بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوذرؓ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں مکہ میں ہی تھا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی اور جبرائیل اُترے اور انہوں نے میرے سینے کو کھولا۔ پھر اسے آب زمزم سے دھویا۔ پھر وہ ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا اور اس کو میرے سینہ میں انڈیل دیا۔ پھر اسے بند کردیا پھر میرا ہاتھ لیا اور سب سے ورلے آسمان کی طرف مجھے اٹھا کر لے گئے جب میں ورلے آسمان پر پہنچا تو جبرائیلؑ نے آسمان کے محافظ سے کہا: کھولو۔ تو اس نے پوچھا: کون ہے؟ کہا: جبرائیلؑ۔ اس نے کہا: کیا تمہارے ساتھ کوئی ہے؟ کہا: ہاں میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں تو اس نے کہا: کیا ان کو بلوا بھیجا ہے؟ کہا: ہاں۔ پس جب اس نے کھولا تو ہم ورلے آسمان کے اوپر گئے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اس کے دائیں طرف بھی بہت سے آدمی ہیں اور بائیں طرف بھی بہت سے آدمی ہیں۔ جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتا تو ہنستا اور جب اپنے بائیں طرف دیکھتا تو روتا۔ اس نے کہا: اس نیک نبی اور اس نیک بیٹے کا آنا خوشی سے ہو۔ جبرائیلؑ سے میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ آدمؑ ہیں اور یہ لوگ جو اس کے دائیں اور بائیں طرف ہیں یہ اس کی اولاد کی روحیں ہیں۔ ان میں سے دائیں طرف والے جنتی ہیں اور وہ لوگ جو اِن کی بائیں طرف ہیں دوزخی ہیں۔ جب وہ دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں اور جب وہ بائیں طرف دیکھتے ہیں تو روتے ہیں۔ اسی اثناء میں وہ مجھے دوسرے آسمان پر لے گئے اور اس کے محافظ سے کہا: کھولو۔ اور اس کے محافظ نے بھی اُن سے اسی طرح کہا جس طرح کہ پہلے نے کہا تھا۔ تب اس نے کھول دیا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے کہ (حضرت ابوذرؓ نے) ذکر کیا کہ آپؐ نے آسمانوں میں حضرت آدمؑ، حضرت ادریسؑ، حضرت موسٰیؑ، حضرت عیسٰیؑ اور حضرت ابراہیم علیہم الصلوٰۃ کو پایا۔ اور انہوں نے معین طور پر بیان نہیں کیا کہ ان کے مقامات کیسے تھے۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے یہ ذکر کیا کہ آپؐ نے حضرت آدمؑ کو سب سے نچلے آسمان میں اور حضرت ابراہیمؑ کو چھٹے آسمان میں پایا۔ حضرت انسؓ نے کہا کہ جب جبرائیلؑ نبی ﷺ کو حضرت ادریسؑ کے پاس سے لے کر گزرے تو انہوں نے کہا: خوشی سے آئیں یہ نیک نبی اور نیک بھائی۔ تو میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ جبرائیلؑ نے کہا: یہ ادریسؑ ہیں۔ پھر میں حضرت موسٰیؑ کے پاس سے گزرا۔ اور انہوں نے کہا کہ خوشی سے آئیں یہ نیک نبی اور نیک بھائی۔ میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: موسٰیؑ ہیں۔ پھر میں حضرت عیسٰیؑ کے پاس سے گزرا اور انہوں نے کہا: خوشی سے آئیں یہ نیک بھائی اور نیک نبی۔ میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: عیسٰیؑ ہیں۔ پھر میں حضرت ابراہیمؑ کے پاس سے گزرا۔ انہوں نے کہا: خوشی سے آئیں یہ نیک نبی اور نیک بیٹا۔ میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: ابراہیم ﷺ ہیں۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے ابن حزم نے بتلایا کہ حضرت ابن عباسؓ اور حضرت ابو حبّہ انصاریؓ کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: پھر مجھے اوپر لے گئے۔ اور آخر میں ایک بلند ہموار جگہ پر چڑھا جہاں میں قلموں کے لکھنے کی آواز سنتا تھا۔ ابن حزم اور حضرت انس بن مالکؓ کہتے تھے کہ نبی
Anas ibn Mālik (r.a) reported that Abū Dharr (r.a) used to narrate that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘While I was at Makkah, the roof of my house was opened and Gabriel (as) descended. He opened my chest and washed it with the water of Zamzam. Then he brought a golden basin filled with wisdom and faith and poured it into my chest and then closed it. Then, he took me by the hand and took me up to the lowest heaven. When I reached the lowest heaven, Gabriel (as) said to its gatekeeper: “Open.” The gatekeeper asked: “Who is it?” He replied: “This is Gabriel (as).” He [the gatekeeper] asked: “Is anyone with you?” He [Gabriel (as)] replied: “Yes, Muḥammad is with me.” Then he said: “Has he been summoned?” Gabriel said “Yes.” Then, when he opened [the gate], we ascended to the lowest heaven and saw a man sitting there with many people sitting to his right and left. When he looked to his right, he laughed, and when he looked to his left, he cried. He said: “Welcome, O pious Prophet and pious son.” I asked Gabriel: “Who is this?” He replied: “This is Adam (as) and these people to his right and to his left are the souls of his progeny. The people on the right are of the people of Heaven, and the people on the left are of the people of Hell, so when he looks to his right, he laughs, and when he looks to his left, he cries.” Then he ascended with me to the second heaven and said to its gatekeeper: “Open.” Its gatekeeper repeated to him what the first had said, and it was opened.’ Anas (r.a) said that he [the Prophet (sa)] had mentioned that he had found Adam, Idrīs, Moses, Jesus and Abraham (r.a) in the heavens. He did not specify their locations, but he mentioned that he found Adam (as) in the lowest heaven and Abraham (as) in the sixth heaven. Anas (r.a) adds that when Gabriel (as) took the Prophet (sa) to Idrīs (as), the latter said: ‘Welcome, O pious Prophet and pious brother.’ Anas further narrates that the Prophet (sa) stated: ‘So, I asked: “Who is this?” He [Gabriel (as)] said: “This is Idrīs (as).” Then I passed by Moses (as) and he said: “Welcome, O pious Prophet (sa) and pious brother.” I asked: “Who is this?” He replied: “This is Moses.” Then, I passed by Jesus (as) and he said: “Welcome, O pious brother and pious Prophet (as).” I asked: “Who is this?” He replied: “This is Jesus (as).” Then, I passed by Abraham (r.a) and he said: “Welcome, O pious Prophet (sa) and pious son.” I asked: “Who is this?” He replied: “This is Abraham (r.a)”.’ Ibn Shihāb said: ‘Ibn Ḥazm informed me that Ibn ʿAbbās (r.a) and Abū Ḥabbah al-Anṣārī (r.a) used to narrate that the Prophet (sa) said: “Then he [Gabriel (as)] ascended with me until I reached a flatland where I could hear the sound of pens [writing]”.’ Ibn Ḥazm and Anas ibn Mālik (r.a) related that the Prophet (sa) said: ‘Then Allāh made 50 Prayers compulsory for my nation. So, I returned with that [command] and passed by Moses, and he asked: “What has Allāh made compulsory for you [and] your nation?” I replied: “He has made 50 Prayers compulsory.” He said: “Return to your Lord, as surely your nation will not have the power for this.” So, I returned and He reduced it by half. Then, I went back to Moses (as) and said: “He has reduced it by half.” He said: “Return to your Lord, as surely your nation will not have the power for this.” So, I returned and He halved it [again]. I went back to him [Moses (as)], and he said: “Return to your Lord, as surely your nation will not have the power for this.” So, I returned, and He said: “These are five [Prayers] and they are [the equivalent of] 50. My word cannot be changed.” So, I returned to Moses (as), and he said: “Return to your Lord.” But I said: “I feel shy of my Lord.” Then, he [Gabriel (as)] led me on until I was taken to the sidrat al-muntahá, and it was covered in colours which I did not recognise. Then, I was admitted into Heaven, and inside were necklaces of pearls, and its mud was made of musk.’
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے صالح بن کیسان سے۔ صالح نے عروہ بن زبیر سے۔ عروہ نے حضرت عائشہ ام المؤمنین سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے نماز جب مقرر کی تو دو دو رکعتیں حضر اور سفر میں مقرر کی تھیں پھر سفر کی نماز برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز بڑھائی گئی۔
(تشریح)The Mother of the Believers, ʿĀʾishah (r.a), narrated: ‘When Allāh made the Prayer obligatory, He prescribed two rakaʿāt for each occasion, at home as well as on a journey. Then, the Prayer on a journey was kept the same, and the Prayer at home was lengthened.’
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: یزید بن ابراہیم نے ہمیں بتلایا۔ یزید نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ام عطیہ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم حیض والیوں کو عیدوں کے روز نکالا کریں اور پردے والیوں کو بھی تاکہ وہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کی دعا میں شریک ہوں، اور حیض والیاں اپنی نماز گاہ سے الگ رہتیں۔ ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی ایک کے پاس جلباب نہ ہو تو کیا کرے؟ فرمایا: اس کی ساتھن اسے اپنے جلباب کا ایک حصہ اوڑھائے۔ اور عبداللہ بن رجاء نے کہا: عمران نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن سیرین نے ہمیں بتلایا کہ حضرت ام عطیہ نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے یہ سنا تھا۔
(تشریح)Umm ʿAṭiyyah (r.a) narrated: ‘We were ordered to bring out the menstruating women on the ʿĪd [Eid] days, and those who stayed hidden behind their veils, so that they may witness the congregation of the Muslims and their Prayers and that the menstruating women should keep apart from the place of Prayer. A woman said: “O Messenger of Allāh, what if one of us does not have a gown?” He replied: “Her companion should cover her with her own gown”.’ ʿAbd Allāh ibn Rajāʾ said that ʿImrān said to him that Muḥammad ibn Sīrīn said to him that Umm ʿAṭiyyah (r.a) said to him: ‘I heard this from the Prophet (sa).’
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا: عاصم ابن محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: واقد بن محمد نے مجھے بتلایا کہ محمد بن منکدر سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت جابر نے تہ بند میں نماز پڑھی جس کو انہوں نے اپنی گدی پر گرہ دی ہوئی تھی اور ان کے کپڑے کھونٹی پر دھرے ہوئے تھے۔ کسی کہنے والے نے ان سے کہا: کیا آپ صرف ایک تہ بند میں ہی نماز پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے تو اسی لئے یہ کیا تھا کہ تجھ جیسا احمق مجھے دیکھے اور نبی کے زمانہ میں ہم میں سے کس کے پاس دو کپڑے ہوتے؟
Muḥammad ibn al-Munkadir narrated that Jābir prayed in an izār tied at his shoulder, and that his clothes were placed on a clothes rack. Someone asked him: ‘Do you pray in only one single izār?’ He replied: ‘I have done this so that a fool such as yourself should see me! Besides, which of us had two items of clothing at the time of the Prophet?’
ہم سے مطرف ابومصعب نے بیان کیا، کہا: عبد الرحمن بن ابوالموالی نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے محمد بن منکدر سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ کو ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا اور حضرت جابر نے کہا: میں نے نبی صلى الله علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا۔
(تشریح)Muḥammad ibn al-Munkadir narrated: ‘I saw Jābir ibn ʿAbd Allāh praying in one garment and he said: “I saw the Prophet (sa) praying in one garment”.’
ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا: ہشام بن عروہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ ہے، اُن کے باپ نے حضرت عمر بن ابو سلمہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ایک ہی کپڑے میں نماز ادا کی۔ آپ نے دونوں کناروں کو مخالف سمت سے لا کر ڈالا ہوا تھا۔
ʿUmar ibn Abī Salamah (r.a) narrated that the Prophet (sa) prayed in one single garment and crossed its two ends.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا۔ کہا: بیٹی نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ہشام نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے حضرت عمر بن ابی سلمہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ حضرت ام سلمہ کے گھر میں ایک ہی کپڑا اوڑھے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں۔ اور آپ نے اس کے دونوں کناروں کو اپنے کندھے کے اوپر ڈالا ہوا تھا۔
ʿUmar ibn Abī Salamah (r.a) narrated that he saw the Prophet (sa) praying in the house of Umm Salamah (r.a) in a single garment, having thrown its two ends over his shoulders.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ابو اسامہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن ابو سلمہ نے انہیں بتایا۔ کہا: میں نے رسول اللہﷺ کو حضرت ام سلمہ کے گھر میں ایک ہی کپڑا پہنے نماز پڑھتے دیکھا۔ آپ اس میں لیٹے ہوئے تھے اس کے دونوں کنارے اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے۔
ʿUmar ibn Abī Salamah (r.a) narrated that he saw the Messenger of Allāh (sa) praying in the house of Umm Salamah (r.a) wrapped in a single garment, having put its two ends over his shoulders.
ہم سے اسماعیل بن ابی اولیس نے بیان کیا۔ کہا: مالک بن انس نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے عمر بن عبد اللہ کے آزاد کردہ غلام ابو نضر سے روایت کی کہ ابو طالب کی بیٹی حضرت اُم ہانی کے آزاد کردہ غلام ابو مُرہ نے ان کو بتلایا کہ انہوں نے ابو طالب کی بیٹی حضرت ام ہانی سے سنا۔ کہتی تھیں کہ جس سال مکہ فتح ہوا میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی تو معلوم ہوا کہ آپ نہار ہے ہیں اور حضرت فاطمہ آپ کی بیٹی آپ کو پردہ کئے ہوئے تھیں۔ کہا کہ میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میں ابو طالب کی بیٹی ام ہانی ہوں۔ آپ نے فرمایا: خوشی سے آئیں ام ہانی۔ جب آپ اپنے غسل سے فارغ ہوئے تو آپ کھڑے ہو گئے اور آٹھ رکعت نماز ایک ہی کپڑے میں لیٹے ہوئے ادا کی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ میری ماں کا بیا (علی) کہتا ہے کہ وہ فلاں شخص کو جو کہ ہبیرہ کا بیٹا ہے قتل کر دے گا اور میں نے اُسے پناہ دی ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ام ہانی! جس کو تو نے پناہ دی ہم نے بھی اس کو پناہ دی۔ حضرت ام ہانی نے کہا: اور یہ چاشت کا وقت تھا۔
The daughter of Abū Ṭālib, Umm Hāniʾ (r.a) said: ‘During the year of the conquest of Makkah, I visited the Messenger of Allāh and I found him bathing, while Fāṭimah, his daughter, was covering him. Upon greeting him, he enquired: “Who is it?” I said: “It is Umm Hāniʾ (r.a), daughter of Abū Ṭālib.” He said: “Welcome Umm Hāniʾ (r.a).” After completing his bath, he stood up and prayed eight rakaʿāt, covered in a single piece of cloth. Once he had finished, I said: “O Messenger of Allāh, the son of my mother [ʿAlī (r.a)] is intent on killing a man to whom I have granted refuge, and he is so and so, son of Hubairah.” The Messenger of Allāh (sa) said: “We have granted protection to whomsoever you grant protection, O Umm Hāniʾ (r.a)”.’ Umm Hāniʾ (r.a) said this ocurred before noon (ḍuḥá).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ کسی پوچھنے والے نے رسول اللہ ﷺ سے ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو دو کپڑے ہیں؟
(تشریح)Abū Hurairah narrated that a man asked the Messenger of Allāh (sa) about praying in one single garment, and the Messenger of Allāh (sa) said: ‘Do all of you even possess two garments?’