بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو تیاح سے۔ ابو تیاح نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی۔ کہا کہ نبی ﷺ بکریوں کے باڑہ میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر میں نے انہیں بعد میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ مسجد بنوائے جانے سے پہلے آپ بکریوں کے باڑہ میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
(تشریح)Abū al-Tayyāh narrated from Anas [ibn Mālik] (r.a) that the Prophet (sa) would offer Prayer in sheep pens. Subsequently, I later heard him [Anas (r.a)] saying: ‘He used to offer his Prayers in sheep pens before the construction of the Mosque.’
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا: سلیمان بن حیان نے ہمیں بتلایا، کہا: عبید اللہ نے نافع سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت ابن عمر کو اپنے اونٹ کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو بھی ایسا کرتے دیکھا۔
(تشریح)Nāfiʿ narrated that he observed Ibn ʿUmar (r.a) praying facing his camel and Ibn ʿUmar (r.a) said: ‘I saw the Prophet (sa) doing this.’
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا: انہوں نے مالک سے، مالک نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے۔ عطاء نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: سورج گرہن ہوا اور رسول اللہﷺ نے نماز پڑھی۔ پھر فرمایا: مجھے آگ دکھائی گئی۔ میں نے آج جیسا بھیانک نظارہ کبھی نہیں دیکھا۔
(تشریح)ʿAbd Allāh ibn ʿAbbās (r.a) reported: ‘The sun eclipsed, so the Messenger of Allāh (sa) offered Prayer. Then he said: “I was shown the fire and never before have I witnessed a more dreadful sight than what I saw today”.’
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: جی نے عبید اللہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: نافع نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابن عمر سے، حضرت ابن عمر نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: تم اپنے گھروں میں بھی کچھ نمازیں پڑھا کرو اور انہیں قبریں مت بناؤ۔
(تشریح)Ibn ʿUmar (r.a) narrated that the Prophet (sa) said: ‘Offer some of your Prayers in your homes, and do not turn them into graves.’
ہم سے اسماعیل بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: مالک نے عبد اللہ بن دینار سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ عبد اللہ بن دینار نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان سزا یافتوں کے پاس مت جاؤ مگر اس حالت میں کہ تم رو رہے ہو۔ اگر تم روتے نہیں تو ان کے پاس مت جاؤ۔ مبادا تمہیں بھی وہ مصیبت پہنچے جو انہیں پہنچی۔
(تشریح)ʿAbd Allāh ibn ʿUmar (r.a) narrated that the Prophet (sa) said: ‘Do not visit those who were afflicted with punishment unless you are weeping. If you are not weeping, then do not pass by them in case what afflicted them afflicts you.’
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ عبدہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے۔ ہشام نے اپنے باپ سے۔ اُن کے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ حضرت ام سلمہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک گرجے کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ کے ملک میں دیکھا تھا۔ اُسے ماریہ کہتے تھے اور انہوں نے آپ کے پاس اُن تصویروں کا ذکر کیا جو انہوں نے اس میں دیکھی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ ہیں کہ جب ان میں نیک بندہ یا فرمایا نیک آدمی مر جاتا تو وہ اس کی قبر پر عبادت گاہ بنا لیتے اور اس میں یہ تصویریں بناتے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام مخلوق سے بدترین ہیں۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) related that Umm Salamah (r.a) mentioned to the Messenger of Allāh (sa) a church she had seen in the land of Abyssinia, called Māriyah. She told him about the images she had seen in it. The Messenger of Allāh (sa) said: ‘Those are a people who, on the death of a righteous servant [of God] – or a righteous man – among them, construct a place of worship over his grave and place these images within it. They are the most abhorrent of creatures in the sight of Allāh.’
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ عبد اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھ کو خبر دی کہ حضرت عائشہؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباس دونوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ پر مرض الموت نے سخت حملہ کیا تو آپ اپنے منہ پر اپنی چادر ڈالتے اور جب آپ گھبراہٹ محسوس کرتے تو اپنے چہرے سے اس کو ہٹا دیتے اور آپ نے اسی حالت میں فرمایا: یہود اور نصاری پر اللہ کی لعنت۔ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبریں مسجد میں بنا لی ہیں۔ جو انہوں نے کیا اُس سے بچنے کے لئے متنبہ فرماتے تھے۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ عبد اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھ کو خبر دی کہ حضرت عائشہؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباس دونوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ پر مرض الموت نے سخت حملہ کیا تو آپ اپنے منہ پر اپنی چادر ڈالتے اور جب آپ گھبراہٹ محسوس کرتے تو اپنے چہرے سے اس کو ہٹا دیتے اور آپ نے اسی حالت میں فرمایا: یہود اور نصاری پر اللہ کی لعنت۔ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبریں مسجد میں بنا لی ہیں۔ جو انہوں نے کیا اُس سے بچنے کے لئے متنبہ فرماتے تھے۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ ان یہودیوں کو ہلاک کرے۔ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘May Allāh bring ruin upon the Jews. They turned the graves of their Prophets into places of worship.’
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا: بنشیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: سیار نے جو گم کے باپ ہیں ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: یزید فقیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: حضرت جابر بن عبداللہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے پانچ ایسی باتیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ایک مہینہ بھر کی مسافت تک رعب سے میری مدد کی گئی ہے اور تمام زمین میرے لئے سجدہ گاہ اور پاک بنائی گئی ہے۔ اس لئے میری امت میں سے جس شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت آجائے وہیں نماز پڑھ لے اور میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں اور نبی خاص کر اپنی قوم کی طرف ہی بھیجا جاتا تھا اور میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں اور مجھے شفاعت کا اختیار دیا گیا ہے۔
(تشریح)Jābir ibn ʿAbd Allāh (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘I have been granted five distinctions which were not granted to any of the Prophets before me: [1] I have been assisted with awe extending over the distance of a month’s journey. [2] The earth has been made a place of worship and a means of purification for me, so any of my followers, when the time for Prayer arrives, should pray. [3] War spoils have been made lawful for me. [4] Whereas previous Prophets were sent exclusively to their own people, I have been sent to all of mankind. [5] I have been granted the right of intercession.’