہؓ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ اسی اثناء میں مَیں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے اور انہوں نے مجھے فکر میں ڈال دیا۔ پھر خواب ہی میں مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں اور میں نے ان پر پھونکا تو وہ دونوں اُڑ گئے۔ میں نے ان سے دو جھوٹے شخص مراد لئے جو میرے بعد ظاہر ہوں گے۔ ان میں ایک عنسی تھا اور دوسرا مسیلمہ کذاب یمامہ والا۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بُرید بن عبداللہ بن ابی بُردہ سے، بُرید نے اپنے دادا ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰؓ سے، میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی سر زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جس میں کھجور کے درخت ہیں۔ میرا خیال گیا کہ یہ یمامہ یا ہجر ہے۔ مگر اس کی تعبیر مدینہ یثرب تھی اور میں نے اپنے اس خواب میں دیکھا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی ہے تو اس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا ہے۔ تو ٹوٹنے کی تعبیر وہ مومن ہیں جو جنگ اُحد کے دن شہید ہوئے۔ پھر میں نے اس کو دوبارہ ہلایا تو پھر وہ ویسی اچھی ہو گئی جیسی کہ وہ پہلے تھی۔ تو اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا فتح دینا اور مومنوں کا پھر سے اکٹھا ہونا تھا اور میں نے اس خواب میں کچھ گائیں دیکھیں اور اللّٰہُ خَیْرٌ کے الفاظ سنے تو معلوم ہوا کہ گائیوں سے مراد وہ مومن تھے جو جنگ اُحد کے دن شہید ہوئے؛ اور خَیْر سے مراد وہی خیر اور سچائی کا بدلہ تھا جو اللہ نے ہمیں جنگ بدر کے بعد دیا۔
ابو نُعَیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے فراس سے، فراس نے عامر شعبی سے، عامر نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: فاطمہؓ سامنے سے چلی آرہی تھیں۔ ان کی چال ایسی تھی جیسی نبی ﷺ کی چال۔ نبی ﷺ نے (ان کو دیکھ کر) فرمایا: میری بیٹی خوشی سے آنا ہو۔ اس کے بعد آپؐ نے ان کو اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھایا۔ اس کے بعد آپؐ نے ان سے ایک راز کی بات کہی۔ وہ سن کر رو پڑیں۔ میں نے ان سے پوچھا: روتی کیوں ہو؟ پھر اس کے بعد آپؐ نے ان سے ایک اور راز کی بات کہی۔ وہ سن کر ہنس پڑیں۔ میں نے کہا: میں نے کبھی آج کا سا دن نہیں دیکھا کہ آدمی غمگین ہو کر پھر جلدی ہی خوش بھی ہو جائے۔ میں نے فاطمہؓ سے اس بات کے متعلق پوچھا جو آپؐ نے فرمائی۔ وہ کہنے لگیں: میں تو ایسی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے راز کو فاش کروں۔ جب نبی ﷺ اُٹھائے گئے تو میں نے فاطمہؓ سے پوچھا۔
اور انہوں نے کہا: آپؐ نے مجھے یہ راز کی بات بتلائی تھی کہ جبرائیل ہر سال ایک دفعہ قرآن کا دَور مجھ سے کیا کرتے تھے اور اس سال انہوں نے مجھ سے دوبار دَور کیا۔ اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ میرا وقت آن پہنچا ہے اور میرے گھر والوں سے تم پہلے ہو جو مجھ سے ملو گی، یہ سن کر میں رو پڑی۔ پھر آپؐ نے فرمایا: کیا تم یہ پسند نہیں کرتی کہ جنتی عورتوں کی تم سردار بنو یا فرمایا: مومن عورتوں کی سردار بنو۔ یہ سن کر میں ہنس پڑی۔
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ نے اپنی بیٹی فاطمہؓ کو اپنی اس بیماری میں بلایا جس میں آپؐ اُٹھائے گئے اور آپؐ نے ان سے کوئی راز کی بات کی تو وہ رو پڑیں۔ پھر آپؐ نے ان کو بلایا اور ان سے کوئی راز کی بات کی تو وہ ہنس پڑیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں نے فاطمہؓ سے اس کی بابت پوچھا۔
محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباسؓ کو اپنے نزدیک بٹھایا کرتے تھے تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے ان سے کہا: اس جیسے ہمارے بیٹے بھی ہیں۔ تو حضرت عمرؓ نے کہا: وہ جس حیثیت کا ہے تم جانتے ہی ہو۔ حضرت عمرؓ نے حضرت ابن عباسؓ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: جب اللہ کی مدد اور کامل غلبہ آجائے گا۔ تو انہوں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر ہے۔ میں یہی جانتا ہوں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: میں بھی اس آیت سے یہی سمجھتا ہوں جو تم سمجھتے ہو۔