بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ابو اسامہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ عرب کے کسی قبیلہ کی ایک لونڈی جو کالی تھی اور جسے انہوں نے آزاد کر دیا ہوا تھا اور وہ اُن کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ کہتی تھی کہ اُن کی ایک لڑکی باہر گئی۔ موتیوں کا ایک سرخ ہار اُس نے پہنا ہوا تھا جو تسموں کا تھا۔ کہتی تھی کہ اُس نے اُسے (کہیں) رکھ دیا یا اس سے گر پڑا اور ایک چیل جو اُس پر سے گزری اور وہ پڑا ہوا تھا اُس نے اسے گوشت خیال کیا اور اسے اُچک کر لے گئی۔ کہتی تھی کہ انہوں نے اُس کو ڈھونڈا لیکن اُسے نہ پایا۔ کہتی تھی کہ انہوں نے مجھ پر اس کا الزام لگایا۔ کہتی تھی کہ اس پر وہ تلاشی لینے لگے یہاں تک کہ انہوں نے اس کی شرم گاہ کی بھی تلاشی لی۔ کہتی تھی کہ اللہ کی قسم کہ میں ابھی اُن کے ساتھ ہی کھڑی تھی کہ اتنے میں وہی چیل گزری اور اس نے وہ (وہاں) پھینک دیا۔ کہتی تھی کہ وہ اُن کے درمیان آگرا۔ کہتی تھی: یہ ہے وہ جس کا تم نے مجھ پر الزام لگایا ہے۔ تم نے یونہی خیال کیا تھا، حالانکہ میں اس سے بری تھی۔ وہ یہ ہے۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں: وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور مسلمان ہوگئی۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں: مسجد میں اُس کا ایک چھوٹا سا آیا کرتی اور باتیں کیا کرتی تھی۔ کہتی تھیں: جب بھی وہ میرے پاس بیٹھتی تو وہ (یہ شعر) ضرور پڑھتی: اور وہ ہار کا دن بھی ہمارے رب کے عجائبات میں سے ہے، دیکھئے تو اُس نے مجھے کفرستان سے نجات دے دی۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ میں نے اُسے کہا کہ یہ کیا بات ہے تو جب بھی میرے پاس بیٹھتی ہے تو یہ شعر ضرور پڑھتی ہے؟ کہتی تھیں کہ تب اُس نے مجھ سے یہ بات بیان کی۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) recounted that a particular Arab tribe had a black female slave whom they emancipated, and she remained in their company. She said: ‘One of their girls, who was wearing a red leather bejewelled necklace went out. She placed it somewhere or it fell off her and a passing kite mistook it for meat and carried it away. They looked for it but could not find it, so they accused me of [taking] it. They began to search me and even searched my private parts. By Allāh! I was still standing with them when the kite flew over and dropped it, and it fell down between them.’ She [ʿĀʾishah (r.a)] relates that she said: ‘This is what you accused me of and you claimed [that I had taken it] whereas I was innocent. Here it is.’ ʿĀʾishah (r.a) relates: ‘She had come to the Messenger of Allāh (sa) and embraced Islām. She had a tent or a room with a low roof in the mosque. She used to come and converse with me. Whenever she sat with me, she would recite [the couplet]: “The day of the necklace is among the wonders of our Lord; surely, He rescued me from the town of disbelief”.’ ʿĀʾishah (r.a) said: ‘I asked her: “What is the matter with you that whenever you sit with me, you always say this”? Then, she narrated this incident.’
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: عبید اللہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ کہا: مجھ سے نافع نے بیان کیا، کہا: حضرت عبد اللہ بن عمر نے مجھے بتایا کہ وہ نبی ﷺ کی مسجد میں سویا کرتے تھے اور وہ نوجوان کنوارہ تھے۔ اُن کی بیوی نہ تھی۔
Nāfiʿ relates that ʿAbd Allāh [ibn ʿUmar] (r.a) informed me that he used to sleep in the Prophet’s Mosque when he was a young, unmarried man.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو حازم سے، ابو حازم نے سہل بن سعد سے روایت کی۔ کہا: رسول اللہ ﷺ حضرت فاطمہ کے گھر آئے تو حضرت علی کو گھر میں نہ پایا۔ آپ نے پوچھا: تمہارے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ حضرت فاطمہ نے کہا: میرے اور اُن کے درمیان کوئی بات ہو گئی تھی تو وہ مجھ سے ناراض ہو کر نکل گئے ہیں۔ میرے ہاں قیلولہ نہیں کیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے کسی آدمی سے کہا: دیکھو وہ کہاں ہیں؟ وہ آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ آئے اور وہ لیٹے ہوئے تھے۔ ان کے پہلو سے ان کی چادر گری ہوئی تھی اور انہیں کچھ مٹی لگ گئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ ان سے مٹی پونچھتے اور فرماتے تھے: اُٹھو ابوتراب، اُٹھو ابوتراب۔
Sahl ibn Saʿd (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) visited the house of Fāṭimah (r.a) but did not find ʿAlī (r.a), so he asked: ‘Where is the son of your uncle?’ She replied: ‘Something has happened between me and him. So he became angry with me and left without having a midday nap in my house.’ The Messenger of Allāh (sa) said to a person: ‘Look for him.’ The person came and said: ‘O Messenger of Allāh! He is sleeping in the mosque.’ The Messenger of Allāh (sa) went there and found him lying down. His sheet had fallen off his side and he was covered in dust (turāb). The Messenger of Allāh (sa) started brushing the dust off him, saying: ‘Rise, O Abū Turāb. Rise, O Abū Turāb.’
ہم سے یوسف بن عیسی نے بیان کیا، کہا: ابن فضیل نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے ابو حازم سے، ابو حازم نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے اصحابِ صفہ میں سے ستر (صحابہ کرام) کو دیکھا۔ اُن میں سے ایک آدمی بھی تو نہیں تھا جس پر چادر ہو، یا تہ بند یا کمبل۔ اپنی گردنوں میں (یہ) باندھے ہوئے ہوتے۔ ان میں سے کوئی کپڑا اتنا تھا کہ آدمی کی پنڈلیوں تک پہنچتا اور کوئی ٹخنوں تک۔ وہ اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھالتے، ناگوار گزرتا کہ کہیں اُن کا تنگ نہ دکھائی دے۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) narrated: ‘I saw 70 people of the people of the Ṣuffah, and not one man among them possessed a complete garment (ridāʾ). They either had a waistcloth (izār) or a garment which they tied around their necks. Some of their coverings reached only to the middle of their calves, whilst others extended to their ankles. Fearing exposure of their private parts, some men held their sheets with their hands.’
ہم سے خلاد بن بیٹی نے بیان کیا، کہا: منکر نے ہم سے بیان کیا، کہا: محارب بن دثار نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا: وہ کہتے تھے، میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ مسجد میں تھے۔ مشعر نے کہا: میرا خیال ہے کہ محارب نے کہا: چاشت کے وقت آپ نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھو۔ آپ کے ذمہ میرا قرض تھا تو آپ نے مجھے وہ ادا کیا اور زیادہ دیا۔
(تشریح)Misʿar said that Muḥārib ibn Dithār reported to us on the authority of Jābir ibn ʿAbd Allāh (r.a): ‘I came to the Prophet (sa) whilst he was in the mosque’ – Misʿar stated: ‘I think that Jābir (r.a) said, “In the morning” – ‘and the Prophet (sa) said: “Offer two rakaʿāt of Prayer.” He owed me some money, so he repaid the debt and even added to it.’
ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عامر بن عبد اللہ بن زبیر سے، انہوں نے عمرو بن سکیم زرقی سے، عمرو نے ابو قتادہ سلمی سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے۔
(تشریح)Abū Qatādah al-Salamī (r.a) narrated that the Prophet (sa) said: ‘When any of you enters the mosque, he should offer two rakaʿāt before he sits down.’
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ملائکہ تم میں سے ایک کے لئے دعا مانگتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ اپنی نماز کی جگہ میں ٹھہرا رہتا ہے جس میں کہ اُس نے نماز پڑھی، بشرطیکہ وہ بے وضو نہ ہو جائے۔ (ملائکہ) کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش، اے اللہ! اس پر رحم کیجیو۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) narrates that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘The angels [remain] praying for any one of you as long as he remains in the place where he has prayed, until he does something that invalidates his ablution, saying: “O Allāh! Forgive him. O Allāh! Have mercy on him”.’
ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے صالح بن کیسان سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا، کہا: نافع نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے انہیں بتلایا کہ مسجد رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی اور اس کی چھت کھجور کی ٹہنیاں تھیں اور اُس کے ستون بھی کھجور کی لکڑیوں کے تھے۔ پھر حضرت ابوبکر نے اس میں کچھ نہیں بڑھایا اور حضرت عمر نے اس میں بڑھایا اور اس کو کچی اینٹوں اور کھجور کی ٹہنیوں سے اپنی بنیاد پر بنایا جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھی اور نئی لکڑیوں کے ستون دوبارہ لگائے۔ پھر حضرت عثمان نے اس کو بدل دیا اور اس میں بہت کچھ اضافہ کیا اور اس کی دیوار کو نقش دار پتھروں اور گیج سے بنایا اور اس کے ستون نقش دار پتھروں سے بنوائے اور اس کی چھت ساگوان کی لکڑی سے۔
(تشریح)ʿAbd Allāh [ibn ʿUmar] (r.a) narrated: ‘The mosque in the era of the Prophet (sa) was built with mud bricks, its roof was made of date-palm branches and its pillars were made of the wood of date-palm trees. Abū Bakr (r.a) did not add anything to it. ʿUmar (r.a) expanded it, building it as it was in the era of the Messenger of Allāh (sa), with mud-bricks and date-palm branches, and replaced its pillars with new wooden ones. Then, ʿUthmān (r.a) made significant changes to it. He built its walls with engraved stone and lime, made its pillars from engraved stone and constructed its roof from teak wood.’
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز بن مختار نے ہم سے بیان کیا، کہا: خالد حذاء نے عکرمہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا (وہ کہتے تھے) کہ حضرت ابن عباس نے مجھے اور اپنے بیٹے علی سے کہا: تم دونوں حضرت ابوسعید کے پاس جاؤ اور اُن کی باتیں سنو۔ اس پر ہم گئے تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک باغ میں ہیں جس کو وہ درست کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی چادر لی اور گوٹھ مار کر بیٹھ گئے پھر ہم سے باتیں کرنے لگے۔ جب مسجد کے بنانے کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا: ہم ایک ایک اینٹ اُٹھاتے تھے اور حضرت عمار دو دو اینٹیں، تو نبی ﷺ نے انہیں دیکھا اور ان سے مٹی جھاڑتے جاتے تھے اور فرماتے تھے: آہ! عمار! اسے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ یہ ان کو جنت کی طرف بلا رہا ہوگا اور وہ اس کو آگ کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ حضرت عمار یہ دعا کیا کرتے تھے کہ میں فتنوں سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔
(تشریح)ʿIkrimah (r.a) narrated: ‘Ibn ʿAbbās (r.a) said to me and his son ʿAlī: “Go to Abū Saʿīd [al-Khudrī] (r.a) and listen to what he has to say.” We went and he was in a garden, tending to it. He draped his cloak and sat on his heels, then began speaking to us. Eventually, he reached the topic of the construction of the mosque and said: “We were carrying one brick at a time and ʿAmmār (r.a) was carrying two. The Prophet (sa) saw him and brushed the dust off him, saying: ‘How unfortunate is ʿAmmār! The rebellious faction will kill him. He calls them to Paradise, but they will call him to Hellfire’.”’ ʿAmmār (r.a) used to supplicate: ‘I seek refuge with Allāh from trials.’
ہم سے قتیبہ (بن سعید) نے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو حازم سے، ابو حازم نے حضرت سہل سے روایت کی۔ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کو کہلا بھیجا کہ تم اپنے لڑکے بڑھئی کو کہہ دو کہ وہ میرے لئے لکڑیاں جوڑ کر منبر بنا دے جن کے اوپر میں بیٹھا کروں۔
Sahl narrated that the Messenger of Allāh (sa) sent word to a woman: ‘Instruct your carpenter-slave to construct a wooden pulpit for me on which I may sit.’